کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بیٹی، بہن اور دادا کے مسئلے اور متعدّد بہنوں، بیٹے اور دادا اور بیٹی کے مسئلے کے بیان میں
حدیث نمبر: 33360
٣٣٣٦٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن عبد اللَّه أنه قال في ابنة وأخت وجد: أعطى الابنة النصف، وجعل ما بقي بين الجد والأخت له نصف، ولها نصف (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے بیٹی، بہن اور دادا کے مسئلے کے بارے میں فرمایا کہ بیٹی کو آدھا مال دیا جائے، اور باقی مال دادا اور بہن کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کردیا جائے۔ اور آپ سے بیٹی ، دو بہنوں اور دادا کے مسئلے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے آدھا مال بیٹی کو اور باقی مال دادا اور دو بہنوں کے درمیان نصف نصف تقسیم کیے جانے کا فیصلہ فرمایا، اور ایک موقع پر آپ سے بیٹی، تین بہنوں اور دادا کے مسئلے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے بیٹی کو آدھا مال اور دادا کو بقیہ مال کے دو پانچویں حصّے اور ہر بہن کو پانچواں حصّہ دینے کا فیصلہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 33361
٣٣٣٦١ - وسئل عن ابنة وأختين وجد، فأعطى البنت النصف، وجعل ما بقي بين الجد والأختين له نصف ولهما نصف، وسئل عن ابنة وثلاثة أخوات وجد، فأعطى البنت النصف، وجعل للجد خمسي ما بقي وأعطى الأخوات خمسا خمسًا (١).
حدیث نمبر: 33362
٣٣٣٦٢ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن عبيدة في ابنة وأخت وجد، قال: هي من أربعة: سهمان للبنت، وسهم للجد، وسهم للأخت، قلت له: فإن كانتا أختين؟ قال: جعلها عبيدة من أربعة: للبنت سهمان، وسهم للجد، وللأختين سهم، (قلت له: فإن كنَّ ثلاث أخوات) (١) قال: جعلها مسروق من عشرة: للبنت خمسة أسهم، وللجد سهمان، ولكل واحدة منهن سهم سهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے کہ حضرت عَبِیدہ نے بیٹی، بہن اور دادا کے مسئلے کے بارے میں فرمایا کہ یہ چار حصّوں سے نکلے گا، دو حصّے بیٹی کے لئے، ایک حصّہ دادا کے لئے اور ایک حصّہ بہن کے لئے، راوی فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے عرض کیا کہ اگر ایک بہن کی بجائے دو بہنیں ہوں ؟ فرمایا کہ اس کو بھی حضرت عَبِیدہ نے چار حصّوں سے نکالا ہے، بیٹی کے لئے دو حصّے ، دادا کے لئے ایک حصّہ اور دونوں بہنوں کے لئے ایک حصّہ، راوی کہتے ہیں میں نے ابراہیم سے عرض کیا کہ اگر بہنیں تین ہوں ؟ تو فرمایا کہ اس مسئلے کو حضرت مسروق نے دس حصّوں سے نکالا ہے، بیٹی کے لئے پانچ حصّے ، دادا کے لئے دو حصّے اور ہر بیٹی کے لئے ایک حصّہ۔
حدیث نمبر: 33363
٣٣٣٦٣ - (١) حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم عن مسروق في بنت وثلاث أخوات وجد قال: من عشرة للبنت النصف خمسة (٢)، وللجد سهمان، ولكل أخت سهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم ایک دوسری سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت مسروق نے بیٹی، تین بہنوں اور دادا کے مسئلے کے بارے میں فرمایا کہ یہ مسئلہ دس حصّوں سے نکلے گا، پانچ حصّے یعنی آدھا مال بیٹی کے لئے ، دادا کے لئے دو حصّے اور ہر بہن کے لئے ایک حصّہ۔
حدیث نمبر: 33364
