کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جب کوئی آدمی بھائیوں اور دادا کو چھوڑ جائے تو کیاحکم ہے؟ اس بارے میں علماء کے اختلاف کا بیان
حدیث نمبر: 33317
٣٣٣١٧ - (١) حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن عبيد بن (نضيلة) (٢) قال: كان عمر وعبد اللَّه (يقاسمان) (٣) بالجد مع الإخوة ما بينه وبين أن يكون السدس خيرا له من مقاسمتهم، ثم إن عمر كتب إلى عبد اللَّه: ما أرى إلا أنا قد أجحفنا بالجد، فإذا جاءك كتابي هذا فقاسم به مع الإخوة ما بينه وبين أن يكون الثلث خيرا له من مقاسمتهم، فأخذ به عبد اللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
عُبید بن نضیلہ فرماتے ہیں کہ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بھائیوں کے ہوتے ہوئے دادا کے حصّے کو تقسیم کرتے تھے، اور اس کو وہ مال دلاتے جو چھٹے حصّے اور بھائیوں کے حصّے میں شراکت میں سے اس کے لئے زیادہ بہتر ہوتا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ کو لکھا کہ میرا خیال ہے کہ ہم نے دادا کو مفلس کردیا ہے، پس جب آپ کے پاس میرا یہ خط پہنچے تو آپ اس کو بھائیوں کے ساتھ تقسیم کا حصہ دار بنا دیجئے، اس طرح کہ ایک تہائی مال اور تقسیم میں ان کے ساتھ شرکت میں سے جو اس کے لئے زیادہ بہتر ہو وہ اس کو دلائیے، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اس بات کو قبول فرما لیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33317
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33317، ترقيم محمد عوامة 31868)
حدیث نمبر: 33318
٣٣٣١٨ - حدثنا ابن علية عن أبي العلاء عن إبراهيم عن علقمة قال: كان عبد اللَّه (يشرك) (١) الجد مع الإخوة، فإذا كثروا (وفاه) (٢) الثلث، فلما توفي علقمة ⦗٢٩٦⦘ أتيت عبيدة فحدثني أن ابن مسعود كان (يشرك) (٣) الجد مع الإخوة، فإذا كثروا وفاه السدس، فرجعت من عنده وأنا (خاثر) (٤) فمررت بعبيد بن (نضيلة) (٥) فقال: ما لي أراك خاثرا؟ قال: قلت: كيف لا أكون (خاثرا؟) (٦) فحدثته، فقال: صدقاك كلاهما، قلت: للَّه أبوك، وكيف صدقاني كلاهما؟ قال: كان رأي عبد اللَّه وقسمته أن (يشركه) (٧) مع الإخوة، فإذا كثروا وفاه السدس، ثم وفد إلى عمر فوجده يشركه مع الإخوة فإذا كثروا وفاه الثلث، فترك رأيه وتابع عمر (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک بنایا کرتے تھے ، لیکن جب بھائی تعداد میں زیادہ ہوتے تو آپ اس کو ایک تہائی مال دلاتے، ابراہیم راوی فرماتے ہیں کہ جب علقمہ کی وفات ہوئی تو میں حضرت عُبِیدہ کے پاس آیا ، انہوں نے مجھ سے یہ بیان فرمایا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک بنایا کرتے تھے، اور جب بھائی زیادہ ہوتے تو اس کو مال کا حصّہ دلاتے، فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میں ان کے پاس سے اس حال میں لوٹا کہ میری طبیعت بوجھل تھی۔ پھر میں حضرت عبید بن نضیلہ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ آپ کی طبیعت میں سستی کیسی ہے ؟ میں نے کہا : کیوں نہ ہو جبکہ اس طرح واقعہ پیش آیا ہے ، پھر میں نے ان سے پوری بات بیان کی ، انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں نے تمہیں سچ بتلایا، میں نے کہا : آپ کی کیا بات ہے ! دونوں نے کیسے سچ کہا ؟ فرمانے لگے : حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک کردیا جائے، اور جب وہ بڑھ جائیں تو اس کو مال کا چھٹا حصّہ دلا دیا جائے، پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہیں دیکھا کہ وہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک کرتے ہیں اور جب بھائی زیاد ہ ہوجائیں تو دادا کو ایک تہائی مال دلاتے ہیں، تو آپ نے اپنی رائے چھوڑ دی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے پر عمل کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33318
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو العلاء صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33318، ترقيم محمد عوامة 31869)
حدیث نمبر: 33319
٣٣٣١٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة عن علي أنه كان يقاسم بالجد الإخوة (إلى) (١) السدس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
