کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: شوہر اور ماں اور بھائیوں اور حقیقی بہنوں اور ماں شریک بھائیوں اور بہنوں کے بیان میں، اور ان حضرات کا بیان جنہوں نے ان کو شراکت دار قرار دیا
حدیث نمبر: 33172
٣٣١٧٢ - حدثنا ابن مبارك عن معمر عن سماك بن الفضل قال: سمعت وهبًا يحدث عن الحكم بن مسعود قال: شهدت عمر أشرك الإخوة من الأب والأم مع الإخوة من (الأم) (١) في الثلث، فقال له رجل: قد قضيت في هذا عام الأول بغير هذا، قال: وكيف قضيت؟ (قال) (٢): جعلته للإخوة للأم ولم تجعل للإخوة من الأب والأم شيئًا، قال: ذلك على ما قضينا، و (هذا) (٣) على ما (نقضي) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حکم بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حقیقی بھائیوں کو ماں شریک بھائیوں کے ساتھ ایک تہائی مال میں برابر شریک کیا، ان سے ایک آدمی نے کہا کہ آپ نے اس جیسے ایک مسئلے میں گذشتہ سال کچھ اور فیصلہ دیا تھا، آپ نے پوچھا کہ میں نے کیا فیصلہ کیا تھا ؟ اس نے کہا کہ آپ نے مال ماں شریک بھائیوں کو دے دیا تھا اور حقیقی بھائیوں کو کچھ نہیں دیا تھا ، آپ نے فرمایا کہ وہ فیصلہ بھی اسی طرح درست تھا جس طرح ہم نے کیا تھا، اور یہ فیصلہ بھی اسی طرح درست ہے جس طرح ہم کر رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33172
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33172، ترقيم محمد عوامة 31744)
حدیث نمبر: 33173
٣٣١٧٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم أن عمر وزيدا وابن مسعود كانوا يشركون في زوج وأم وإخوة لأم وأبي وأخوات لأم يشركون بين الإخوة من الأب والأم مع الإخوة للأم في (سهم) (١)، وكانوا يقولون: لم يزدهم الأب لا قربًا ويجعلون ذكورهم وإناثهم فيه سواء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر، زید اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ م شوہر، ماں، حقیقی بھائیوں اور ماں شریک بہنوں کو مال میں برابر شریک کیا کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ ان کو باپ نے صرف قرابت داری کا ہی فائدہ پہنچایا ہے ، اور وہ مردوں اور عورتوں کو برابر حصّہ دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33173
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33173، ترقيم محمد عوامة 31745)
حدیث نمبر: 33174
٣٣١٧٤ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في امرأة تركت زوجها وأمها وإخوتها لأبيها (وأمها وإخوتها (لأمها)) (١) (٢)، فلزوجها النصف ثلاثة أسهم، ولأمها السدس سهم، ولإخوتها لأمها الثلث سهمان، ولم يجعل لإخوتها لأبيها وأمها من الميراث شيئًا في قضاء علي، وشرك بينهم عمر وعبد اللَّه وزيد بن ثابت بين الإخوة من الأب والأم مع بني الأم في الثلث الذي ورثوا غير أنهم شركوا ذكورهم وإناثهم فيه سواء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے ا س عورت کے بارے میں فرمایا جس نے موت کے وقت اپنے شوہر، ماں، حقیقی بھائی اور ماں شریک بھائی چھوڑے کہ اس کے شوہر کے تین حصّے یعنی کل مال کا نصف ہوگا اور اس کی ماں کے لئے ایک حصّہ یعنی کل مال کا چھٹا حصّہ ہوگا، اور اس کے ماں شریک بھائیوں کے لئے دو حصّے یعنی ایک تہائی مال ہوگا، اور آپ نے اس عورت کے باپ اور ماں کو میراث کا کوئی حصّہ نہیں دلایا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے جبکہ حضرت عمر اور عبد اللہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ م نے حقیقی بھائیوں کو ماں شریک بھائیوں کا شریک بنایا اس ایک تہائی مال میں جس کے وہ وارث ہوئے، سوائے اس بات کے کہ ان حضرات نے ان میں سے مردوں اور عورتوں کو برابر حصّہ دلایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33174
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33174، ترقيم محمد عوامة 31746)
حدیث نمبر: 33175
٣٣١٧٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سليمان التيمي عن أبي مجلز أن عثمان شرك بينهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی ان ورثاء کو برابر کا شریک بنا یا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33175
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33175، ترقيم محمد عوامة 31747)
حدیث نمبر: 33176
٣٣١٧٦ - حدثنا أبو خالد عن حجاج عن ابن المنتشر عن شريح ومسروق أنهما شركا اللإخوة من الأب والأم مع الإخوة (من الأم) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابن المنتشر فرماتے ہیں کہ حضرت شریح اور مسروق نے بھی حقیقی بھائیوں کو ماں شریک بھائیوں کا شریک بنایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33176
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33176، ترقيم محمد عوامة 31748)
حدیث نمبر: 33177
٣٣١٧٧ - حدثنا أبو خالد عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن سعيد بن المسيب بمثله، قال: ما زادهم الأب إلا قربًا.
