کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کا بیان جو اپنی بہن اور اس کے ایک بیٹے کو خریدے جس کا باپ معلوم نہ ہو، پھر اس بہن کا بیٹا مر جائے
حدیث نمبر: 33037
٣٣٠٣٧ - حدثنا ابن فضيل عن بيان عن وبرة قال: اشترى رجل أختًا له كانت سبية في الجاهلية، فاشتراها وابنًا لها لا يدري من أبوه، فشب فأصاب مالًا ثم مات فأتوا عمر فقصوا عليه القصة، فقال: خذوا ميراثه، فاجعلوه في بيت المال، ما أراه ترك ولي نعمة ولا أرى لك فريضة، فبلغ ذلك ابن مسعود فقال: (مه) (١) حتى ألقاه، فلقيه فقال: يا أمير المؤمنين، عصبة وولي نعمة؟ قال: كذا؟ قال: نعم، (فأعطاء) (٢) المال (٣).
مولانا محمد اویس سرور
وبرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی ایک بہن کو خریدا جو زمانہ جاہلیت میں قید ہوگئی تھی، اس نے اس کو اس کے ایک بیٹے سمیت خرید لیا جس کا باپ نامعلوم تھا، چناچہ وہ جوان ہوگیا، اور اس نے مال حاصل کرلیا ، پھر وہ مرگیا، لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ساری بات بیان کی، آپ نے فرمایا اس کی میراث لے کر بیت المال میں داخل کردو، میرے خیال میں اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا جو اس کے مال کا حق دار ہوتا، اور میری رائے میں تمہارے لئے کوئی میراث نہیں، یہ بات حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا : رہنے دو ! اور انہوں نے اس بات کی تردید فرما دی، اس کے بعد وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملے تو فرمایا : اے امیر المؤمنین ! وہ آدمی عصبہ ہے اور اس میت کے مال کا حق دار ہے، آپ نے پوچھا؛ ایسا ہی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! چناچہ آپ نے اس کو مال عطا فرما دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 33037
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33037، ترقيم محمد عوامة 31632)