کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جس کے کچھ گھر ہوں، اور وہ ان کے ایک تہائی حصّے کی وصیت کرے ، کیا ان جگہوں کو ایک جگہ سے جمع کر کے وصیت میں دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 32792
٣٢٧٩٢ - (١) حدثنا حماد بن خالد عن عبد اللَّه بن جعفر عن سعد بن إبراهيم قال: سألت القاسم عن رجل كانت له مساكن فأوصى بثلث كل مسكن له، قال: (يخرج) (٢) حتى يكون في مسكن واحد.
مولانا محمد اویس سرور
سعد بن ابراہم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم سے اس آدمی کے بارے میں دریافت کیا جس کے کچھ گھر تھے، پھر اس نے ہر گھر کے ایک تہائی کی وصیت کردی، آپ نے فرمایا : اس پورے حصّے کو ایک مکان سے نکال کردیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 32793
٣٢٧٩٣ - حدثنا يعلى عن عبد الملك عن عطاء في رجل أوصى بثلث ماله وأشياء سوى ذلك، وترك دارًا (تكون) (١) ثلثها أيعطاها الوصى له بالثلث، قال: لا، ولكن يعطى بالحصة من المال والدار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے اس آدمی کے بارے میں روایت ہے جس نے ایک تہائی مال اور اس کے علاوہ کچھ اشیاء کی وصیت کی ، اور ایک گھر چھوڑ کر مرا جو اس کے مال کا ایک تہائی ہوتا ہے، ان سے پوچھا گیا کیا جس آدمی کے لئے وصیت کی گئی ہے اسے وہ گھر ایک تہائی حصّے میں دیا جاسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں، بلکہ اس کو مال اور گھر دونوں کا ایک حصّہ دیا جائے گا۔