کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: یہ باب ہے اس آدمی کے بیان میں جو کسی کے لئے ایک تہائی مال کی وصیت کرے پھر مرنے سے پہلے وصیت کے بعد کچھ مال اسے مزید حاصل ہو جائے
حدیث نمبر: 32779
٣٢٧٧٩ - (١) حدثنا هشيم عن مغيرة (٢) عن إبراهيم في رجل أوصى لرجل بثلث ماله، وأفاد مالًا قبل أن يموت ثم مات، قال: له الثلث الذي أوصى له، وله ثلث ما أفاد.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے اس آدمی کے بارے میں روایت ہے جو کسی کے لئے اپنے ایک تہائی مال کی وصیت کرے اور پھر مرنے سے پہلے اس کا مال بڑھ جائے ، پھر مرجائے، فرمایا : اس شخص کو جس کے لئے وصیت کی گئی ہے اس کے پہلے مال کا ایک تہائی حصّہ ہے اور اس کے ساتھ اس نئے حاصل شدہ مال کا ایک تہائی حصّہ ہے۔
حدیث نمبر: 32780
٣٢٧٨٠ - (١) حدثنا حفص عن سعيد عن قتادة عن خلاس عن علي في رجل أوصى بثلث ماله وقتل خطأ، قال: الثلث داخل في ديته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
خلاس حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اس آدمی کے بارے میں جس نے اپنے ایک تہائی مال کی وصیت کی پھر غلطی سے قتل ہوگیا، فرمایا : ایک تہائی کی وصیت اس کی دیت میں بھی جائے گی۔
حدیث نمبر: 32781
٣٢٧٨١ - حدثنا حفص عن أشعث عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: له ثلث ماله، (وثلث ديته) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حارث حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اس آدمی کو اس وصیت کرنے والے کا ایک تہائی اور اس کی دیت کا بھی ایک تہائی دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 32782
٣٢٧٨٢ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن الحسن في الرجل (إذا) (١) ⦗١٧٩⦘ أوصى بثلث ماله (فقتل) (٢) خطأ، قال: يدخل ثلث الدية في ثلث ماله.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت ہے جس نے اپنے ایک تہائی مال کی وصیت کی پھر غلطی سے قتل ہوگیا، آپ نے فرمایا : دیت کا ایک تہائی اس کے مال کے ایک تہائی میں داخل ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 32783
٣٢٧٨٣ - حدثنا عباد عن أشعث عن الشعبي قال: أهل الوصية شركاء في الوصية، إن زادت وإن نقصت.
مولانا محمد اویس سرور
اشعث، حضرت شعبی سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : وصیت کے مالک وصیت کے مال میں شریک ہوں گے چاہے وہ بڑھے یا گھٹے، أشعث فرماتے ہیں کہ میں نے یہ بات محمد بن سیرین سے بیان کی تو انہوں نے اس کو پسند کیا۔
حدیث نمبر: 32784
٣٢٧٨٤ - قال: فأخبرت به ابن سيرين فأعجبه ذلك.
حدیث نمبر: 32785
٣٢٧٨٥ - حدثنا زيد بن الحباب عن ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب عن عمر ابن عبد العزيز في رجل أوصى لرجل بوصية ثم جاءه مال أو أفاد مالًا، قال: لا يدخل (فيه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
یزید بن ابی حبیب حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں اس آدمی کے بارے میں جس نے کسی کے لئے کوئی وصیت کی ، پھر اس کے پاس مال آگیا، فرمایا کہ وہ اضافی مال اس وصیت میں داخل نہیں ہوگا۔