کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس عورت کا بیان جس نے ایک تہائی مال کی اپنے شوہر کیلئے فی سبیل اللہ دیے جانے کی وصیت کی
حدیث نمبر: 33084
٣٣٠٨٤ - حدثنا أبو أسامة عن (الفزاري) (١) عن الأوزاعي قال: سئل الزهري عن امرأة أوصت بثلث مالها لزوجها في سبيل اللَّه؟ قال: لا يجوز إلا أن تقول: هو في سبيل اللَّه إلى زوجي يضعه حيث (يشاء) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
اوزاعی فرماتے ہیں کہ زہری سے ایک عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے اپنے ایک تہائی مال کی اپنے شوہر کو فی سبیل اللہ دینے کی وصیت کی تھی، فرمایا کہ یہ وصیت جائز نہیں، ہاں مگر اس وقت جبکہ وہ یوں کہے کہ یہ مال اللہ کے راستے میں دینے کے لئے میرے شوہر کو دیا جائے، اور وہ جہاں چاہے اسے خرچ کرے۔
حدیث نمبر: 33085
٣٣٠٨٥ - حدثنا ابن علية قال: كنت عند داود بن أبي هند فجاء رجلان أو أكثر من آل أنس بن مالك بينهم عبيد اللَّه بن أبي بكر، وجاؤوا معهم بكتاب في صحيفة ذكروا أنها وصية أنس بن مالك، ففتحت صدرها: بسم اللَّه الرحمن الرحيم -هذا ذكر ما كتب أنس بن مالك في هذه الصحيفة من أمر وصيته، إني أوصي (من) (١) تركت من أهلي (٢) بتقوى اللَّه وشكره واستمساك بحبله، وإيمان بوعده، وأوصيهم بصلاح ذات (بينهم) (٣) والتراحم والبر والتقوى، ثم أوصى - (إن) (٤) توفي- أنّ ثلث ماله صدقة إلا أن يغير وصيته قبل أن يلحق باللَّه، (ألف) (٥) في سبيل اللَّه إن كان أمر الأمة يومئذ جميعًا وفي الرقاب والأقربين، ومن سميت له العتق من رقيقي يوم (دبر مني) (٦) فأدركه العتق فإنه يقيمه ولي وصيتي في الثلث غير حرج ولا منازع (٧).
مولانا محمد اویس سرور
ابن عُلیّہ فرماتے ہیں کہ میں داؤد بن ابی ہند کے پاس تھا، کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی آل کے دو یا دو سے زیادہ آدمی آئے جن میں حضرت عبید اللہ بن ابی بکر بھی شامل تھے، اور وہ اپنے ساتھ ایک دستاویز کے اندر ایک خط بھی لائے ، اور انہوں نے یہ بتایا کہ یہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وصیت ہے، میں نے اسے کھولا تو اس میں درج تھا : ” بسم اللہ الرحمن الرحیم : یہ ذکر ہے اس وصیت کا جو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس دستاویز میں لکھی ہے، میں اپنے تمام گھر والوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ سے ڈرنے اور اس کا شکر ادا کرنے اور اس کی رسّی کو مضبوطی کے ساتھ تھامنے اور اس کے وعدے پر ایمان لانے کی وصیت کرتا ہوں، اور ان کو میں آپس میں اچھے طریقے سے رہنے اور ایک دوسرے کے ساتھ صلہ رحمی کرنے اور دوسروں ے ساتھ نیکی کرنے اور اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں، پھر انہوں نے وصیت فرمائی کہ ان کے مال کا ایک تہائی حصّہ صدقہ ہے، ہاں مگر یہ کہ وہ موت سے پہلے اپنی وصیت کو تبدیل کردیں، جس میں سے ایک ہزار اللہ کے راستے کے مجاہدین کے لئے ہے اگر اس وقت امت کا شیرازہ منتشر نہ ہو، اور غلاموں کو آزاد کرنے اور رشتہ داروں میں تقسیم کرنے کے لئے ہے، اور میرے وہ غلام جن کو میں نے اپنے بعد آزاد کردیا ہے اور اس کی آزادی کا وقت آگیا تو میری وصیت کا ذمہ دار ایک تہائی اس کو شامل کرے، اس طرح کہ کوئی پریشانی اور جھگڑا پیدا نہ کرے۔