کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو کوئی وصیت کرے اور کہے اس وصیت نامے کے اندر جو کچھ لکھا ہوا ہے تم لوگ اس کے گواہ ہو جائو!
حدیث نمبر: 32885
٣٢٨٨٥ - حدثنا ابن علية عن يونس قال: جاء رجل إلى الحسن بوصية مختومة ليشهد عليها، فقال: ما تجد في هؤلاء الناس رجلين (تثقهما) (١) تشهدهما على كتابك هذا.
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حسن کے پاس ایک وصیت نامہ لے کر آیا جو مہر بند تھا، تاکہ حسن رحمہ اللہ کو اس پر گواہ بنا لے ، حسن نے فرمایا کیا تمہیں ان لوگوں میں کوئی دو با اعتماد نہیں ملتے جن کو تم اس تحریر پر گواہ بنا سکو ؟
حدیث نمبر: 32886
٣٢٨٨٦ - حدثنا جرير عن مغيرة قال: أراه عن إبراهيم في الرجل يختم وصيته ويقول للقوم: اشهدوا على ما فيها، قال: لا (تجوز) (١) إلا إن يقرأها عليهم، أو تقرأ عليه فيقر بما فيها.
مولانا محمد اویس سرور
جریر نے مغیرہ سے روایت کیا، اور فرمایا کہ میرے خیال میں انہوں نے یہ بات ابراہیم سے نقل کی ہے، کہ انہوں نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا جس نے اپنے وصیت نامے کو مہر بند کیا اور لوگوں سے کہتا ہے کہ اس میں جو کچھ لکھا ہوا ہے اس پر گواہ ہو جاؤ ! کہ یہ جائز نہیں ہے یہاں تک کہ ان کو وہ وصیت پڑھ کر سنائے، یا اس آدمی کے سامنے وہ وصیت نامہ پڑھا جائے اور وہ اس تحریر کا اقرار کرے۔
حدیث نمبر: 32887
٣٢٨٨٧ - حدثنا (زيد بن الحباب) (١) عن حماد بن زيد عن أيوب عن أبي قلابة في الرجل يقول: اشهدوا على ما في هذه الصحيفة، قال: لا، حتى يُعلم ما فيها.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب حضرت قلابہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں جس نے وصیت نامہ لکھا اور کہتا ہے : گواہ ہو جاؤ اس وصیت نامے کی تحریر پر، فرمایا کہ جائز نہیں جب تک وہ لوگوں کو اس میں لکھی ہوئی وصیت بتا نہ دے۔
حدیث نمبر: 32888
٣٢٨٨٨ - حدثنا ابن مهدي عن عبد اللَّه بن عمر عن سعيد بن زيد قال: ذهبت مع حفص بن عاصم إلى سالم وقد ختم وصيته فقال: إن حدث (بي) (١) (حادث) (٢) فاشهدوا عليها.
مولانا محمد اویس سرور
سعید بن زید فرماتے ہیں کہ میں حفص بن عاصم کے ساتھ حضرت سالم کے پاس گیا جبکہ انہوں نے اپنے وصیت نامے کو مہر بند کردیا تھا، فرمایا اگر مجھے موت آجائے تو تم اس وصیت نامے پر گواہ ہوجانا۔
حدیث نمبر: 32889
٣٢٨٨٩ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن حماد بن سلمة عن قتادة عن عبد الملك ابن يعلى قاضي البصرة في الرجل يكتب وصيته ثم يختمها ثم يقول: اشهدوا على ما فيها، قال: جائز (٢).
مولانا محمد اویس سرور
قتادہ سے روایت ہے کہ بصرہ کے قاضی عبد الملک بن یعلیٰ نے فرمایا ا س آدمی کے بارے میں جو وصیت نامے کو لکھ کر مہر لگا دے اور پھر لوگوں سے کہے کہ اس میں جو لکھا ہوا ہے اس پر گواہ ہو جاؤ ! کہ ایسا کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 32890
٣٢٨٩٠ - حدثنا (عباد) (١) عن روح بن القاسم عن عبد اللَّه بن أبي بكر بن عمرو ابن حزم عن أبيه قال: كان غلام من غسان بالمدينة، وكان له ورثة بالشام، وكانت له عمة بالمدينة، فلما حضر أتت عمر بن الخطاب فذكرت ذلك له وقالت: أفيوصي قال (احتلم بعد) (٢)، قال: قلت: لا، (قال: فليوصِ) (٣) قال: فأوصى لها بنخل، فبعته أنا لها بثلاثين ألف درهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابوبکر بن عمرو بن حزم فرماتے ہیں کہ غسان کا ایک نوجوان لڑکا مدینہ میں رہتا تھا جس کے ورثاء شام میں رہتے تھے اور اس کی ایک پھوپھی مدینہ منورہ میں تھی، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس کی پھوپھی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، اور اس کی حالت کا ذکر کر کے پوچھا کہ کیا وہ لڑکا کوئی وصیت کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : کیا وہ بالغ ہوگیا ہے ؟ کہتے ہیں میں نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : پھر وہ وصیت کرسکتا ہے، کہتے ہیں اس لڑکے نے اپنی پھوپھی کے لئے ایک نخلستان کی وصیت کی ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے وہ نخلستان اس عورت کے لئے تیس ہزار درہم میں بیچا۔
حدیث نمبر: 32891
٣٢٨٩١ - حدثنا أبو عاصم عن الأوزاعي عن الزهري أن عثمان أجاز وصية ابن إحدى عشرة سنة (١).
