کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کا بیان جس نے تین بیٹے چھوڑے اور کہا کہ میرا تہائی مال میرے سب سے چھوٹے بیٹے کے لئے ہے
حدیث نمبر: 33081
٣٣٠٨١ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا وضاح عن مغيرة عن حماد في رجل توفي وترك ثلاثة بنين وقال: ثلث مالي لأصغر بني، وقال الأكبر: أنا لا أجيز، وقال الأوسط: أنا أجيز، فقال: اجعلها على تسعة أسهم (يرفع) (١) (ثلاثة) (٢)، فله سهمه وسهم الذي أجازه.
مولانا محمد اویس سرور
مغیرہ سے روایت ہے کہ حضرت حماد نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا جس نے مرتے ہوئے تین بیٹے چھوڑے اور کہا کہ میرا ایک تہائی مال میرے سب سے چھوٹے بیٹے کے لئے ہے، بعد میں بڑے بیٹے نے کہا میں ایسی وصیت نافذ نہیں کرتا اور درمیان والے بیٹے نے کہا کہ میں اسے نافذ کرتا ہوں، فرمایا کہ میری رائے میں اس مال کے نو حصّے کیے جائیں، تین حصّے بڑے بیٹے کو دیے جائیں گے، اور پھر چھوٹے بیٹے کو اس کا حصّہ اور وصیت کو نافذ کرنے والے کا حصّہ دے دیا جائے گا، حماد فرماتے ہیں کہ ان سب پر وہ حصّہ لوٹایا جائے گا اور عامر فرماتے ہیں کہ جس نے وصیت کو ردّ کیا اس نے فقط اپنے حصّے میں سے ہی ردّ کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 33081
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33081، ترقيم محمد عوامة 31672)
حدیث نمبر: 33082
٣٣٠٨٢ - وقال حماد: يرد عليهم السهم جميعًا.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 33082
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33082، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 33083
٣٣٠٨٣ - وقال عامر: الذي رد إنما رد على نفسه.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 33083
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33083، ترقيم محمد عوامة ---)