کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: دو ماں شریک بھائیوں کا بیان جن میں سے ایک چچا زاد بھائی بھی ہو
حدیث نمبر: 33161
٣٣١٦١ - حدثنا يحيى بن زكريا عن إسرائيل عن منصور عن إبراهيم في امرأة تركت (أخويها) (١) لأمها أحدهما ابن عمها، فقال علي (و) (٢) زيد: الثلث بينهما، وما بقي فلابن عمها، وقال ابن مسعود: (٣) المال بينهما (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ عورت جس نے اپنے دو ماں شریک بھائی چھوڑے ہوں جن میں سے ایک اس کا چچا زاد بھائی ہو اس کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک تہائی مال ان دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا اور باقی عورت کے چچا زاد بھائی کے لئے ہوگا، اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مال ان کے درمیان برابری کے ساتھ تقسیم ہوگا۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے اقوال کے مطابق تین حصّوں سے نکلے گا اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق دو حصّوں سے نکلے گا۔
حدیث نمبر: 33162
٣٣١٦٢ - قال أبو بكر: فهذه في قول علي وزيد من ثلاثة أسهم، وفي قول ابن مسعود من سهمين.