مولانا محمد اویس سرور
زہری سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے گیارہ سالہ لڑکے کی وصیت کو نافذ فرمایا۔
حدیث نمبر: 32892
٣٢٨٩٢ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أن عمر بن عبد العزيز أجاز وصية الصبي.
مولانا محمد اویس سرور
زہری ہی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے بچے کی وصیت کو نافذ فرمایا۔
حدیث نمبر: 32893
٣٢٨٩٣ - حدثنا عبد الوهاب عن أيوب عن محمد (أن) (١) عبد اللَّه بن عتبة (٢) ⦗٢٠٢⦘ سئل عن وصية جارية صغروها وحقروها فقال: من أصاب الحق (أجزناه) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عتبہ سے ایک بچی کی وصیت کے بارے میں سوا ل کیا گیا جس کو لوگوں نے کم عمر اور حقارت کے انداز میں بیان کیا تھا آپ نے فرمایا : جس شخص نے حق کے مطا بق وصیت کی اس کو اجر دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 32894
٣٢٨٩٤ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن أبي بكر بن أبي موسى قال: أوصى ابن لأبي موسى غلام صغير بوصية، فأراد إخوته أن يردوا وصيته، فارتفعوا إلى شريح فأجاز وصية الغلام.
مولانا محمد اویس سرور
ابوبکر بن ابی موسیٰ سے روایت ہے کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ایک کم عمر بیٹے نے وصیت کردی، اس کے بھائیوں نے چاہا کہ اس کی وصیت کو ختم کردیں ، اس کے لئے قاضی شریح کی عدالت میں مرافعہ کیا تو انہوں نے اس بچے کی وصیت کو نافذ فرما دیا۔
حدیث نمبر: 32895
٣٢٨٩٥ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن هشام عن حماد عن إبراهيم قال: (تجوز) (١) وصية الصبي في ماله في الثلث فما دونه.
مولانا محمد اویس سرور
حماد سے روایت ہے کہ ابراہیم نے فرمایا : بچے کی اپنے مال میں ایک تہائی پا اس سے کم میں وصیت جائز ہے۔
حدیث نمبر: 32896
٣٢٨٩٦ - حدثنا ابن إدريس عن مطرف عن الشعبي قال: قلت له: تجوز وصيته؟ قال: جائز.
مولانا محمد اویس سرور
مطرف سے روایت ہے کہتے ہیں شعبی سے میں نے سوال کیا : کیا بچے کی وصیت جائز ہے ؟ فرمایا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 32897
٣٢٨٩٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمارة قال: سمعت أبا عمرو بن (الأجدع) (١) قال: اختصم إلى علي ظئر غلام، فأمر علي أن (نعتقه) (٢) فأعتقناه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
عُمارہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو عمر بن اجدع کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بچے کی دایہ کا شوہر مقدمہ لے کر آیا ، آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کردیں، چناچہ ہم نے اسے آزاد کردیا۔
حدیث نمبر: 32898
٣٢٨٩٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل عن الشعبي عن شريح أنه قال في وصية الصبي: أيما موص أوصى فأصاب حقا جاز.
مولانا محمد اویس سرور
شعبی سے روایت ہے کہ حضرت شریح نے بچے کی وصیت کے بارے میں فرمایا کہ جس وصیت کرنے والے نے کوئی درست وصیت کی وہ نافذ ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 32899
٣٢٨٩٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا يونس بن أبي إسحاق عن أبيه أن (صبيًا) (١) ⦗٢٠٣⦘ أوصى (لظئر) (٢) له من أهل الحيرة بأربعين درهما فأجازه شريح.
مولانا محمد اویس سرور
ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک بچے نے اپنے حیرہ کے علاقے کی ایک دایہ کے لئے چالیس درہم کی وصیت کی، قاضی شریح نے اس وصیت کو نافذ فرما دیا۔
حدیث نمبر: 32900
٣٢٩٠٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا يونس بن أبي إسحاق عن أبيه عن شريح قال: إذا اتقى الصبي (الركي) (١) أن يقع فيها فقد جازت وصيته.
مولانا محمد اویس سرور
ابو اسحاق سے روایت ہے کہ قاضی شریح نے فرمایا : جب بچہ اتنا بڑا ہوجائے کہ کنویں کی منڈیر پر اس خوف سے نہ جائے کہ کنویں میں گرجائے گا تو اس کی کی گئی وصیت نافذ ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 32901
٣٢٩٠١ - حدثنا وكيع قال: ثنا زكريا عن الشعبي قال: لا تجوز وصية غلام ولا جارية حتى (يصلي) (١).
مولانا محمد اویس سرور
زکریا سے روایت ہے کہ شعبی نے فرمایا کہ کسی لڑکے یا لڑکی کی وصیت جائز نہیں یہاں تک کہ وہ نماز کی عمر کو پہنچ جائیں۔