کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو کوئی وصیت کر دے پھر اس وصیت کو بدلنا چاہے
٣٢٨٤٦ - حدثنا يحيى بن سعيد عن حسين المعلم عن عمرو بن شعيب عن عبد اللَّه بن الحارث بن أبي ربيعة أو الحارث (بن عبد اللَّه) (١) بن أبي ربيعة قال: قلت لعمر: شيء يصنعه أهل اليمن يوصي الرجل ثم يغير وصيته، قال: ليغير ما شاء من وصيته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
عبد اللہ بن حارث بن ابی ربیعہ یاحارث بن عبد اللہ بن ابی ربیعہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اہل یمن یہ کام کرتے ہیں کہ آدمی کوئی وصیت کردیتا ہے پھر اپنی وصیت کو بدل دیتا ہے، آپ نے فرمایا آدمی کو اختیار ہے کہ اپنی وصیت میں تبدیلی کرے۔
٣٢٨٤٧ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن مجاهد قال: قال عمر: ما أعتق الرجل في مرضه من رقيقه فهي وصية، إن شاء رجع فيها (١).
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آدمی اپنے مرض الموت میں جو غلام آزاد کرتا ہے وہ وصیت کے حکم میں داخل ہے اگر چاہے تو رجوع بھی کرسکتا ہے۔
٣٢٨٤٨ - حدثنا حفص عن ابن جريج عن عطاء قال: يغيرالرجل من وصيته ما شاء إلا (العتاقة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابن جریج سے روایت ہے کہ عطاء نے فرمایا : آدمی اپنی وصیت میں جو تبدیلی چاہے کرسکتا ہے سوائے غلاموں کی آزادی کے۔
٣٢٨٤٩ - حدثنا (عبد الرحمن بن محمد المحاربي) (١) عن الشيباني عن الشعبي قال: كل وصية إن شاء رجع فيها (غير) (٢) العتاقة.
مولانا محمد اویس سرور
شیبانی روایت کرتے ہیں کہ حضرت شعبی نے فرمایا : آدمی اپنی وصیت میں جو تبدیلی چاہے کرسکتا ہے سوائے غلاموں کی آزادی کے۔
٣٢٨٥٠ - حدثنا ابن (مهدي) (١) عن حماد بن سلمة عن حجاج عن الحكم عن إبراهيم قال: إذا أوصى الرجل (بوصايا وأعتق غلامًا) (٢) له: إن حدث به حدث ⦗١٩٣⦘ الموت، قال: لا يرجع (في) (٣) (العتق، ليس العتق كسائر الوصية) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حکم سے روایت ہے کہ ابراہیم نے فرمایا : جب آدمی بہت سی وصیتیں کر دے اور اپنے غلام کو بھی آزاد کر دے اس شرط پر کہ اگر اس کو موت آگئی تو وہ آزاد ہیں، تو غلاموں کی آزادی میں وہ رجوع نہیں کرسکتا ، کیونکہ غلام کی آزادی دوسری وصیتوں کی طرح نہیں ہے۔
٣٢٨٥١ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن قال: إذا أوصى الرجل فإنه يغير (من) (١) وصيته ما شاء، قيل له: فالعتاقة؟ قال: العتاقة وغير العتاقة، وإنما يؤخذ بآخرها.
مولانا محمد اویس سرور
ہشام روایت کرتے ہیں کہ حسن رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا جب کوئی آدمی وصیت کرے تو اپنی وصیت میں جو تبدیلی چاہے کرسکتا ہے، پوچھا گیا : غلاموں کی آزادی کی وصیت کا بھی یہی حکم ہے ؟ فرمایا غلاموں کی آزادی اور دوسری وصیتوں کا یہی حکم ہے، صرف اس آدمی کی آخری وصیت کو نافذ کیا جائے گا۔
٣٢٨٥٢ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عمرو بن دينار عن طاوس أنه كان لا يرى بأسًا أن يعود الرجل في عتاقته.
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن دینار روایت کرتے ہیں کہ حضرت طاؤس اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی مرض الموت میں آزاد کیے ہوئے غلاموں کی آزادی میں رجوع کرلے۔
٣٢٨٥٣ - حدثنا معتمر عن عاصم قال: مرض أبو العالية فأعتق مملوكا له ذكروا (له) (١) أنه من وراء النهر، فقال: إن كان حيًا فلا أعتقه، وإن كان ميتًا فهو عتيق، وذكر هذه الآية: ﴿وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ﴾.
مولانا محمد اویس سرور
عاصم فرماتے ہیں کہ ابو العالیہ بیمار ہوگئے اور انہوں نے ایک غلام آزاد کردیا، لوگوں نے ان کو بتایا کہ وہ نھر سے آگے گیا ہوا ہے فرمایا اگر وہ زندہ ہے تو میں اس کو آزاد نہیں کرتا اور اگر وہ مرگیا ہے تو آزاد ہے، اور پھر اس آیت کی تلاوت کی { وَلَہُ ذُرِّیَّۃٌ ضُعَفَائُ } ( اور اس کی کمزور اولاد ہے) ۔
٣٢٨٥٤ - (حدثنا) (١) عبد الأعلى عن هشام عن محمد قال: كانوا يوصون، فيكتب الرجل في وصيته: إن حدث بي حدث قبل أن أغير وصيتي هذه، فإن بدا له أن يغير غيّر إن شاء: العتاقة وغيرها، فإن لم يستثن في وصيته غير منها ما شاء غير العتاقة.
مولانا محمد اویس سرور
ہشام سے روایت ہے کہ محمد نے فرمایا لوگ اس طرح وصیت کیا کرتے تھے کہ آدمی اپنی وصیت میں لکھتا کہ ” اگر مجھے موت آگئی قبل ازیں کہ میں اپنی وصیت میں تبدیلی کروں “ اگر اس کو تبدیلی کی ضرورت محسوس ہو تو تبدیلی کرسکتا ہے چاہے غلام کی آزادی کی وصیت ہو یا اور کوئی، اور اگر اس نے وصیت میں کوئی شرط نہیں لگائی تھی تب بھی وصیت میں تبدیلی کرسکتا ہے سوائے غلام کی آزادی کے۔
٣٢٨٥٥ - حدثنا ابن علية عن روح بن القاسم عن ابن أبي نجيح عن مجاهد كان يقسم عليه قسمًا: أن المعتَق عن دبر (وصية) (١)، وأن للرجل أن يغير من وصيته ما شاء.
مولانا محمد اویس سرور
ابن ابی نجیح سے روایت ہے کہ مجاہد رحمہ اللہ اس بات پر قسم کھایا کرتے تھے کہ جس غلام کو مرنے کے بعد آزاد کیا جائے اس کی آزادی وصیت کے حکم میں ہے، اور آدمی کو اپنی وصیت میں تبدیلی کا اختیار ہے اگر اس کا جی چاہے۔
٣٢٨٥٦ - حدثنا سعيد بن خثيم عن حنظلة عن طاوس قال: يرجع مولى المدبر (١) متى شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حنظلہ روایت کرتے ہیں کہ طاؤس نے فرمایا کہ مدبَّر غلام کا آقا جب چاہے اس کی آزادی سے رجوع کرسکتا ہے۔