کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: شوہر، ماں، بہن اور دادا کے مسئلے کے بیان میں، اس مسئلے کو ’’ اکدریّہ‘‘ کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 33350
٣٣٣٥٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن عبد الواحد عن إسماعيل بن رجاء عن إبراهيم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ماں، حقیقی بہن اور دادا کے مسئلے کے بارے میں فرمایا کہ ان کا مسئلہ نو حصّوں سے نکلے گا، تین حصّے ماں کے لئے، چار حصّے دادا کے لئے، اور دو حصّے بہن کے لئے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نصف مال بہن کے لئے یعنی کل مال کے تین حصّے، اور ماں کے لئے دو حصّے یعنی ایک تہائی مال، اور باقی مال یعنی ایک حصّہ دادا کے لئے ہوگا، اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بہن کے لئے نصف مال یعنی تین حصّے، اور ماں کے لئے چھٹا حصّہ یعنی ایک حصّہ ، اور باقی مال داد ا کے لئے یعنی دو حصّے ہوں گے، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مال کو تین حصّوں میں تقسیم کیا جائے گا، ایک تہائی ماں کے لئے، ایک تہائی بہن کے لئے اور ایک تہائی دادا کے لئے، اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ایک تہائی مال ماں کے لئے اور باقی مال دادا کے لئے ہوگا۔ حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ شعبی نے فرمایا کہ حجّاج بن یوسف نے مجھ سے اس مسئلہ کے بارے میں سوال کیا تو میں نے اس کو ان حضرات کے اقوال بتلا دیے، اس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول بہت اچھا لگا، پوچھنے لگا کہ یہ کس کا قول ہے ؟ میں نے کہا : حضرت ابو تراب رضی اللہ عنہ کا، اس پر حجّاج سنبھلا اور کہنے لگا کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر عیب نہیں لگاتے، ہم تو ان کی فلاں فلاں بات کو معیوب سمجھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 33351
٣٣٣٥١ - وعن سفيان عمن سمع الشعبي قال في أم وأخت لأب وأم وجد: أن زيد بن ثابت قال: من تسعة أسهم: للأم ثلاثة، وللجد أربعة، وللأخت سهمان، وأن عليًا قال: للأخت النصف ثلاثة، وللأم الثلث سهمان، وما بقي فللجد وهو سهم، وقال ابن مسعود: للأخت النصف ثلاثة، وللأم السدس سهم، وما بقي فللجد وهو سهمان، وقال عثمان: أثلاثًا: ثلث للأم، وثلث للأخت، وثلث للجد، وقال ابن عباس: للأم الثلث، وما بقي فللجد (١).
حدیث نمبر: 33352
٣٣٣٥٢ - قال وكيع: وقال الشعبي: سألني الحجاج بن يوسف عنها فأخبرته بأقاويلهم فأعجبه قول علي، فقال: قول من هذا؟ (فقلت) (١): قول أبي تراب، (ففطن) (٢) الحجاج فقال: إنا لم نعب على (علي) (٣) قضاءه، إنما عبنا كذا وكذا (٤).
حدیث نمبر: 33353
٣٣٣٥٣ - حدثنا (ابن) (١) فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في امرأة تركت أختها لأبيها وأمها وجدها وأمها، فلأختها لأبيها وأمها النصف، ولأمها ⦗٣٠٥⦘ الثلث، وللجد السدس في قول علي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس عورت کے بارے میں جو اپنی حقیقی بہن، اور دادا اور ماں کو چھوڑ جائے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق اس کی حقیقی بہن کے لیے آدھا مال اور اس کی ماں کے لئے ایک تہائی مال اور اس کے دادا کے لئے مال کا چھٹا حصّہ ہے۔ اور حضرت عبد اللہ فرماتے تھے کہ ماں کے لئے چھٹا حصّہ ، دادا کے لئے ایک تہائی مال اور بہن کے لئے آدھا مال ہوگا، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس حال میں نہیں دیکھیں گے کہ میں ماں کو اس مسئلے میں یا اس کے علاوہ کسی مسئلے میں دادا پر ترجیح دوں۔ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ ماں کو ایک تہائی مال دیتے تھے اور بہن کو بقیہ مال کا ایک تہائی دیتے تھے، اس مسئلے میں حضرت زید رضی اللہ عنہ مال کو نو حصّوں پر تقسیم کرتے تھے، ماں کے لئے ایک تہائی مال یعنی تین حصّے، بہن کے لئے بقیہ مال کا ایک تہائی یعنی دو حصے ، اور دادا کے لئے چار حصّے۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مال کو ورثاء کے درمیان تین حصّوں میں تقسیم کرتے، ماں کے لئے ایک تہائی مال ، بہن کے لیے ایک تہائی اور دادا کے لئے بھی ایک تہائی۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ دادا باپ کے درجے میں ہے۔
حدیث نمبر: 33354
٣٣٣٥٤ - وكان عبد اللَّه يقول: للأم السدس وللجد الثلث وللأخت النصف، وكان عبد اللَّه يقول: لم يكن اللَّه (ليراني) (١) (أفضل) (٢) أما على جد في هذه الفريضة ولا في غيرها من الحدود (٣).
حدیث نمبر: 33355
٣٣٣٥٥ - وكان زيد يعطي الأم الثلث والأخت ثلث ما بقي قسمها زيد على تسعة أسهم: للأم الثلث ثلاثة أسهم، وللأخت ثلث ما بقي سهمان، وللجد أربعة أسهم، وكان عثمان يجعلها بينهم أثلاثا: للأم الثلث، وللأخت الثلث، وللجد الثلث (١).
حدیث نمبر: 33356
٣٣٣٥٦ - وكان ابن عباس يقول: الجد بمنزلة الأب (١).
حدیث نمبر: 33357
٣٣٣٥٧ - حدثنا ابن إدريس عن أبيه عن عمرو بن مرة قال: كان عبد اللَّه (يقول) (١) في أخت وأم وجد: للأخت النصف، والنصف الباقي بين الجد والأم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن مرّہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بہن، ماں اور دادا کے مسئلے کے بارے میں فرماتے تھے کہ بہن کے لئے آدھا مال ہے اور بقیہ آدھا مال دادا اور ماں کے درمیان تقسیم ہوگا۔
حدیث نمبر: 33358
٣٣٣٥٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم عن عمر في أخت وأم وجد قال: للأخت النصف، وللأم السدس، وما بقي فللجد (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہن، ماں اور دادا کے مسئلے کے بارے میں فرماتے تھے کہ بہن کو آدھا مال ، ماں کو چھٹا حصّہ اور دادا کو بقیہ مال دیا جائے گا، حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قو ل میں چھ حصّوں سے اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قول میں نو حصّوں سے نکلے گا۔
حدیث نمبر: 33359
٣٣٣٥٩ - قال أبو بكر: فهذه في قول علي وعبد اللَّه من ستة أسهم، وفي قول زيد بن ثابت من تسعة أسهم.