حدیث نمبر: 32446
٣٢٤٤٦ - حدثنا أبو أسامة عن موسى بن مسلم قال: حدثنا ابن سابط قال: كان عبد اللَّه بن رواحة يأخذ بيد النفر من أصحابه فيقول: تعالوا (نؤمن) (١) ساعة، تعالوا فلنذكر اللَّه ونزدد إيمانًا، تعالوا نذكره بطاعته لعله يذكرنا بمغفرته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہاپنے اصحاب میں سے چند لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر فرماتے ! آؤ ہم کچھ دیر کے لیے ایمان و یقین کی باتیں کریں۔ آؤ پس ہم اللہ کا ذکر کر کے ایمان میں اضافہ کریں۔ آؤ ہم اس کی اطاعت کا ذکر کریں تاکہ وہ بھی ہمارا ذکر کرے مغفرت کرتے ہوئے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32446
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32446، ترقيم محمد عوامة 31065)
حدیث نمبر: 32447
٣٢٤٤٧ - حدثنا يزيد (بن هارون) (١) (قال) (٢): أخبرنا العوام بن حوشب عن أبي صادق عن علي قال: إن (الإسلام) (٣) ثلاث أثافي: الإيمان والصلاة والجماعة، فلا تقبل صلاة إلا (بإيمان) (٤)، ومن آمن صلى ومن صلى جامع، ومن فارق الجماعة قيد شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صادق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اسلام کے تین پائے ہیں : ایمان، نماز اور جماعت۔ پس نماز بغیر ایمان کے قبول نہیں ہوگی۔ اور جو ایمان لایا وہ نماز پڑھے گا، اور جو نماز پڑھے گا وہ جماعت کے ساتھ ہوگا۔ اور جو شخص جماعت سے ایک بالشت فاصلہ جتنا بھی جدا ہوگیا تو اس نے اسلام کا ہار اپنے گلے سے اتار دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32447
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32447، ترقيم محمد عوامة 31066)
حدیث نمبر: 32448
٣٢٤٤٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن مطرف عن حسان بن عطية عن أبي أمامة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الحياء والعي شعبتان من الإيمان" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ باھلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حیا اور کم بولنا دونوں حیا کے شعبے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32448
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32448، ترقيم محمد عوامة 31067)
حدیث نمبر: 32449
٣٢٤٤٩ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن محارب بن دثار عن ابن بريدة (١) قال: وردنا بالمدينة فأتينا عبد اللَّه بن عمر فقلنا: يا أبا عبد الرحمن إنا نمعن في ⦗٥٥⦘ الأرض فنلقى قومًا يزعمون أن لا قدر، فقال: من المسلمين ممن يصلي إلى القبلة (قلنا: نعم ممن يصلي إلى القبلة) (٢)، قال: فغضب حتى وددت أني لم أكن سألته، ثم قال: إذا لقيت أولئك فأخبرهم أن عبد اللَّه بن عمر منهم بريء وأنهم (منه) (٣) برآء، ثم قال: إن شئت حدثتك عن رسول اللَّه ﷺ، فقال: أجل، فقال: كنا عند رسول اللَّه ﷺ (فأتاه) (٤) رجل جيد الثياب طيب الريح حسن الوجه فقال: يا رسول اللَّه ما الإسلام؟ قال رسول اللَّه ﷺ: "تقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت وتغتسل من الجنابة"، قال: صدقت (٥)، فما الإيمان؟ (قال) (٦) رسول اللَّه ﷺ: "تؤمن باللَّه واليوم الآخر، والملائكة، والكتاب، والنبيين، وبالقدر كله خيره وشره وحلوه ومره"، قال: صدقت، ثم انصرف فقال رسول اللَّه ﷺ: "عليَّ بالرجل"، قال: فقمنا (بأجمعنا) (٧) فلم نقدر عليه، فقال النبي ﷺ: "هذا جبريل أتاكم يعلمكم دينكم" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محارب بن دثار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن بریدہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ہم مدینہ آئے تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا : اے ابو عبد الرحمن ! ہم اپنے شہروں سے بہت دور تھے ۔ تو ہماری چند ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جو کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کیا وہ لوگ مسلمانوں میں سے ہیں ؟ اور قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے ہیں ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : پس آپ رضی اللہ عنہاتنے غضبناک ہوئے کہ میں نے چاہا کہ میں آپ رضی اللہ عنہ سے سوال نہ کرتا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب تم ان لوگوں سے ملو تو ان کو بتلا دو کہ یقینا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے بری ہے، اور وہ لوگ مجھ سے بری ہیں، پھر فرمایا : اگر تم چاہو تو میں تمہارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کروں ؟ میں نے عرض کیا ! جی ہاں ! پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ پس ایک آدمی آیا صاف ستھرے کپڑوں والا، اچھی خوشبو والا اور خوبصورت چہرے والا، کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ﷺ! اسلام کی حقیقت کیا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم نماز کی پابندی کرو، اور زکوٰۃ دو ، اور رمضان کے روزے رکھو۔ اور بیت اللہ کا حج کرو اور جنابت سے پاکی کا غسل کرو۔ اس شخص نے کہا ! آپ نے سچ فرمایا : ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تو ایمان لائے اللہ پر ، اور آخرت کے دن پر، اور فرشتوں پر، اور کتاب پر، اور نبیوں پر اور تقدیر کے اچھے، بُرے ہونے پر اور اس کی مٹھاس اور کھٹاس پر۔ اس شخص نے کہا : آپ نے سچ فرمایا : پھر وہ شخص واپس چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے جوتی دو ، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم سب کھڑے ہوگئے۔ پس ہمیں اس پر قدرت نہ ہوئی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارے دین کے معاملات سکھانے آئے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32449
