کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: یہ باب ہے ان چچا زاد بھائیوں کے بارے میں جن میں سے ایک شوہر ہو
حدیث نمبر: 33158
٣٣١٥٨ - حدثنا وكيع عن شعبة عن أوس عن حكيم بن (عقال) (١) قال: أُتي علي في ابني عم أحدهما زوج والآخر أخ لأم فقال لشريح: قل فيها، فقال شريح: للزوج النصف، (و) (٢) ما بقي فللأخ، فقال له علي: رأي، قال: كذلك رأيت، فأعطى عليٌ الزوج النصف، والأخ السدس، وجعل ما بقي بينهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حکیم بن عقال فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس دو چچا زاد بھائیوں کے بارے میں مسئلہ لایا گیا جن میں سے ایک شوہر تھا اور دوسرا ماں شریک بھائی تھا، آپ نے حضرت شریح سے فرمایا کہ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ حضرت شریح نے فرمایا کہ شوہر کے لئے نصف ہے اور باقی بھائی کے لئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کیا آپ کی یہی رائے ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میری رائے تو یہی ہے، چناچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شوہر کو نصف مال دے دیا اور بھائی کو چھٹا حصّہ دے دیا، اور باقی مال دونوں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔
حدیث نمبر: 33159
٣٣١٥٩ - حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة عن إسرائيل عن منصور عن إبراهيم في امرأة تركت ثلاثة بني عم أحدهم زوجها والآخر أخوها لأمها، فقال ⦗٢٥٩⦘ علي وزيد: للزوج النصف وللأخ من الأم السدس، وما بقي فهو بينهم سواء، وقال ابن مسعود: للزوج النصف، وما بقي فللأخ (من الأم) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے کہ وہ عورت جس نے تین چچا زاد بھائیوں کو چھوڑا جن میں سے ایک اس کا شوہر تھا اور دوسرا اس کا ماں شریک بھائی تھا، اس کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نصف مال شوہر کے لئے اور چھٹا حصّہ ماں شریک بھائی کے لئے ہوگا، اور باقی ان کے درمیان برابر کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا، اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نصف مال شوہر کے لئے ہے اور باقی مال ماں شریک بھائی کے لئے ہے۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید رضی اللہ عنہ کی رائے مطابق چھ کے عدد سے نکلے گا جن میں سے تین حصّے ( یعنی آدھا مال) شوہر کے لئے، اور ماں شریک بھائی کے لئے چھٹا حصّہ ہوگا، اور دو حصّے باقی بچیں گے جو ان دونوں کے درمیان تقسیم ہوں گے، اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق یہ مسئلہ دو حصّوں سے نکلے گا جن میں سے نصف شوہر کے لئے اور باقی ماں شریک بھائی کے لئے ہوگا۔
حدیث نمبر: 33160
٣٣١٦٠ - قال أبو بكر: وهذه في قول علي وزيد من ستة أسهم: للزوج النصف (ثلاثة) (١)، وللأخ للأم السدس، ويبقى سهمان، فهما بينهما، وفي قول ابن مسعود من سهمين: للزوج النصف، وما بقي فللأخ للأم.