کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جس کے پاس تھوڑا سا نیا مال ہو ، کیا وہ اس میں وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 32992
٣٢٩٩٢ - حدثنا. . . (١) ابن جريج عن ليث عن طاوس عن ابن عباس (قال: إذا ترك الميت سبعمائة درهم فلا يوصي) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
طاؤس سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جب مرنے والا سات سو درہم چھوڑ کر جا رہا ہو تو وصیت نہ کرے۔
حدیث نمبر: 32993
٣٢٩٩٣ - حدثنا زيد بن حباب عن (همام) (١) عن قتادة ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ﴾ [البقرة: ١٨٠]، قال: خير المال، كان يقال: ألف درهم فصاعدًا.
مولانا محمد اویس سرور
ھمام سے روایت ہے کہ حضرت قتادہ نے فرمان باری تعالیٰ {إنْ تَرَکَ خَیْرًا الْوَصِیَّۃُ } کی تشریح میں فرمایا : اس وقت لوگوں میں یہ بات معروف تھی کہ بہتر مال ایک ہزار درہم ہے۔
حدیث نمبر: 32994
٣٢٩٩٤ - حدثنا أبو خالد عن هشام عن أبيه أن عليًا دخل على رجل من بني هاشم يعوده فأراد أن يوصي فنهاه، وقال إن اللَّه يقول: ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا﴾ وإنك لم تدع مالًا فدعه لعيالك (١).
مولانا محمد اویس سرور
عروہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بنو ہاشم کے ایک آدمی کے پاس اس کی تیمارداری کے لئے آئے، وہ وصیت کرنے لگا تو آپ نے اس کو منع فرمایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ” اگر (مرنے والا) مال چھوڑے “ اور تم تو کوئی مال چھوڑ کر نہیں مر رہے، اس لئے جو ہے وہ اپنے بچوں کے لئے چھوڑ دو !۔
حدیث نمبر: 32995
٣٢٩٩٥ - حدثنا أبو معاوية عن محمد بن شريك عن ابن أبي (مليكة) (١) عن عائشة قال: قال لها رجل: إني أريد أن أوصي، قالت: كم مالك؟ قال: ثلاثة آلاف، قالت: فكم عيالك؟ قال: أربعة، (قالت) (٢): فإن اللَّه يقول: ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا﴾ وإنه شيء يسير فدعه لعيالك فإنه أفضل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ میں وصیت کرنا چاہتا ہوں ، انہوں نے پوچھا تیرے پا س کتنا مال ہے ؟ عرض کیا : تین ہزار، آپ نے پوچھا تیرے اہل و عیال کتنے افراد ہیں ؟ کہنے لگا ، چار، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے یہ شرط ذکر فرمائی ہے ” اگر مال چھوڑے “ اور تیرے پاس تو بہت معمولی سا مال ہے اس کو اپنے بچوں کے لئے چھوڑ دو ، یہی افضل ہے۔