کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کا بیان جو قید کر دیا جائے، اس کے لئے اس کے مال کی کتنی مقدار جائز ہے
حدیث نمبر: 33012
٣٣٠١٢ - حدثنا هشيم عن (حميد) (١) قال: (حُبس) (٢) إياس بن معاوية في الظنة فأرسلني فقال: انطلق إلى الحسن (فاسأله) (٣): ما حالي فيما (أُحدِث في) (٤) ⦗٢٢٥⦘ مالي على حالي هذه؟ قال: فأتيت الحسن فقلت له: إن أخاك إياسا يقرئك السلام ويقول: (مالي) (٥) فيما (أُحدِث) (٦) في يومي هذا؟ فقال الحسن: حاله حال المريض، لا يجوز له إلا الثلث.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ ایاس بن معاویہ کو ایک تہمت کی بناء پر گرفتار کرلیا گیا، انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ حسن کے پاس جا کر پوچھو کہ اس حالت میں میرے لئے اپنے مال میں سے کچھ لینے کا کیا حکم ہے ؟ کہتے ہیں کہ میں حسن کے پاس گیا اور میں نے جا کر ان سے عرض کیا کہ آپ کے بھائی ایاس آپ کو سلام کہتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ میرے لئے اپنے مال میں اس حال میں تصرف کرنا کیسا ہے ؟ حسن نے فرمایا ان کا حکم مریض کے حکم کی طرح ہے، اس لئے ان کے لئے ایک تہائی سے زیادہ مال میں تصرف جائز نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 33012
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33012، ترقيم محمد عوامة 31607)