کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو اپنے دادا اور اپنے ایک حقیقی اور ایک باپ شریک بھائی کو چھوڑ کر مرے
حدیث نمبر: 33339
٣٣٣٣٩ - حدثنا ابن علية عن خالد عن محمد بن سيرين قال: أراد عبيد اللَّه بن زياد أن يورث الأخت من الأم مع الجد، وقال: إن عمر قد ورث الأخت معه، فقال (عبد) (١) اللَّه بن عتبة: إني لست بسبائي ولا حروري (فاقتفِ) (٢) الأثر، فإنك لن تخطئ في الطريق ما دمت على الأثر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد نے یہ ارادہ کیا کہ ماں شریک بہن کو دادا کے ہوتے ہوئے وارث بنا دے، اور اس نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دادا کے ساتھ ماں شریک بہن کو وارث بنا یا تھا، تو حضرت عبد اللہ بن عتبہ نے فرمایا کہ میں سبائی ہوں نہ خارجی، اس لئے تم حدیث کی پیروی کرو ، کیونکہ جب تک تم حدیث کی پیروی کرتے رہو گے سیدھے راستے سے نہیں بھٹکو گے۔
حدیث نمبر: 33340
٣٣٣٤٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسماعيل عن الشعبي قال: ما ورث أحد من أصحاب النبي ﷺ إخوة من أم مع جد (١).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی نے داد ا کے ہوتے ہوئے ماں شریک بہن کو وارث نہیں بنایا۔
حدیث نمبر: 33341
٣٣٣٤١ - حدثنا معاوية بن هشام قال: ثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم قال: كان زيد لا يورث أخا لأم ولا أختا لأم مع جد شيئا (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ ماں شریک بھائی اور ماں شریک بہن کو دادا کے ہوتے ہوئے وارث نہیں بناتے تھے۔
حدیث نمبر: 33342
٣٣٣٤٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم قال: كان علي وعبد اللَّه لا يورثان الإخوة من الأم مع الجد شيئًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بھی دادا کے ہوتے ہوئے ماں شریک بھائیوں اور بہنوں کو کسی چیز کا وارث نہیں بناتے تھے۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ ایک ہی حصّے سے نکلے گا، کیونکہ تمام مال دادا کے لئے ہوگا۔
حدیث نمبر: 33343
٣٣٣٤٣ - قال أبو بكر: فهذه من سهم واحد لأن المال كله للجد.