کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان حضرات کا بیان جنہوں نے پورے مال کی وصیت کرنے کو جائز فرمایا ہے
حدیث نمبر: 32947
٣٢٩٤٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا الأعمش قال: سمعت الشعبي يقول في المسجد مرة: سمعت حديثًا ما بقي أحد سمعه غيري، سمعت عمرو بن شرحبيل يقول: قال عبد اللَّه: إنكم معشر اليمن من أجدر قوم أن يموت الرجل ولا يدع عصبة فليضع ماله حيث شاء (١).
مولانا محمد اویس سرور
اعمش فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت شعبی کو مسجد میں یہ فرماتے ہوئے سنا : میں نے ایک حدیث ایسی سنی ہوئی ہے کہ اس کے سننے والوں میں میرے علاوہ کوئی زندہ نہیں رہا، میں نے عمرو بن شرحبیل کو فرماتے ہوئے سنا : حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے یمن والو ! تم میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی مرجاتا ہے اور عصبہ بننے والے رشتہ داروں میں سے کوئی چھوڑ کر نہیں جاتا، ایسے آدمی کو اختیار ہے کہ جہاں چاہے اپنا مال لگا دے۔ اعمش فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے عرض کیا کہ شعبی نے اس طرح فرمایا ہے، ابراہیم فرمانے لگے : مجھے ھمّام بن الحارث نے عمرو بن شرحبیل کے واسطے سے حضرت عبد اللہ سے یہی بیان کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32947
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32947، ترقيم محمد عوامة 31548)
حدیث نمبر: 32948
٣٢٩٤٨ - قال الأعمش: فقلت لإبراهيم: إن الشعبي قال: كذا وكذا، قال إبراهيم: حدثني (همام) (١) بن الحارث عن عمرو بن شرحبيل عن عبد اللَّه مثله (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32948
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32948، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 32949
٣٢٩٤٩ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن ابن سيرين قال: سألت عبيدة عن رجل ليس عليه عقد وليس عليه عصبة، يوصي بماله كله؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا جس نے نہ کسی کے ساتھ کوئی معاملہ کر رکھا ہے اور نہ اس کا عصبہ بننے والا کوئی رشتہ دار زندہ ہے ، کہ کیا وہ شخص مرتے وقت پورے مال کی وصیت کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32949
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32949، ترقيم محمد عوامة 31549)
حدیث نمبر: 32950
٣٢٩٥٠ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن الشعبي عن مسروق سئل عن رجل مات ولم يترك مولى عتاقة ولا وارثًا، قال: (ماله) (١) حيث وضعه، فإن لم يكن أوصى بشيء فماله في بيت المال.
مولانا محمد اویس سرور
شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق سے ایسے آدمی کے بارے میں دریافت کیا گیا جس نے مرتے وقت آزاد کرنے والا آقا چھوڑا ہے نہ ہی کوئی وارث ، فرمانے لگے کہ حضرت سالم نے فرمایا ہے کہ اس کا مال وہیں صَرف کیا جائے گا جہاں صَرف کرنے کی اس نے وصیت کی ہو، اور اگر اس نے کوئی وصیت نہ کی ہو تو اس کا مال بیت المال میں جمع کرلیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32950
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32950، ترقيم محمد عوامة 31550)
حدیث نمبر: 32951
٣٢٩٥١ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في رجل والى رجلًا فأسلم على يديه، قال: إن شاء أوصى بماله كله.
مولانا محمد اویس سرور
یونس روایت کرتے ہیں کہ حسن رحمہ اللہ نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا جس نے کسی کے ساتھ موالات کا معاملہ کیا اور پھر اس کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا ، کہ اگر یہ آدمی بھی چاہے تو مرتے وقت اپنے پورے مال کی وصیت کرسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32951
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32951، ترقيم محمد عوامة 31551)
حدیث نمبر: 32952
٣٢٩٥٢ - حدثنا جرير عن مغيرة أن أبا العالية أوصى بميراثه لبني هاشم.
مولانا محمد اویس سرور
مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالیہ نے اپنے مال وراثت کی بنو ہاشم کے لئے وصیت کردی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32952
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32952، ترقيم محمد عوامة 31552)