حدیث نمبر: 33040
٣٣٠٤٠ - حدثنا ابن عليه عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: أحق تسوية النِّحَل بين الولد على كتاب اللَّه؟ قال: نعم، وقد (بلغنا) (١) ذلك عن نبي اللَّه ﷺ أنه قال: " (سويت) (٢) بين ولدك؟ " قلت: في النعمان؟ قال: وغيره زعموا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ کیا کتاب اللہ کی رُو سے بچوں کو مال دینے میں برابر ی ضروری ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے صحابی سے پوچھا تھا کہ کیا تم نے اپنے بچوں میں برابری کی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ یہ بات حضرت نعمان کے بارے میں منقول ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ محدثین فرماتے ہیں کہ کچھ اور صحابہ کے بارے میں بھی یہی بات منقول ہے۔
حدیث نمبر: 33041
٣٣٠٤١ - حدثنا عباد عن حصين عن الشعبي قال: سمعت النعمان بن بشير يقول: أعطاني أبي عطية، فقالت أمي عمرة (ابنة) (١) رواحة: فلا أرضى حتى (تشهد) (٢) رسول اللَّه ﷺ فأتى رسول اللَّه ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إني أعطيت ابن عمرة عطية، فأمرتني أن أشهدك، (فقال) (٣): "أعطيت كل ولدك مثل هذا؟ " قال: لا، قال: " (اتقوا) (٤) اللَّه، واعدلوا بين أولادكم"، قال: فرجع فرد عطيته (٥).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے والد محترم نے مجھے کچھ مال دیا تو میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے فرمایا کہ میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک آپ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ نہ بنالیں، چناچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے عمرہ کے بیٹے کو کچھ مال دیا ہے، وہ کہتی ہے کہ میں آپ کو اس پر گواہ بناؤں، آپ نے پوچھا کہ کیا تم نے اتنا مال اپنے ہر بچے کو دیا ہے ؟ وہ فرمانے لگے کہ نہیں ! آپ نے ارشاد فرمایا کہ ” اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے درمیان برابری کیا کرو “ فرماتے ہیں انہوں نے واپس آ کر اپنا مال واپس لے لیا۔
حدیث نمبر: 33042
٣٣٠٤٢ - (حدثنا) (١) ابن عليه عن الزهري عن حميد بن عبد الرحمن، وعن محمد ابن النعمان عن أبيه أن أباه نحله غلامًا وأنه أتى النبي ﷺ ليشهده، فقال: "أكل ولدك أعطيته مثل هذا؟ " قال: لا، قال: "فاردده" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن نعمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کو ایک غلام ہبہ کیا، اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تاکہ آپ کو اس بات پر گواہ بنادیں، آپ نے پوچھا کہ کیا تم نے اپنے ہر بچے کو اس طرح کا غلام ہبہ کیا ہے ؟ “ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ! آپ نے فرمایا کہ اس سے وہ غلام واپس لے لو۔
حدیث نمبر: 33043
٣٣٠٤٣ - حدثنا علي بن مسهر عن أبي حيان عن الشعبي عن النعمان بن بشير قال: انطلق بي أبي إلى النبي ﷺ ليشهده على عطية أعطانيها، قال: "لك غيره؟ " قال: نعم، قال: " (كلهم) (١) (أعطيتهم) (٢) مثل (ما) (٣) أعطيته؟ " قال: لا، قال: "فلا أشهد على جور" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی سے روایت ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ میرے والد محترم ، مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئے تاکہ آپ کو ایک ہبہ کا گواہ بنا سکیں جو انہوں نے مجھے عطا فرمایا تھا، آپ نے پوچھا ” کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ بھی کچھ مال ہے ؟ انہوں نے عرض کیا ” جی ہاں “ آپ نے پوچھا ” کیا تم نے ہر بچے کو اس جیسا مال دیا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کیا ” نہیں “ اس پر آپ نے فرمایا ” میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا “۔
حدیث نمبر: 33044
٣٣٠٤٤ - حدثنا ابن عليه عن ابن أبي نجيح قال: كان طاوس إذا سئل عنه (قرأ) (١): ﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ﴾.
مولانا محمد اویس سرور
ابن ابی نجیح فرماتے ہیں کہ جب حضرت طاوس سے اس بارے میں سوال کیا جاتا تو یہ آیت تلاوت فرماتے { أَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُونَ } (کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں )
حدیث نمبر: 33045
٣٣٠٤٥ - حدثنا ابن عليه عن معمر عن الزهري قال: قال عروة: (يرد) (١) من (حيف) (٢) الحي ما يرد من (حيف) (٣) الميت.