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن شعیب سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بھی ا س مسئلے میں ایسا ہی فیصلہ کیا ، اور فرمایا کہ باپ نے صر ف ان میں قرابت کا ہی اضافہ کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33177
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33177، ترقيم محمد عوامة 31749)
حدیث نمبر: 33178
٣٣١٧٨ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن ابن طاوس عن أبيه أنه قال: لأمها السدس، ولزوجها الشطر، والثلث بين الإخوة من الأم والإخوة من الأب والأم.
مولانا محمد اویس سرور
ابن طاؤس روایت کرتے ہیں کہ حضرت طاؤس نے فرمایا کہ اس میت کی ماں کو چھٹا حصّہ اور اس کے شوہر کو نصف مال دیا جائے گا۔ اور ایک تہائی ماں شریک بھائیوں اور حقیقی بھائیوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33178
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33178، ترقيم محمد عوامة 31750)
حدیث نمبر: 33179
٣٣١٧٩ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن عبد اللَّه بن محمد بن عقيل قال: ماتت ابنة للحسن بن الحسن، وتركت زوجها وأمها (وإخوتها لأمها) (١) ⦗٢٦٤⦘ وإخوتها لأبيها وأمها، فارتفعوا إلى عمر بن عبد العزيز، فأعطى الزوج النصف، والأم السدس، وأشرك بين الإخوة من الأم والإخوة من الأب والأم، وقال (للزوج) (٢): أمسك عن أترابك، أيلحق بهم سهم آخر حتى (ينظر) (٣) حبلى هي أم لا.
مولانا محمد اویس سرور
عبد اللہ بن محمد بن عقیل فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن حسن کی ایک بیٹی فوت ہوگئی اور اس نے شوہر، ماں، ماں شریک بھائی اور حقیقی بھائی چھوڑے، انہوں نے معاملہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ تک پہنچایا تو انہوں نے شوہر کو نصف مال اور ماں کو چھٹا حصّہ دیا، اور ماں شریک بھائیوں اور حقیقی بھائیوں کو برابر کا شریک بنایا، اور شوہر سے فرمایا کہ اپنے ہم عمروں سے رکے رہو کہ آیا ان کو ایک اور حصّہ ملتا ہے ؟ یہاں تک کہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33179
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33179، ترقيم محمد عوامة 31751)
حدیث نمبر: 33180
٣٣١٨٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: كان عبد اللَّه وعمر يشركان، (قال) (١): و (كان) (٢) علي لا يشرك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ اور عمر رضی اللہ عنہ ما ان کو برابر کا شریک رکھا کرتے تھے، فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کو برابر شریک نہیں بناتے تھے۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ چھے حصّوں سے نکلے گا شوہر کے لیے تین حصّے یعنی آدھا مال اور ماں کے لئے چھٹا حصّہ اور ماں شریک بھائیوں کے لئے ایک تہائی مال جو کہ دو حصّے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33180
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33180، ترقيم محمد عوامة 31752)
حدیث نمبر: 33181
٣٣١٨١ - قال أبو بكر: وهذه من ستة أسهم: للزوج النصف ثلاثة أسهم، وللأم السدس وللإخوة من الأم الثلث وهو سهمان.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33181
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33181، ترقيم محمد عوامة ---)