کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ایک بیٹی اور دو چچا کے بیٹوں کا بیان جن میں سے ایک ماں شریک بھائی ہو
حدیث نمبر: 33163
٣٣١٦٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسماعيل بن عبد الملك قال: سألت سعيد بن جبير عن ابنة وابني عم أحدهما أخ لأم، فقال: للابنة النصف، وما بقي فلابن العم الذي ليس بأخ لأم (ولا يرث أخ لأم) (١) مع ولد.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل بن عبد الملک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ایک بیٹی اور دو چچا کے بیٹوں کے بارے میں پوچھا جن میں سے ایک ماں شریک بھائی تھا، انہوں نے فرمایا : بیٹی کے لئے نصف مال ہے اور باقی اس چچا زاد بھائی کے لئے ہے جو ماں شریک بھائی نہیں، اور ماں شریک بھائی اولاد کے ہوتے ہوئے وارث نہیں ہوتا، راوی فرماتے ہیں کہ پھر میں نے حضرت عطاء سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت سعید سے غلطی ہوئی، بیٹی کے لئے نصف مال ہے اور باقی ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوگا، حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے قول کے مطابق دو حصّوں سے نکلے گا، بیٹی کے لئے نصف ، اور اس چچا زاد بھائی کے لئے جو ماں شریک بھائی نہیں ہے نصف مال ہوگا، اور حضرت عطاء رحمہ اللہ کے قول کے مطابق چار حصّوں سے نکلے گا۔ دو حصّے بیٹی کے لئے ہوں گے اور دو حصّے ان کے درمیان تقسیم ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33163
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33163، ترقيم محمد عوامة 31740)
حدیث نمبر: 33164
٣٣١٦٤ - قال: فسألت عطاء فقال: أخطأ سعيد، للابنة النصف، (وما بقي بينهما نصفين) (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33164
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33164، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 33165
٣٣١٦٥ - [قال أبو بكر: فهذه في قول سعيد بن جبير من سهمين: للابنة النصف ولابن العم الذي ليس بأخ لأم] (١) النصف، وفي قول عطاء من أربعة: سهمان للابنة، وسهمان بينهما.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33165
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33165، ترقيم محمد عوامة ---)