حدیث نمبر: 33336
٣٣٣٣٦ - (١) حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في رجل ترك جده، وأخاه لأبيه، وأمه وأخاه لأبيه، فللجد النصف، ولأخيه لأبيه وأمه النصف في قول علي وعبد اللَّه، وكان زيد يعطي الجد الثلث والأخ من الأب والأم الثلثين، قاسم بالأخ من الأب مع الأخ من الأب والأم ولا يرث شيئًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس آدمی کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنے دادا اور حقیقی بھائی اور باپ شریک بھائی کو چھوڑ کر مرجائے کہ دادا کے لئے آدھا مال ہوگا اور آدھا مال حقیقی بھائی کے لئے ہوگا، یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ دادا کو ایک تہائی مال دیتے تھے، اور حقیقی بھائی کو دو تہائی مال دیتے تھے، آپ نے تقسیم میں تو باپ شریک بھائی کو حقیقی بھائی کے ساتھ شریک کیا، لیکن باپ شریک بھائی کو وارث نہیں بنایا۔
حدیث نمبر: 33337
٣٣٣٣٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم قال: كان عبد اللَّه يقاسم بالجد الإخوةَ إلى الثلث، ويعطي كل صاحب فرض فريضته، ولا يورث الإخوة من الأم مع الجد، (ولا يقاسم) (١) (بالإخوة) (٢) للأب الإخوة للأب والأم (مع الجد) (٣)، وإذا كانت أخت لأبٍ وأم (وأخت) (٤) لأب وجد أعطى الأخت من الأب والأم النصف والجد النصف، وكان علي يقاسم بالجد الإخوة إلى السدس، ويعطي كل صاحب فريضة فريضته، ولا يورث الإخوة من الأم مع الجد، ⦗٣٠١⦘ (ولا يقاسم بالإخوة للأب الإخوة للأب والأم) (٥)، ولا يزيد الجد مع الولد (على) (٦) السدس إلا أن لا يكون غيره، فإذا كانت أخت لأب وأم وأخ لأب وجد أعطى الأخت النصف، وجعل النصف بين الجد والأخ، وكان زيد يقاسم بالجد الإخوة والأخوات إلى الثلث، فإذا بلغ الثلث أعطاه الثلث، وكان للإخوة والأخوات ما بقي، ولا يورث الإخوة من الأم مع الجد ولا يقاسم بهم، وكان يقاسم الإخوة للأب الإخوة للأب والأم ولا يورثهم شيئًا، وإذا كانت أخت لأب وأم وأخ وأخت لأبٍ، وجدٌ أعطى الأخت من الأب والأم النصف، وقاسم الأخ والأخت الجد (٧).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ مال کی تقسیم میں شریک کیا کرتے تھے ، اور ہر حق دار کو اس کا حق دیا کرتے تھے ، اور دادا کی موجودگی میں ماں شریک بھائی کو وارث نہیں بناتے تھے، اور دادا کے ساتھ حقیقی بھائیوں کی تقسیم میں شرکت کی صورت میں باپ شریک بھائی کو تقسیم کا حصّہ نہیں بناتے تھے ، اور جب حقیقی بہن اور باپ شریک بہن اور دادا جمع ہوجاتے تو حقیقی بہن کو آدھا مال اور دادا کو بھی آدھا مال دلاتے تھے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ مال کی تقسیم میں چھٹے حصّے تک شریک بناتے تھے ، اور ہر حق دار کو اس کا حق دلاتے، اور دادا کے ہوتے ہوئے ماں شریک بھائی کو وارث نہیں بناتے تھے ، اور اولاد کے ہوتے ہوئے دادا کو مال کے چھٹے حصّے سے زیادہ نہیں دیتے تھے، الّا یہ کہ دادا کے علاوہ کوئی اور وارث موجود نہ ہو، پس جب حقیقی بہن اور باپ شریک بھائی اور بہن اور دادا جمع ہوجائیں تو حقیقی بہن کو آدھا مال دیتے اور بھائی اور بہن کو دادا کے ساتھ تقسیم میں شریک بناتے۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قول میں دو حصّوں سے نکلے گا، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول میں تین حصّوں سے نکلے گا۔
حدیث نمبر: 33338
٣٣٣٣٨ - قال أبو بكر: فهذه في قول علي وعبد اللَّه من سهمين وفي قول زيد من ثلاثة أسهم.