کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان چچا زاد بھائیوں کا بیان جن مین سے ایک ماں شریک بھائی بھی ہو
حدیث نمبر: 33153
٣٣١٥٣ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال: كان علي وزيد يقولان في بني عم أحدهم أخ لأم: يعطيانه السدس، وما بقي بينه وبين بني عمه، وكان عبد اللَّه يعطيه المال كله (١).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ ما ان چچا زاد بھائیوں کے بارے میں جن میں سے ایک ماں شریک بھائی ہو فرمایا کرتے تھے کہ اس کو چھٹا حصّہ دیا جائے گا ، اور باقی اس کے اور دوسرے چچا زاد بھائیوں کے درمیان تقسیم ہوگا، اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اسی چچا زاد کو پورا مال دلواتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33153
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33153، ترقيم محمد عوامة 31733)
حدیث نمبر: 33154
٣٣١٥٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: أتي في بني عم أحدهم أخ لأم، وكان ابن (مسعود) (١) أعطاه المال كله، فقال علي: يرحم اللَّه أبا عبد الرحمن إنه كان لفقيه، لو كنت لأعطيه السدس، وكان شريكهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حارث فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ان چچا زاد بھائیوں کا مسئلہ لایا گیا جن میں سے ایک ماں شریک بھائی تھا، جبکہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس ماں شریک کو پورا مال دیا تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن پر رحم فرمائے، وہ بلاشبہ فقیہ تھے ، اگر میں ہوتا تو اس کو چھٹا حصّہ دیتا ، اور پھر وہ مال میں دوسرے چچا زاد بھائیوں کا شریک ہوتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33154
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف الحارث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33154، ترقيم محمد عوامة 31734)
حدیث نمبر: 33155
٣٣١٥٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن خالد الحذاء عن ابن سيرين عن شريح أنه كان يقضي في بني عم أحدهم أخ لأم بقضاء عبد اللَّه (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت شریح ان چچا زاد بھائیوں کے بارے میں جن میں سے ایک ماں شریک بھائی ہو حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33155
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33155، ترقيم محمد عوامة 31735)
حدیث نمبر: 33156
٣٣١٥٦ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في امرأة تركت بني عمها أحدهم أخوها لأمها، قال: فقضى فيها عمر وعلي وزيد؛ أن لأخيها من أمها السدس، وهو شريكهم بعد في المال، وقضى فيها عبد اللَّه أن المال له دون بني عمه (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جس عورت نے مرتے وقت چچا زاد بھائی چھوڑے جن میں سے ایک اس کا ماں شریک بھائی ہو، اس کے بارے میں حضرت عمر، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ م نے فیصلہ فرمایا کہ اس کے ماں شریک بھائی کو چھٹا حصّہ ملے گا، اور پھر وہ مال میں دوسروں کے ساتھ شریک ہوگا، اور اس کے بارے میں حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا کہ مال اسی کو ہی ملے گا نہ کہ اس میت کے دوسرے چچا زاد بھائیوں کو۔ ابو بکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت عمر، حضرت علی، اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق چھ حصّوں سے نکلے گا، اور حضرت عبد اللہ اور شریح رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق ایک حصّے سے نکلے گا، اور وہ پورا مال ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33156
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33156، ترقيم محمد عوامة 31736)
حدیث نمبر: 33157
٣٣١٥٧ - قال أبو بكر: فهي في قول عمر وعلي وزيد من ستة أسهم، وهي في قول عبد اللَّه وشريح من سهم واحد وهو جميع المال.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33157
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33157، ترقيم محمد عوامة ---)