کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو اپنے دادا اور ماں شریک بھائی کو چھوڑ جائے
حدیث نمبر: 33344
٣٣٣٤٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: كان عبد اللَّه يجعل الأكدرية من ثمانية: للزوج ثلاثة، وثلاثة للأخت، وسهم للأم، وسهم للجد، قال: وكان علي يجعلها من تسعة: ثلاثة للزوج، وثلاثة للأخت، وسهمان للأم، وسهم للجد، وكان زيد يجعلها من تسعة: ثلاثة للزوج وثلاثة للأخت، وسهمان للأم وسهم للجد، ثم يضربها في ثلاثة، فتصير سبعة وعشرين، فيعطي الزوج تسعة والأم ستة، (ويبقى) (١) (اثنا) (٢) عشر فيعطي الجد ثمانية ويعطي الأخت أربعة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ ” اکدریّہ “ کے مسئلے کو آٹھ حصّوں سے نکالا کرتے تھے ، تین حصّے شوہر کے لئے، اور تین حصّے بہن کے لئے، اور ایک حصّہ ماں کے لئے اور ایک حصّہ دادا کے لئے، فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس مسئلے کو نو حصّوں سے نکالتے تھے، تین حصّے شوہر کے لئے، اور تین حصّے بہن کے لئے، اور دو حصّے ماں کے لئے ، اور ایک حصّہ دادا کے لئے، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ بھی اس مسئلے کو نو حصّوں سے نکالتے تھے : تین حصّے شوہر کے لئے، تین حصّے بہن کے لئے، اور دو حصّے ماں کے لئے، اور ایک حصّہ دادا کے لئے، پھر وہ اس کو تین میں ضرب دیتے، اس طرح کل ٢٧ حصّے ہوجاتے ہیں، اس طرح شوہر کو نو حصّے، ماں کو چھ حصّے دیتے، باقی ١٢ حصّے بچتے ہیں ، دادا کو آٹھ حصّے اور بہن کو چار حصّے دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 33345
٣٣٣٤٥ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم عن علي وعبد اللَّه وزيد بمثل حديث أبي معاوية (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم ایک دوسری سند سے حضرت علی رضی اللہ عنہ ، عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ سے گزشتہ حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں، اور انہوں نے اس میں یہ اضافہ فرمایا ہے : مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ خبر پہنچی ہے کہ وہ دادا کو با پ کے قائم مقام قرار دیتے کہ بھائی کو اس کے ہوتے ہوئے وارث نہیں بناتے تھے، اور شوہر کو آدھا مال دیتے، اور دادا کو ایک حصّہ یعنی مال کا چھٹا حصّہ دیتے، اور ماں کو ایک تہائی مال یعنی دو حصّے دیتے۔
حدیث نمبر: 33346
٣٣٣٤٦ - وزاد فيه: وبلغني عن ابن عباس أنه كان يجعل الجد والدًا، لا يرث الإخوة معه شيئًا، ويجعل للزوج النصف وللجد السدس: سهم وللأم الثلث سهمان (١).
حدیث نمبر: 33347
٣٣٣٤٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم عن علي وعبد اللَّه وزيد (بمثل) (١) حديث أبي معاوية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے ایک تیسری سند سے بھی گزشتہ سے پیوستہ حدیث کی طرح روایت منقول ہے۔
حدیث نمبر: 33348
٣٣٣٤٨ - حدثنا وكيع عن سفيان قال: قلت للأعمش: لم سميت الأكدرية؟ قال: طرحها عبد الملك بن مروان على رجل يقال له الأكدر كان ينظر في الفرائض فأخطأ فيها فسماها الأكدرية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت اعمش سے عرض کیا کہ اس مسئلے کو ” اکدریّہ “ کیوں کہا جاتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ عبد الملک بن مروان نے اس مسئلے کو ایک ” اکدر “ نامی آدمی سے پوچھا تھا، اس نے اس میں غلطی کی تو اس نے اس کو مسئلہ ” اکدریّہ “ کا نام دے دیا۔ حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ ہم حضرت سفیان کی اس تشریح سے پہلے یہ سمجھتے تھے کہ اس مسئلے کا نام اکدریّہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ کا اس مسئلے کے بارے میں فرمان گرد آلود ہے، یعنی انہوں نے اپنی بات کی وضاحت نہیں فرمائی۔
حدیث نمبر: 33349
٣٣٣٤٩ - قال وكيع: (وكنا) (١) نسمع قبل أن يفسر سفيان إنما سميت الأكدرية لأن قول زيد تكدر فيها لم (يقس) (٢) قوله.