کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس حاملہ عورت کا بیان جو وصیت کرے ، اور اس آدمی کا بیان جو جنگ میںاور سمندر کے سفر میں جاتے ہوئے وصیت کرے
حدیث نمبر: 33002
٣٣٠٠٢ - (١) حدثنا معتمر بن سليمان أنه قرأ على فضيل بن ميسرة عن (أبي حريز) (٢) عن الحكم عن مجاهد عن عمر قال: إذا التقى (الزحفان) (٣) والمرأة يضربها المخاض لا يجوز لهما في مالهما إلا الثلث (٤).
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب دو لشکروں میں لڑائی چھڑ جائے اور جب عورت حاملہ ہو تو ان کو اپنے مال کے ایک تہائی سے زیادہ میں تصرف کرنے کا حق نہیں۔
حدیث نمبر: 33003
٣٣٠٠٣ - حدثنا ابن مبارك عن هشام عن الحسن في الرجل يعطي في المزاحفة وركوب البحر والطاعون والحامل قال: ما (أعطوا) (١) فهو جائز، لا يكن (٢) من الثلث.
مولانا محمد اویس سرور
ہشام سے روایت ہے کہ حسن نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا جو جنگ کے دوران کسی کو کچھ دے دے یا سمندر کے سفر کے دوران یا طاعون کے زمانے میں، یا حاملہ عورت کسی کو کچھ دے دے، کہ جو کچھ انہوں نے دیا اس کا دینا درست ہے، اور وہ ایک تہائی مال میں شمار نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 33004
٣٣٠٠٤ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن قال: ما صنعت الحامل في شهرها فهو من الثلث.
مولانا محمد اویس سرور
اشعث سے روایت ہے کہ حسن نے فرمایا کہ حاملہ اپنے حمل کے مہینے میں مال کے اندر جو تصرف کرے وہ ایک تہائی میں سے شمار کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 33005
٣٣٠٠٥ - حدثنا هشيم عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يكون به السل والحمى وهو يجيء ويذهب، قال: (ما) (١) صنع من شيء فهو من جميع المال إلا أن يكون أضنى على فراشه.
مولانا محمد اویس سرور
عبد الملک روایت کرتے ہیں کہ حضرت عطاء نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا جس کو تپ دق یا بخار کا مرض ہو اور وہ چلتا پھرتا ہو، کہ وہ اپنے مال میں جو تصرف کرے وہ پورے مال میں سے شمار ہوگا، ہاں مگر اس صورت میں جبکہ وہ بستر پر پڑا ہوا ہو (چلنے پھرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو) ۔
حدیث نمبر: 33006
٣٣٠٠٦ - حدثنا عمر عن ابن جريج عن عطاء قال: (ما صنعت) (١) الحامل (فهو) (٢) وصية.
مولانا محمد اویس سرور
ابن جریج روایت کرتے ہیں کہ حضرت عطاء نے فرمایا کہ حاملہ مال میں جو تصرف کرے وہ وصیت سمجھی جائے گی۔
حدیث نمبر: 33007
٣٣٠٠٧ - [حدثنا وكيع حدثنا سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: الحامل وصية] (١).
مولانا محمد اویس سرور
دوسری سند سے بھی حضرت عطاء سے یہی ارشاد منقول ہے۔
حدیث نمبر: 33008
٣٣٠٠٨ - حدثنا وكيع ثنا سفيان عن جابر عن عامر (عن شريح) (١) قال: الحامل وصية.
مولانا محمد اویس سرور
عامر حضرت شریح سے بھی یہی ارشاد نقل کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 33009
٣٣٠٠٩ - حدثنا وكيع عن حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد قال: أعطت امرأتي عطاء وهي حامل (فقال القاسم بن محمد) (١): هو من جميع المال.
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ میری اہلیہ نے حمل کے زمانے میں کوئی عطیہ دیا اور اس بات کو قاسم بن محمد سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ عطیہ پورے مال سے لیا جائے گا، حماد نقل کرتے ہیں کہ یحییٰ نے فرمایا کہ ہم کہتے ہیں کہ یہ عطیہ پورے مال میں سے ہوگا جب تک اس کو درد زِہ شروع نہ ہو۔
حدیث نمبر: 33010
٣٣٠١٠ - قال حماد: قال يحيى: ونحن نقول: هو من جميع المال ما لم يضربها الطلق.
حدیث نمبر: 33011
٣٣٠١١ - حدثنا وكيع (١) ثنا إسرائيل عن جابر عن عامر قال: الحامل وصية.
مولانا محمد اویس سرور
جابر حضرت عامر سے نقل کرتے ہیں کہ حاملہ کا مال میں تصرف کرنا وصیت کے حکم میں ہے۔