٣٣٣٦٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن عبيدة في ابنة وأخت وجد قال: من أربعة: سهمان (للبنت) (١) النصف، وسهم للجد، وسهم للأخت.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم حضرت عَبِیدہ سے بیٹی ، بہن اور دادا کے مسئلہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ یہ چار حصّوں سے نکلے گا، دو حصّے یعنی نصف مال بیٹی کے لئے اور ایک حصّہ دادا کے لئے اور ایک حصّہ بہن کے لئے۔
حدیث نمبر: 33365
٣٣٣٦٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن مسروق في ابنة وأختين وجد، قال: من ثمانية أسهم: (للابنة) (١) النصف أربعة، وللجد سهمان، ولكل أخت سهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم حضرت مسروق سے بیٹی ، دو بہنوں اور دادا کے مسئلے کے بارے میں روایت کرتے ہیں فرمایا کہ یہ مسئلہ آٹھ حصّوں سے نکلے گا، بیٹی کے لئے نصف مال یعنی چار حصّے اور دادا کے لئے دو حصّے اور ہر بہن کے لئے ایک حصّہ ہے۔
حدیث نمبر: 33366
٣٣٣٦٦ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في رجل ترك ابنته وأخته لأبيه وأمه وجدا، فلابنته النصف ولجده السدس وما بقي فلأخته في قول علي، لم يكن يزيد الجدَ مع الولد على السدس شيئًا، وفي قول عبد اللَّه لابنته النصف، وما بقي فبين الأخت والجد، فإن كانتا أختان فما بقي بين (الأختين والجد) (١) في قول عبد اللَّه وزيد، وفي قول علي: للجد السدس ولأختيه ما بقي، كان كن ثلاث أخوات مع الابنة والجد فللابنة النصف وللجد خمسا ما بقي، وللأخوات ثلاثة أخماس في قول عبد اللَّه وزيد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
فضیل ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ جو آدمی اپنی بیٹی، حقیقی بہن اور دادا کو چھوڑ جائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول میں اس کی بیٹی کو آدھا مال، اس کے دادا کو چھٹا حصّہ اور بقیہ اس کی بہن کو دیا جائے گا، اور آپ دادا کو اولاد کے ہوتے ہوئے چھٹے حصّے سے زیادہ نہیں دلاتے تھے، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق اس کی بیٹی کو آدھا مال دیا جائے گا، اور بقیہ مال بہن اور دادا کے درمیان تقسیم کردیا جائے گا، اور اگر ( ایک کی بجائے) دو بہنیں ہوں تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق بقیہ مال بہنوں اور دادا کے درمیان تقسیم کیا جائے گا، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق دادا کے لئے مال کا چھٹا حصّہ اور اس کی دونوں بہنوں کے لئے بقیہ مال ہے۔ اور اگر بہنیں تین ہوں اور بیٹی اور دادا ہوں تو بیٹی کو آدھا مال دیا جائے گا، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق دادا کے لئے بقیہ مال کے د و پانچویں حصّے ( ٥/٢) ہوں گے اور بہنوں کے لئے بقیہ تین پانچویں حصّے ہوں گے، حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق دس حصّوں سے نکلے گا ، پانچ حصّے بیٹی کے لئے، دو حصّے دادا کے لئے اور بہنوں کے لئے ایک ایک حصّہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 33367
٣٣٣٦٧ - قال أبو بكر: فهذه في قول علي من ستة أسهم، وفي قول عبد اللَّه وزيد من عشرة أسهم: خمسة للبنت، وسهمان للجد وللأخوات سهم سهم.
حدیث نمبر: 33368
٣٣٣٦٨ - حدثنا وكيع عن (فطر) (١) قال: قلت للشعبي: كيف قول علي في ابنة وأخت وجد؟ قال: من أربعة، قال: قلت: إنما هذه في قول عبد اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
فطر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے عرض کیا کہ یہی بات حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قول میں بھی ہے۔