کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان اسلاف کے فرمان جو فرماتے ہیں کہ رشتہ داروں میں وصیت کو نافذ کیا جائے
حدیث نمبر: 32822
٣٢٨٢٢ - حدثنا معتمر عن حميد عن الحسن في رجل يوصي للأباعد ويترك الأقارب، قال: تجعل وصيته ثلاثة أثلاث: للأقارب ثلثان، وللأباعد ثلث.
مولانا محمد اویس سرور
حمید حسن سے روایت کرتے ہیں اس آدمی کے بارے میں جو دور کے رشتہ داروں کے لئے وصیت کر دے اور قریبی رشتہ داروں کو چھوڑ دے، آپ نے فرمایا کہ اس کے وصیت شدہ مال کے تین حصّے کیے جائیں، قریبی رشتہ داروں کے لئے دو تہائی اور دور کے رشتہ داروں کے لئے ایک تہائی۔
حدیث نمبر: 32823
٣٢٨٢٣ - حدثنا الضحاك عن ابن جريج عن ابن طاوس عن أبيه قال: كان لا يرى الوصية (إلا) (١) لذوي الأرحام أهل الفقر، فإن أوصى بها لغيرهم (انتزعت) (٢) منهم فردت إليهم، فإن لم يكن فيهم فقراء فلأهل الفقر (ما) (٣) كانوا وإن (سمى) (٤) أهلها (الذين أوصى) (٥) لهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابن طاؤس فرماتے ہیں کہ طاؤس حاجت مندوں ذوی الأرحام رشتہ داروں کے علاوہ کسی کے لئے وصیت کرنے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، اور یہ رائے رکھتے تھے کہ اگر کوئی ان کے علاوہ کسی کے لئے وصیت کرے تو ان سے مال لے کر ذوی الأرحام رشتہ داروں کو دلایا جائے گا، اور اگر ذوی الأرحام رشتہ داروں میں حاجت مند نہ ہوں تو وصیت کا مال فقراء میں تقسیم کیا جائے گا چاہے وہ کوئی بھی ہوں، اگرچہ وصیت کرنے والے نے ان لوگوں کا نام بھی لیا ہو جن کے لئے وصیت ہے۔
حدیث نمبر: 32824
٣٢٨٢٤ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن عطاء بن أبي ميمونة قال: سألت (العلاء) (١) بن زياد ومسلم بن يسار عن الوصية، فدعا بالمصحف (فقرأ) (٢): ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ (لِلْوَالِدَيْنِ) (٣) وَالْأَقْرَبِينَ﴾ [البقرة: ١٨٠]، قالا: هي للقرابة.
مولانا محمد اویس سرور
عطاء بن أبی میمونہ فرماتے ہیں کہ میں نے علاء بن زیاد اور مسلم بن یسار سے وصیت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے قرآن پاک منگوایا اور آیت {إنْ تَرَکَ خَیْرًا الْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْنِ وَالأَقْرَبِینَ } پڑھی ، اور پھر فرمایا کہ وصیت رشتہ داروں کے لئے ہے۔
حدیث نمبر: 32825
٣٢٨٢٥ - حدثنا ابن مهدي عن همام (عن) (١) قتادة عن الحسن وعبد الملك بن يعلى قالا: ترد على قرابته.
مولانا محمد اویس سرور
قتادہ روایت کرتے ہیں کہ حسن اور حضرت عبد الملک بن یعلیٰ نے فرمایا کہ وصیت رشتہ داروں کی طرف لوٹا دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 32826
٣٢٨٢٦ - حدثنا حفص عن حميد عن أنس أن أبا طلحة (أتى) (١) النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إني جعلت حائطي للَّه، ولو استطعت أن أخفيه لم أظهره، فقال النبي ﷺ: "اجعله في فقراء أهلك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حمید حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں نے اپنا باغ اللہ کے نام پردے دیا، اور اگر میں اس بات کو چھپا سکتا تو اس کو ظاہر نہ کرتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس باغ کو اپنے حاجت مند قرابت داروں میں تقسیم کردو۔