کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان حضرات کا بیان جو فرماتے ہیں کہ بچے کی وصیت جائزنہیں جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے
حدیث نمبر: 32902
٣٢٩٠٢ - حدثنا حفص عن حجاج عن عطاء عن ابن عباس قال: لا يجوز عتق الصبي، ولا وصيته، ولا بيعه، ولا شراؤه، ولا طلاقه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ بچے غلام کا آزاد کرنا، اس کی وصیت اور اس کی خریدو فروخت اور اس کی طلاق درست نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32902
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32902، ترقيم محمد عوامة 31505)
حدیث نمبر: 32903
٣٢٩٠٣ - حدثنا أبو أسامة عن هشام (١) عن الحسن قال: لا تجوز وصية غلام حتى يحتلم، ولا جارية حتى تحيض.
مولانا محمد اویس سرور
ہشام روایت کرتے ہیں کہ حسن نے فرمایا کسی لڑکے کی وصیت بالغ ہونے سے پہلے درست نہیں اور کسی لڑکی کی وصیت اس کو حیض آنے سے پہلے درست نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32903
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32903، ترقيم محمد عوامة 31506)
حدیث نمبر: 32904
٣٢٩٠٤ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: وصيته ليست بجائزة إلا ما ليس [بذي (بال) (١)] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
زھری فرماتے ہیں کہ بچے کی وصیت جائز نہیں، سوائے اس مال کے جس کی بہت اہمیت نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32904
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32904، ترقيم محمد عوامة 31507)
حدیث نمبر: 32905
٣٢٩٠٥ - حدثنا عيسى بن يونس عن أبي بكر بن عبد اللَّه عن مكحول قال: سمعته يقول: إذا بلغ الغلام خمسة عشر جازت وصيته.
مولانا محمد اویس سرور
مکحول فرماتے ہیں کہ جب بچہ پندرہ سال کا ہوجائے تو اس کے لئے وصیت کرنا جائز ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32905
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32905، ترقيم محمد عوامة 31508)
حدیث نمبر: 32906
٣٢٩٠٦ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن (١) الحسن قال: لا تجوز وصيته.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے منقول ہے کہ نابالغ بچے کی وصیت جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32906
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32906، ترقيم محمد عوامة 31509)
حدیث نمبر: 32907
٣٢٩٠٧ - حدثنا أبو داود عن (المستمر) (١) بن الريان قال: حضرت (جابر) (٢) بن زيد في المسجد الجامع، وقال له زرارة بن أوفى -وهو يومئذ على القضاء-: إنه (رفع) (٣) إلي غلام أعتق عبدًا (٤)، فأنكر ذلك الأولياء، (فرأيت) (٥) أن أرد ذلك، ثم يودي الغلام حتى يشب الغلام ويحب المال، فإن شاء أن يمضي أمضى، وإن شاء أن يرد رد.
مولانا محمد اویس سرور
مستمر بن ریّان سے روایت ہے فرمایا کہ میں جامع مسجد میں حضرت جابر بن زید کے پاس تھا جبکہ ان کو حضرت زرارہ بن اوفی نے جو اس وقت قاضی تھے فرمایا کہ میرے پاس ایک نابالغ بچے کا مقدمہ آیا ہے جس نے اپنے غلام کو آزاد کردیا تھا اور اولیاء نے اس کو ماننے سے انکار کردیا تھا، میری رائے یہ ہوئی کہ اس آزادی کو ردّ کر دوں پھر بعد میں لڑکا جب بالغ ہوجائے گا اور اس کے دل میں مال کی محبت آنے لگے گی اس وقت اگر وہ لڑکا غلام کی آزادی کو نافذ کرنا چاہے تو کرلے اور اگر آزادی سے دستبردار ہونا چاہے تو ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الوصايا / حدیث: 32907
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32907، ترقيم محمد عوامة 31510)