کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو ایک وارث کے حصّے کے برا بر مال کی وصیت کرے جبکہ اس کے ورثاء میں مذکر اور مؤنث دونوں قسم کے لوگ ہوں
حدیث نمبر: 32908
٣٢٩٠٨ - حدثنا أبو أسامة عن عوف قال: شهدت هشام بن هبيرة قضى في رجل أوصى لأخت (له) (١) عند موته بمثل نصيب اثنين من ولده، وترك الميت بنين وبنات، فأرادت الموصى لها أن تجعل نفسها بمنزلة الذكر، وأبى الورثة أن يجعلوها إلا بمنزلة الأنثى فقضى أنها بمنزلتها، إن لم يكن (تبين) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
عوف کہتے ہیں کہ میں ہشام بن ہبیرہ کے پاس اس وقت موجود تھا جب انہوں نے ایک آدمی کے بارے میں فیصلہ کیا جس نے مرتے وقت اپنی بہن کے لئے اپنے دو بچوں کے برابر مال کی وصیت کی تھی، اور اس کے ورثاء میں بیٹے اور بیٹیاں دونوں تھے، اس بہن نے جس کے لئے وصیت کی گئی تھی یہ چاہا کہ اپنے آپ کو مذکر اولاد کے برابر قرار دے اور ورثاء چاہتے تھے کہ اس کو مؤنث اولاد کے برابر حصّہ دیں، انہوں نے فیصلہ فرمایا کہ اس بہن کو مؤ نث اولاد کے برابر سمجھا جائے گا اگر وہ واضح طور پر بیان نہ کرے۔
حدیث نمبر: 32909
٣٢٩٠٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عوف الأعرابي عن هشام بن هبيرة أنه قضى في رجل أوصى لرجل بمثل نصيب أحد ولده، وله ذكر وأنثى: أنّ له نصيب الأنثى.
مولانا محمد اویس سرور
عوف اعرابی روایت کرتے ہیں کہ ہشام بن ھبیرہ نے ایک آدمی کے بارے میں فیصلہ کیا جس نے کسی کے لئے اپنے ایک بچے کے برابر مال کی وصیت کی تھی جبکہ اس کی اولاد میں مذکر اور مؤنث دونوں ہوں، کہ اس آدمی کو لڑکی کے برابر حصّہ دیا جائے گا، ابوبکر کہتے ہیں کہ وکیع حضرت سفیان سے بھی یہی نقل کرتے ہیں کہ اس کو لڑکی کے حصّے کے برابر مال دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 32910
٣٢٩١٠ - قال: أبو بكر قال: وكيع قال سفيان: له نصيب أنثى.