کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جس نے اپنی دو بیٹیاں ، ایک پوتی اور ایک پڑپوتا چھوڑا
حدیث نمبر: 33149
٣٣١٤٩ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل عن إبراهيم في رجل ترك ابنتيه وابنة ابن وابن ابن أسفل منها، فلابنتيه الثلثان، وما فضل لابن ابنه، يرد على من فوقه ومن معه من البنات في قول علي وزيد: للذكر مثل حظ الأنثيين، ولا يرد على من أسفل منه، وفي قول عبد اللَّه لابنتيه الثلثان ولابن ابنه ما بقي، لا يرد على (أخته) (١) شيئًا ولا على من فوقه من أجل أنه استكمل الثلثين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس آدمی کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی دو بیٹیاں اور ایک پوتی اور ایک پڑپوتا چھوڑا کہ اس کی بیٹیوں کے لئے دو تہائی مال ہے اور باقی پڑپوتے کے لئے ہے، اس طرح کہ اس سے اوپر اور اس کے ساتھ کی بہنوں کی طرف بھی مال لوٹایا جائے گا، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی رائے میں تو ایک مرد کو دو عورتوں کے حصّوں کے برابر حصّہ دیا جائے گا، اور اس سے نیچے کے کسی شخص کی طرف مال نہیں لوٹایا جائے گا، اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق اس آدمی کی دو بیٹیوں کے لئے دو تہائی مال اور اس کے پوتے کے لئے باقی مال ہے ، باقی مال اس کی بہن پر نہیں لوٹایا جائے گا اور نہ اس پوتے سے اوپر کی کسی عورت پر کچھ لوٹایا جائے گا اس وجہ سے کہ ان بہنوں نے دو تہائی پورا وصول کرلیا ہے۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق نو کے عد د سے نکلے گا، دو تہائی مال بیٹی کے لئے ہوگا، اور تین حصّے باقی بچے، ان میں سے دو حصّے پوتے کے لئے اور ایک حصّہ بہن کے لئے ہوگا، اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق تین کے عدد سے نکلے گا، دو تہائی بیٹیوں کے لئے اور باقی مال جو ایک تہائی حصّہ ہے پوتے کے لئے ہوگا۔
حدیث نمبر: 33150
٣٣١٥٠ - قال أبو بكر: فهذه من تسعة في قول علي وزيد فيصير للابنتين الثلثان، وتبقى ثلاثة أسهم: فلابن الابن سهمان، ولأخته سهم، وفي قول عبد اللَّه من ثلاثة أسهم: للبنتين الثلثان سهمان، ولابن الابن ما بقي وهو سهم.