کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کا بیان جس نے مرتے وقت اپنی دو حقیقی بہنیں، اور علاتی بہن بھائی چھوڑے یا ایک بیٹی، بہت سی پوتیاں اور ایک پوتا چھوڑے
حدیث نمبر: 33141
٣٣١٤١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن معبد بن خالد عن مسروق عن ابن مسعود أنه كان يجعل للأخوات والبنات الثلثين ويجعل ما بقي للذكور دون الإناث (١).
مولانا محمد اویس سرور
مسروق سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بہنوں اور بیٹیوں کو دو تہائی مال دینے کے قائل تھے اور باقی مال مردوں کو دینے کے قائل تھے نہ کہ عورتوں کو، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مردوں اور عورتوں کو وراثت میں شریک کرنے کی قائل تھیں، اور دو تہائی مال کے علاوہ مال میں بھی ایک مرد کو دو عورتوں کے حصّے کے برابر دینے کی قائل تھیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33141
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33141، ترقيم محمد عوامة 31726)
حدیث نمبر: 33142
٣٣١٤٢ - وأن عائشة شركت بينهم، فجعلت ما بقي بعد الثلثين: للذكر مثل حظ الأنثيين (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33142
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33142، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 33143
٣٣١٤٣ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن حكيم (بن) (١) جابر عن زيد بن ثابت أنه قال فيها: هذا من قضاء أهل الجاهلية: يرث الرجال دون النساء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حکیم بن جابر سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس رائے کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ یہ اہل جاہلیت کے فیصلوں میں سے ہے کہ مرد وارث ہوں اور عورتیں وارث نہ ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33143
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33143، ترقيم محمد عوامة 31727)
حدیث نمبر: 33144
٣٣١٤٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن مسروق قال: كان يأخذ يقول عبد اللَّه في أخوات لأم وأبي وإخوة وأخوات لأب، (يجعل) (١) ما بقي على الثلثين للذكور دون الإناث (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے کہ مسروق حقیقی بہنوں اور علّاتی بھائیوں اور علّاتی بہنوں کے بارے میں حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی رائے رکھتے تھے، کہ دو تہائی کے علاوہ بچنے والے مال کو مردوں میں تقسیم کرنے کے قائل تھے نہ کہ عورتوں کے درمیان، چناچہ ایسا ہوا کہ وہ ایک مرتبہ مدینہ منوّرہ تشریف لے گئے اور جب واپس آئے تو ان کی رائے یہ ہوچکی تھی کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان باقی مال بھی تقسیم ہونا چاہیے، راوی کہتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے ان سے فرمایا کہ تمہیں حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی رائے سے کس نے پھیرا ؟ کیا تمہارے خیال میں ان سے بھی زیادہ باوثوق شخصیت کوئی ہے ؟ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ نہیں ! لیکن میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے ان کو پختہ علم والے حضرات میں سے پایا اس لئے میں نے ان کی اتباع کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33144
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33144، ترقيم محمد عوامة 31728)
حدیث نمبر: 33145
٣٣١٤٥ - فخرج (١) خرجه إلى المدينة، قال: فجاء وهو يرى أن يشرك بينهم، قال: فقال له علقمة: ما ردك عن قول (عبد اللَّه) (٢) ألقيت أحدا هو أثبت في نفسك منه؟ قال: فقال: لا، ولكن لقيت زيد بن ثابت فوجدته من الراسخين في العلم.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33145
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33145، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 33146
٣٣١٤٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الأعمش عن إبراهيم عن مسروق قال: قدم فقال له علقمة: ما كان ابن مسعود (بثبت؟) (١) فقال له مسروق: كلا، ولكن رأيت زيد بن ثابت وأهل المدينة يشركون (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق مدینہ منّورہ سے آئے تو ان سے علقمہ نے فرمایا کہ کیا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ باوثوق آدمی نہیں تھے ؟ تو حضرت مسروق نے فرمایا کہ ایسا ہرگز نہیں ! لیکن میں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور اہل مدینہ کو دیکھا ہے کہ وہ مردوں اور عورتوں کو مال میں شریک کرتے ہیں
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33146
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33146، ترقيم محمد عوامة 31729)
حدیث نمبر: 33147
٣٣١٤٧ - حدثنا ابن فضيل عن (بسام) (١) عن فضيل عن إبراهيم قال: لأختيه لأبيه وأمه الثلثان، ولإخوته لأبيه وأخواته ما بقي للذكر مثل حظ الأنثيين في قول علي وزيد، وفي قول عبد اللَّه (لأختيه لأبيه) (٢) وأمه الثلثان، وما بقي فللذكور من إخوته دون إناثهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ دو حقیقی بہنوں کے لئے دو تہائی حصّہ ہے اور علّاتی بھائیوں اور بہنوں کے لئے باقی مال ہے اس طرح کہ ایک مرد کے لئے دو عورتوں کے حصّے کے برابر مال ہوگا، یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی رائے ہے، اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق مرنے والے کی دو حقیقی بہنوں کے لئے دو تہائی اور باقی میت کے بہن بھائیوں میں سے صرف مردوں کے لئے ہے نہ کہ عورتوں کے لئے۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ دونوں آراء کے مطابق تین کے عدد سے حل ہوگا، بہنوں اور بیٹیوں کے لئے دو تہائی مال ہے اور جو ایک تہائی باقی بچے گا وہ بھائیوں اور بہنوں کے درمیان تقسیم ہوگا یا میت کی پوتیوں اور بیٹے کے درمیان تقسیم ہوگا کہ ایک مرد کا حصّہ دو عورتوں کے حصّے کے برابر ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33147
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33147، ترقيم محمد عوامة 31730)
حدیث نمبر: 33148
٣٣١٤٨ - قال أبو بكر: وهذه في القولين جميعًا من ثلاثة أسهم: للأخوات والبنات الثلثان، ويبقى الثلث فهو بين الأخوة والأخوات أو بين بنات ابنة وبين ابنة للذكر مثل حظ الأنثيين.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33148
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33148، ترقيم محمد عوامة ---)