مولانا محمد اویس سرور
زہری سے روایت ہے کہ حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : ” جو ظلم مرنے والے کا ناقابلِ قبول ہے وہ زندہ آدمی کا بھی ناقابلِ قبول ہے۔ “
حدیث نمبر: 33046
٣٣٠٤٦ - حدثنا أبو داود عن مسمع بن ثابت عن عكرمة أنه كان يكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
مسمع بن ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ اس بات کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 33047
٣٣٠٤٧ - (١) حدثنا وكيع عن مالك بن مغول عن أبي معشر عن إبراهيم قال: كانوا يستحبون أن يعدل الرجل بين ولده حتى في (القبل) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابو معشر سے روایت ہے کہ ابراہیم نے فرمایا کہ فقہاء اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ آدمی اپنے بچوں میں برابری رکھے، یہاں تک کہ ان کا بوسہ لینے میں بھی۔
حدیث نمبر: 33048
٣٣٠٤٨ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحكم أنه كره أن يفضل الرجل بعض ولده على بعض وكان يجيزه في القضاء.
مولانا محمد اویس سرور
اشعث سے روایت ہے کہ حضرت حکم اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ آدمی کچھ بچوں کو دوسروں پر ترجیح دے، لیکن فیصلے میں اس کی اجازت بھی دے دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 33049
٣٣٠٤٩ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا مجالد (١) عن عامر عن شريح أنه قال: لا بأس أن يفضل الرجل بعض ولده على بعض.
مولانا محمد اویس سرور
عامر فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے ارشاد فرمایا کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کچھ بچوں کو دوسروں پر ترجیح دے۔
حدیث نمبر: 33050
٣٣٠٥٠ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن أبي حيان قال: حدثني أبي قال: حضر جار لشريح وله بنون، فقسم ماله بينهم لا يألو أن يعدل، ثم دعا (شريحًا) (١) فجاء فقال: (أبا أمية) (٢) إني قسمت مالي بين ولدي ولم آل وقد أشهدتك، فقال شريح: قسمة اللَّه أعدل من قسمتك، فارددهم إلى (سهام) (٣) اللَّه وفرائضه، وأشهدني وإلا فلا تشهدني (فإني) (٤) لا أشهد على جور.
مولانا محمد اویس سرور
ابو حیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت شریح کا ایک پڑوسی جس کے ایک سے زائد بچے تھے ان کے پاس آیا ، اور اپنا مال ان بچوں کے درمیان برابری کا لحاظ کیے بغیر تقسیم کردیا، پھر اس نے حضرت شریح کو بلایا، آپ گئے تو اس نے کہا اے ابو امیہ ! میں نے اپنا مال اپنے بچوں کے درمیان تقسیم کردیا ہے اور میں نے برابری کی رعایت نہیں کی، اور اب میں آپ کو گواہ بناتا ہوں، حضرت شریح نے فرمایا : ” اللہ کی تقسیم تیری تقسیم سے زیادہ انصاف والی ہے، ا س تقسیم کو ختم کر کے اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے حصّوں کے مطابق تقسیم کرو اور پھر مجھے گواہ بناؤ، ورنہ مجھے گواہ مت بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بننا چاہتا۔ “
حدیث نمبر: 33051
٣٣٠٥١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن مسروق أنه حضر رجلًا (يوصي) (١) فأوصى بأشياء لا (تنبغي) (٢) فقال مسروق: إن اللَّه قد قسم بينكم ⦗٢٣٤⦘ فأحسن، وأنه من يرغب برأيه عن رأي اللَّه يضل، أوس لذوي قرابتك ممن لا (يرثك) (٣) ثم دع المال على من قسمه اللَّه عليه.
مولانا محمد اویس سرور
مسلم روایت کرتے ہیں کہ حضرت مسروق ایک آدمی کے پاس گئے جو وصیت کر رہا تھا، اس نے کچھ نامناسب وصیتیں کیں، حضرت نے فرمایا : ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان بہت اچھی تقسیم فرما دی ہے، اور بلاشبہ جو رائے اختیار کرنے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے روگردانی کرے گا وہ گمراہ ہوجائے گا، تم اپنے قرابت داروں میں سے ان لوگوں کے لئے وصیت کردو جو تمہارے مال میں رغبت رکھتے ہیں، پھر مال کو ان لوگوں کے درمیان رہنے دو جن پر اللہ تعالیٰ نے تقسیم کیا ہے۔