حدیث نمبر: 33103
٣٣١٠٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن (سعد) (١) بن إبراهيم عن معبد الجهني عن معاوية قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من يرد اللَّه به خيرًا يفقهه في الدين" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اس کو دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 33104
٣٣١٠٤ - حدثنا يعلى عن عثمان بن حكيم عن محمد بن كعب القرظي قال: سمعت معاوية بن أبي سفيان يخطب يقول: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول على هذه الأعواد: "اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، من يرد اللَّه به خيرًا يفقهه في الدين" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان کو خطبے میں فرماتے سنا کہ ” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لکڑیوں کے اوپر تشریف فرما ہو کر ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اے اللہ ! جو آپ عطا فرمائیں اس کو کوئی روکنے والا نہیں، اور جس چیز کو آپ روک لیں اس کو کوئی دینے والا نہیں ، اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 33105
٣٣١٠٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا الأعمش عن تميم بن سلمة عن أبي عبيدة قال: قال عبد اللَّه: من يرد اللَّه به خيرًا يفقهه في الدين (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 33106
٣٣١٠٦ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي سفيان عن عبيد بن عمير قال: إذا أراد اللَّه بعبد خيرًا فقهه في الدين وألهمه رشده.
مولانا محمد اویس سرور
ابو سفیان سے روایت ہے کہ حضرت عبید بن عمیر نے ارشاد فرمایا : جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتے ہیں اور اس کے دل میں اس کی بھلائی کی بات ڈال دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 33107
٣٣١٠٧ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن محمد بن كعب قال: إذا أراد اللَّه بعبد خيرًا فقهه في الدين، وزهده في الدنيا، وبصره عيبه فمن (أوتيهن) (١) فقد ⦗٢٤٧⦘ أوتي (خير) (٢) الدنيا والآخرة.
مولانا محمد اویس سرور
موسیٰ بن عبیدہ سے روایت ہے کہ محمد بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتے ہیں اور اس کو دنیا میں بےرغبت کردیتے ہیں اور اس کو دنیا کی برائیاں دکھلا دیتے ہیں ، اور جس شخص کو یہ چیزیں دے دی گئیں اس کو دنیاو آخرت کی بھلائی مل گئی۔