کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان حضرات کا بیان جو ذوی الأرحام کو وارث قرار دیتے ہیں، اور موالی کو وارث قرار نہیں دیتے
حدیث نمبر: 33241
٣٣٢٤١ - حدثنا جرير عن منصور عن فضيل عن إبراهيم قال: كان عمر وعبد اللَّه يعطيان الميراث ذوي الأرحام (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ ذوی الأرحام کو میراث دلایا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کیا فرماتے تھے انہوں نے فرمایا کہ وہ ذوی الأرحام کو میراث دلانے میں پہلے سے دونوں حضرات سے زیادہ سخت تھے۔
حدیث نمبر: 33242
٣٣٢٤٢ - قال فضيل: فقلت لإبراهيم: فعلي؟ قال: كان (١) أشدهم في ذلك أن يعطي ذوي الأرحام (٢).
حدیث نمبر: 33243
٣٣٢٤٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم (و) (١) عمر وعلي وعبد اللَّه بمثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم ، حضرت عمر، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ م سے یہی بات منقول ہے۔
حدیث نمبر: 33244
٣٣٢٤٤ - حدثنا حماد بن خالد عن معاوية بن صالح عن أبي الزاهرية -قال أبو بكر: أظنه عن جبير بن نفير- قال: كنت جالسا عند أبي الدرداء، وكان قاضيًا، فأتاه رجل فقال: إن ابن (أختي) (١) مات ولم يدع وارثًا، فكيف ترى في ماله؟ (قال) (٢): انطلق فاقبضه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن نفیر فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا جبکہ وہ قاضی تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میرا بھائی فوت ہوگیا ہے اور اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا آپ اس کے مال کے بارے میں کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا کہ جاؤ اور اس کا مال لے لو۔
حدیث نمبر: 33245
٣٣٢٤٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (حيان) (١) الجعفي عن سويد بن غفلة أن عليًا أتي في ابنة وامرأة و (موالي) (٢)، فأعطى الابنة النصف، والمرأة الثمن، ورد ما بقي على الابنة ولم يعط الموالي شيئًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
سوید بن غفلہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیٹی اور بیوی اور آقاؤں کی وراثت کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ نے بیٹی کو آدھا مال دیا اور بیوی کو مال کا آٹھواں حصّہ ، اور باقی ماندہ مال واپس بیٹی کو لوٹا دیا اور آقاؤں کو کوئی چیز نہیں دی۔
حدیث نمبر: 33246
٣٣٢٤٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا شعبة عن (ميسرة) (١) عن إبراهيم أنه أنكر حديث (ابنة) (٢) (حمزة) (٣) وقال: إنما أطعمها رسول اللَّه ﷺ طعمة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میسرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کی حدیث کو منکر قرار دیا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بطور عطیہ کے مال دیا ہے۔
حدیث نمبر: 33247
٣٣٢٤٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: أوصى مولى لعلقمة لأهل علقمة بالثلث، وأعطى ابن (أخته) (١) لأمه الثلثين.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ کے ایک آزاد کردہ غلام نے حضرت علقمہ کے گھر والوں کے لئے ایک تہائی مال کی وصیت کی اور ا س نے اپنے ماں شریک بھائی کے بیٹے کو دو تہائی مال دیا۔
حدیث نمبر: 33248
٣٣٢٤٨ - حدثنا ابن نمير عن الأعمش عن سالم قال: أتي علي في رجل ترك جدته ومواليه فأعطى الجدة المال دون الموالي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس اس آدمی کے بارے میں مسئلہ لایا گیا جس نے اپنی دادی اور اپنے آقا چھوڑے، آپ نے اس کا مال دادی کو دے دیا، اور آقاؤں کو کچھ نہیں دیا۔
حدیث نمبر: 33249
٣٣٢٤٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم (١) قال: كنت أمشي معه فأدركته امرأة عند الصياقلة (فقالت) (٢): إن مولاتك قد ماتت فخذ ميراثها، قال: هو لك، (قالت) (٣): بارك اللَّه لك فيه، (قال) (٤): أما إنه لو كان (لي) (٥) لم أدعه لك، وإنه لمحتاج يومئذ إلى (تور يصيبه) (٦) من ميراثها من خمسة دراهم، فقلت له: ما هذه منها؟ قال: ابنة أختها لأمها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش سے روایت ہے کہ میں ابراہیم کے ساتھ چل رہا تھا کہ ان کے پاس صیاقلہ کے بازار کے قریب ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ آپ کی آزاد کردہ باندی فوت ہوگئی ہے آپ اس کی میراث لے لیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ تیرے لیے ہے۔ وہ کہنے لگی اللہ تعالیٰ آپ کے لئے برکت عطا فرمائے ( میں نہیں لینا چاہتی) آپ نے فرمایا کہ اگر اس مال میں میرا حق ہوتا تو میں تمہیں نہ دیتا۔ جبکہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ پانچ درہم کی ایک طشت کے بھی محتاج تھے جو ان کو اس کی وراثت میں سے ملتی۔ ا عمش کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ یہ عورت اس کی کیا لگتی ہے آپ نے فرمایا کہ اس کی ماں شریک بہن کی بیٹی ہے۔