عبد اللہ بن سلِمَہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک کرتے تھے کل مال کے چھٹے حصّے تک۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33319
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن سلمة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33319، ترقيم محمد عوامة 31870)
حدیث نمبر: 33320
٣٣٣٢٠ - حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن أبي خالد عن الشعبي عن علي أنه أُتي في ستة إخوة وجد، فأعطى الجد السدس (١).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چھ بھائیوں اور ایک دادا کے بارے میں مسئلہ لایا گیا تو آپ نے دادا کو مال کا چھٹا حصّہ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33320
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33320، ترقيم محمد عوامة 31871)
حدیث نمبر: 33321
٣٣٣٢١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن فراس عن الشعبي قال: كتب ابن عباس إلى علي يسأله عن ستة إخوة وجد، فكتب إليه (١): اجعله كأحدهم وامح كتابي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ چھ بھائیوں اور دادا کی موجودگی میں میراث کیسے تقسیم ہوگی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ دادا کو ان بھائیوں میں سے ایک کی طرح بنادیں اور میرا خط مٹا دیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33321
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33321، ترقيم محمد عوامة 31872)
حدیث نمبر: 33322
٣٣٣٢٢ - حدثنا حفص (بن غياث) (١) عن الأعمش عن إبراهيم أن زيدًا كان يقاسم بالجد مع الإخوة ما بينه وبين الثلث (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کہتے ہیں کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک کرتے اور ایک تہائی مال دلاتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33322
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33322، ترقيم محمد عوامة 31873)
حدیث نمبر: 33323
٣٣٣٢٣ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم عن عمر وعبد اللَّه أنهما كانا يقاسمان الجد مع الإخوة ما بينه وبين الثلث (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک کرتے اور ایک تہائی مال دلاتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33323
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33323، ترقيم محمد عوامة 31874)
حدیث نمبر: 33324
٣٣٣٢٤ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم أن عليًا كان يقاسم الجد مع الإخوة ما بينه وبين السدس (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ شریک کرتے اور مال کا چھٹا حصّہ دلاتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33324
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33324، ترقيم محمد عوامة 31875)
حدیث نمبر: 33325
٣٣٣٢٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كتب عمر إلى عبد اللَّه بن مسعود: إنا قد خشينا أن نكون قد أجحفنا بالجد، فأعطه الثلث مع الإخوة (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے ڈر ہے کہ ہم نے دادا کو مفلس ہی کردیا ہے اس لئے اس کو بھائیوں کے ساتھ شریک کرو یا ایک تہائی مال دلاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33325
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33325، ترقيم محمد عوامة 31876)
حدیث نمبر: 33326
٣٣٣٢٦ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن أن زيدًا كان (١) يقاسم الجد مع الواحد والاثنين، فإذا كانوا ثلاثةكان له ثلث جميع المال، فإن كان معه فرائض نظر له، فإن كان (الثلث) (٢) خيرا له (أعطاه) (٣)، وإن كانت المقاسمة خيرا له قاسم، ولا ينتقص من سدس جميع المال (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن روایت کرتے ہیں کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ دادا ایک دو بھائیوں کے ساتھ مال کی تقسیم میں شریک ہوگا، اور جب بھائی تین ہوں تو اس کو پورے مال کا ایک تہائی حصّہ دیا جائے گا، اور اگر اس کے کئی حصّے ہوں تو دیکھا جائے گا کہ اگر ایک تہائی مال اس کے لئے بہتر ہوگا تو اس کو دے دیا جائے گا اور اگر بھائیوں کے ساتھ شرکت بہتر ہوگی تو شریک کردیا جائے گا، اور اس کا حصّہ مال کے چھٹے حصّے سے کم نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33326
