کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جس کی ایک زانیہ بہن تھی ، وہ فوت ہو گئی اور ایک بچہ چھوڑ کر مری، بعد میں وہ بچہ بھی فوت ہو گیا
حدیث نمبر: 33038
٣٣٠٣٨ - حدثنا يحيى بن عيسى عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود قال: جاء رجل إلى عمر فقال له: كانت لي أخت بغي فتوفيت وتركت غلامًا، فمات وترك ذودا من الإبل؟ فقال عمر: ما أرى بينك وبينه نسبًا، أئت (بها) (١) فاجعلها في إبل الصدقة، قال: فأتى ابن مسعود فذكر ذلك له، فقام عبد اللَّه فأتى عمر فقال: ما تقول يا أمير المؤمنين؟ قال: ما أرى بينه وبينه نسبًا فقال: أليس هو خاله وولي نعمته، فقال: ما ترى؟ قال: أرى أنه أحق مسألة فردها عليه عمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
اسود فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے عرض کرنے لگا کہ میری ایک زانیہ بہن تھی ، وہ فوت ہوگئی اور اس نے ایک بچہ چھوڑا جو بعد میں فوت ہوگیا اور ترکے میں کچھ اونٹ چھوڑ کر مرا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میرے خیال میں تمہارے درمیان نسب کا کوئی رشتہ نہیں، اس لئے تم ان اونٹوں کو لا کر صدقہ کے اونٹوں میں داخل کردو، راوی فرماتے ہیں کہ وہ آدمی اس کے بعد حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے ساری بات بیان کی، چناچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اٹھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، اور فرمایا : اے امیر المؤمنین ! آپ نے اس مسئلے کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ؟ آپ نے فرمایا کہ میرے خیال میں ان دونوں کے درمیان نسب کا کوئی رشتہ نہیں، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا وہ اس بچے کا ماموں اور اس کے مال کا حق دار نہیں ؟ آپ نے پوچھا کہ تمہارا کیا خیال ہے ؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میری رائے میں وہ اس بچے کے مال کا حق دار ہے، چناچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ مال اس آدمی کو واپس لوٹا دیا۔