کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان حضرات کا بیان جو فرماتے ہیں کہ ورثاء مال کے دوسروں سے زیادہ حق دار ہیں
حدیث نمبر: 33073
٣٣٠٧٣ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا سفيان عن (ابن) (١) أبي خالد عن حكيم بن جابر أنه قيل له في الوصية عند الموت لو اعتقت غلامك فقرأ هذه الآية: ﴿وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ﴾ [النساء: ٩].
مولانا محمد اویس سرور
ابن ابی خالد فرماتے ہیں کہ حکیم بن جابر سے موت کے وقت وصیت کے بارے میں کہا گیا کہ اگر آپ اپنے غلام کو آزاد کردیں تو کیا ہی اچھا ہو ! انہوں نے یہ آیت پڑھی { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوا عَلَیْہِمْ }۔
حدیث نمبر: 33074
٣٣٠٧٤ - حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا يزيد بن عبد العزيز عن إسماعيل عن حكيم بن جابر أنه لما حضره الموت وكان له غلام فقيل له: لو اعتقت هذا، فقال: إني لم أترك لولدي غيره قال: فأعادوا عليه لو اعتقته، فقرأ هذه الآية: ⦗٢٣٨⦘ ﴿وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً (ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ) (١)﴾ إلى قوله: ﴿سَدِيدًا﴾.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل حضرت حکیم بن جابر کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ان کی موت کا وقت آیا اور ان کا ایک غلام تھا، ان سے کہا گیا کہ اچھا ہوگا اگر آپ اس کو آزادکر دیں ، فرمانے لگے کہ میں اپنے ورثاء کے لئے اس کے علاوہ کوئی غلام چھوڑ کر نہیں جا رہا، راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے دوبارہ کہا کہ آپ آزاد کردیں تو اچھا ہوگا، چناچہ اس پر آپ نے آیت { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوا عَلَیْہِمْ … سَدِیدًا } کی تلاوت فرمائی۔
حدیث نمبر: 33075
٣٣٠٧٥ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن (نسير) (١) قال: قال رجل للربيع بن خثيم: أوس لي بمصحفك، قال فنظر إلى ابن له صغير فقال: ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ﴾ [الأنفال: ٧٥].
مولانا محمد اویس سرور
نُسیر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ربیع بن خثیم سے فرمایا کہ آپ اپنے مصحف کی میرے لئے وصیت فرما دیں ! آپ نے اپنے چھوٹے بیٹے کی طرف دیکھ کر اس آیت کی تلاوت فرمائی (بعض رشتہ دار اللہ کی کتاب میں بعض سے بڑھ کر ہیں) ۔
حدیث نمبر: 33076
٣٣٠٧٦ - حدثنا معتمر عن عاصم قال: مرض أبو العالية (فأعتق مملوكًا) (١) (له) (٢) (ثم) (٣) ذكروا (له أنه من) (٤) وراء النهر فقال: إن كان حيًا فلا أعتقه، وإن كان ميتًا فهو عتيق، وذكر هذه الآية: ﴿وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ﴾ [البقرة: ٢٦٦].
مولانا محمد اویس سرور
عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالیہ بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنا ایک غلام آزاد فرمایا جس کے بارے میں ان سے کہا گیا کہ وہ نہر پار گیا ہوا ہے، فرمایا کہ اگر وہ زندہ ہے تو میں اس کو آزاد نہیں کرتا اور اگر مرگیا ہے تو وہ آزاد ہے، اور پھر اس آیت کا ذکر فرمایا : { وَلَہُ ذُرِّیَّۃٌ ضُعَفَائُ }۔