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33326، ترقيم محمد عوامة 31877)
حدیث نمبر: 33327
٣٣٣٢٧ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم قال: كان عبد اللَّه وزيد يجعلان للجد الثلث (١) وللإخوة الثلثين، وفي رجل ترك أربعة إخوة لأبيه وأمه وأختيه لأبيه وأمه وجده، قال: كان علي يجعلها أسهما أسداسًا (٢) السدس (له) (٣)، لم يكن علي يجعل للجد أقل من السدس مع الإخوة، وما بقي فللذكر مثل حظ الأنثيين، وكان عبد اللَّه وزيد يعطيان الجد الثلث والإخوة الثلثين للذكر مثل حظ الأنثيين، وقال في خمسة إخوة وجد، قال: فللجد في قول علي السدس، وللإخوة خمسة أسداس، وكان عبد اللَّه وزيد يعطيان الجد الثلث والإخوة الثلثين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ دادا کے لئے ایک تہائی مال مقرر فرمایا کرتے تھے اور بھائیوں کے لئے دو تہائی مال، اور اس مسئلے میں کہ جب آدمی اپنے حقیقی بھائیوں اور دو حقیقی بہنوں اور دادا کو چھوڑ کر مرے، حضرت علی رضی اللہ عنہ مال کو چھ حصّوں پر تقسیم کردیا کرتے تھے، اور دادا کو چھٹا حصّہ دلایا کرتے تھے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھائیوں کی موجودگی میں دادا کا حصّہ چھٹے حصّے سے کم نہیں کیا کرتے تھے، اور باقی مال اس ضابطے پر تقسیم ہوتا کہ مرد کو عورت سے دوگنا حصّہ دیا جاتا، اور حضرت عبد اللہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ دادا کو ایک تہائی مال دیا کرتے تھے، اور بھائیوں کو دو تہائی مال، اس ضابطے پر کہ مرد کو عورت سے دوگنا حصّہ دیا جائے، اور ابراہیم نے پانچ بھائیوں اور ایک دادا کے مسئلے کے بارے میں فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول میں دادا کے لئے مال کا چھٹا حصّہ ہے اور بھائیوں کے لئے بقیہ پانچ حصّے ، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ دادا کو ایک تہائی مال اور بھائیوں کو دو تہائی مال دلایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33327
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33327، ترقيم محمد عوامة 31878)
حدیث نمبر: 33328
٣٣٣٢٨ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر عن مسروق قال: كان ابن مسعود لا يزيد الجد على السدس مع الإخوة، قال: فقلت له: شهدت عمر بن الخطاب أعطاه الثلث مع الإخوة فأعطاه الثلث (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ہوتے ہوئے مال کے چھٹے حصّے سے زیادہ نہیں دیا کرتے تھے، فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے کہ دادا کو بھائیوں کی موجودگی میں ایک تہائی مال دیتے تھے، تو حضرت نے اس کو ایک تہائی مال دلانا شروع فرما دیا
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33328
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف جابر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33328، ترقيم محمد عوامة 31879)
حدیث نمبر: 33329
٣٣٣٢٩ - حدثنا عبد الأعلى عن داود عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم قال إن أول جد ورث في الإسلام عمر بن الخطاب فأراد أن يحتاز المال فقلت له: يا أمير المؤمنين إنهم شجرة دونك -يعني: بني (بنيه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا دادا جو وارث بنایا گیا وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے ارادہ کیا کہ تمام مال لے لیں ، میں نے کہا اے امیر المؤمنین ! پوتے آپ کے لئے رکاوٹ ہیں۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول میں تین حصّوں سے نکلے گا، ایک تہائی مال دادا کے لئے ہوگا اور باقی مال بھائیوں کے لئے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول میں چھ حصّوں سے نکلے گا ، دادا کے لئے چھٹا حصّہ اور بھائیوں کے لئے بقیہ پانچ حصّے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33329
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33329، ترقيم محمد عوامة 31880)
حدیث نمبر: 33330
٣٣٣٣٠ - قال أبو بكر: فهذه في قول عمر وعبد اللَّه وزيد من ثلاثة أسهم: فللجد الثلث وما بقي فللإخوة، وفي قول علي من ستة أسهم: للجد السدس سهم، وللإخوة خمسة أسهم.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33330
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33330، ترقيم محمد عوامة ---)