کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو اپنے مال کے ایک تہائی حصّے کی غیر رشتہ داروں کے لئے وصیت کرے ، اور ان حضرات کا ذکر جو اس کو جائز قرار دیتے ہیں
حدیث نمبر: 32813
٣٢٨١٣ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن محمد قال: قال عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن معمر: في الوصية من سمى: جعلناها حيث سمى، ومن قال: حيث أمر اللَّه: جعلناها في قرابته.
مولانا محمد اویس سرور
محمد روایت کرتے ہیں کہ عبید اللہ بن عبد اللہ بن معمر نے وصیت کے بارے میں فرمایا جس شخص نے وصیت کرتے ہوئے آدمی کا نام لیا تو ہم اس آدمی کو اس کا مال دلا دیں گے جس کا اس نے وصیت میں نام لیا، اور جس نے اس طرح وصیت کی جہاں اللہ کا حکم ہے وہیں خرچ کردیا جائے تو ہم اس کے قرابت داروں کو مال دلائیں گے۔
حدیث نمبر: 32814
٣٢٨١٤ - حدثنا (معتمر) (١) عن أبيه عن الحسن في الرجل يوصي للأباعد ويترك الأقارب، قال: تجعل وصيته ثلاثة أثلاث: للأقارب ثلثان، وللأباعد ثلث.
مولانا محمد اویس سرور
معتمر اپنے والد سے وہ حسن سے اس آدمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو دور کے رشتہ داروں کے لئے وصیت کرے اور قریب کے رشتہ داروں کو چھوڑ دے، فرمایا کہ اس کے وصیت شدہ مال کو تین حصّوں میں تقسیم کیا جائے گا ، قریبی رشتہ داروں کے لئے دو تہائی، اور دور کے رشتہ داروں کے لئے ایک تہائی، اور محمد بن کعب فرماتے تھے کہ یہ تو اللہ کا دیا ہوا مال ہے جہاں اس کا جی چاہے خرچ کرے۔
حدیث نمبر: 32815
٣٢٨١٥ - وأما محمد بن كعب (فقال) (١): إنما هو مال، أعطاه اللَّه، يضعه حيث أحب.
حدیث نمبر: 32816
٣٢٨١٦ - حدثنا معتمر عن حميد عن ابن سيرين قال: ضعوها حيث أمر بها.
مولانا محمد اویس سرور
حُمید محمد بن سیرین کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ وصیت کرنے والے نے جس جگہ وصیت کے مال کو خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اسی جگہ اسے خرچ کرو۔
حدیث نمبر: 32817
٣٢٨١٧ - حدثنا ابن مهدي عن (همام) (١) (أن) (٢) قتادة سئل عن الرجل يوصي لغير قرابته، قال: كان سالم وسليمان بن يسار وعطاء يقولون: (هي) (٣) لمن (أوصى) (٤) له بها.
مولانا محمد اویس سرور
ھمام سے روایت ہے کہ قتادہ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو ان لوگوں کے لیے وصیت کرتا ہے جن کا اس سے کوئی رشتہ نہیں، فرمایا کہ سالم، سلیمان بن یسار اور عطاء فرمایا کرتے تھے کہ وہ مال اس کو دیا جائے گا جس کے لئے اس نے اس مال کی وصیت کی۔
حدیث نمبر: 32818
٣٢٨١٨ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عطاء قال: قلت: أوصى (إنسان) (١) في سبيل اللَّه (وفي المساكين) (٢) وترك قرابة محتاجين، قال: وصيته حيث أوصى بها.
مولانا محمد اویس سرور
ابن جریج عطاء سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے مجاہدین اور مسکینوں کے لئے وصیت کی لیکن اس کے رشتہ داروں میں بہت سے حاجت مند لوگ ہیں، فرمایا کہ اس کی وصیت وہیں نافذ کی جائے گی جہاں اس نے کی ہے۔
حدیث نمبر: 32819
٣٢٨١٩ - حدثنا (الضحاك بن مخلد) (١) عن ابن جريج عن ابن أبي مليكة قال: أمرهم بأمر، فإن خالفوا جاز و (بئس ما صنعوا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابن جریج روایت کرتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ نے فرمایا کہ وصیت کرنے والے نے وصیت کے ذمہ داروں کو یہ حکم دیا ہے، اگر وہ اس حکم کی مخالفت کریں تب بھی نافذ تو ہوجائے گی لیکن ان کا یہ فعل برا ہوگا، اور حضرت عطاء فرمایا کرتے تھے کہ قرابت دار زیادہ حق دار ہیں۔
حدیث نمبر: 32820
٣٢٨٢٠ - و (قد كان) (١) عطاء قال: ذو القرابة أحق بها.
حدیث نمبر: 32821
٣٢٨٢١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن جابر عن عامر قال: للرجل ثلثه يطرحه في البحر (إن شاء) (١).
مولانا محمد اویس سرور
جابر حضرت عامر سے روایت کرتے ہیں، فرمایا کہ آدمی کو اپنے تہائی مال کا اختیار ہے، چاہے تو اس کو سمندر میں پھینک دے۔