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطاء اختلط، ورواية ابن فضيل عنه بعد الاختلاط، وأخرجه مسلم (٨)، وأحمد (٣٧٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32449، ترقيم محمد عوامة 31068)
حدیث نمبر: 32450
٣٢٤٥٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبان العطار قال: حدثنا يحيى بن أبي كثير (عن) (١) زيد عن أبي (سلام) (٢) عن أبي مالك الأشعري أن رسول اللَّه ﷺ كان ⦗٥٦⦘ يقول: " (الطهر شطر) (٣) الإيمان" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پاکی نصف ایمان ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32450
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٢٣)، وأحمد (٢٢٩٠٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32450، ترقيم محمد عوامة 31069)
حدیث نمبر: 32451
٣٢٤٥١ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبي إسحاق عن (١) أبي ليلى الكندي عن حجر بن عدي قال: حدثنا علي: أن (الطهور) (٢) شطر الإيمان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجر بن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : پاکی نصف ایمان ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32451
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32451، ترقيم محمد عوامة 31070)
حدیث نمبر: 32452
٣٢٤٥٢ - حدثنا وكيع قال (حدثنا) (١) الأوزاعي عن حسان بن عطية قال: الوضوء شطر الإيمان.
مولانا محمد اویس سرور
امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسان بن عطیہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : وضو نصف ایمان ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32452
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32452، ترقيم محمد عوامة 31071)
حدیث نمبر: 32453
٣٢٤٥٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن (١) أبي إسحاق عن (٢) أبي ليلى الكندي (٣) عن (غلام) (٤) [لحجر (بن عدي) (٥)] (٦) أن حجرا رأى ابنا له خرج من الغائط (٧) فقال: يا غلام ناولني الصحيفة من الكوة، سمعت عليًا يقول: الطهور نصف الإيمان (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو لیلی کندی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حجر رحمہ اللہ کے لڑکے نے فرمایا کہ حضرت حجر رحمہ اللہ نے اپنے ایک لڑکے کو دیکھا کہ وہ بیت الخلاء سے نکل کر کہنے لگا، اے لڑکے مجھے طاقچے سے قرآن دو : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پاکی نصف ایمان ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32453
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32453، ترقيم محمد عوامة 31072)
حدیث نمبر: 32454
٣٢٤٥٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا زكريا قال: حدثنا الحواري أن عبد اللَّه بن (عمر) (١) قال: إن عرى الدين و (قوامه) (٢): الصلاة والزكاة، لا يفرق بينهما، وحج البيت وصوم رمضان، وإن من (إصلاح) (٣) الأعمال: الصدقة والجهاد، (٤) قم فانطلق (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حواری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : دین کی بنیاد اور روح نماز اور زکوٰۃ ہے ان دونوں کے درمیان فرق نہیں کیا جائے گا، اور بیت اللہ کا حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا ہے، اور یقینا اچھے اعمال میں سے صدقہ اور جہاد ہے ، اٹھو اور جہاد پر جاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32454
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32454، ترقيم محمد عوامة 31073)
حدیث نمبر: 32455
٣٢٤٥٥ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (١) أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقًا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومنین میں سے کامل ترین ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اخلاق کے اعتبار سے زیادہ اچھے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32455
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32455، ترقيم محمد عوامة 31074)
حدیث نمبر: 32456
٣٢٤٥٦ - حدثنا ابن نمير قال حدثنا محمد بن أبي إسماعيل (عن معقل) (١) الخثعمي قال: أتى عليًا رجل وهو في الرحبة فقال: يا أمير المؤمنين، ما ترى في (امرأة) (٢) لا تصلي؟ قال: من لم يصل فهو كافر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معقل خثعمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ وہ گھر کے صحن میں تھے۔ پھر وہ کہنے لگا : اے امیر المومنین ! آپ رضی اللہ عنہ کی کیا رائے ہے اس عورت کے بارے میں جو نماز نہیں پڑھتی، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو شخص نماز نہیں پڑھتا وہ کافر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32456
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32456، ترقيم محمد عوامة 31075)
حدیث نمبر: 32457
٣٢٤٥٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن عبد اللَّه بن ضمرة عن كعب قال: من أقام الصلاة وآتى الزكاة [فقد توسط الإيمان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص نماز قائم کرتا ہے اور زکوٰۃ ادا کرتا ہے تحقیق اس کا ایمان درمیانے درجہ کا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32457
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32457، ترقيم محمد عوامة 31076)
حدیث نمبر: 32458
٣٢٤٥٨ - حدثنا محمد بن عبيد عن الأعمش عن أبي صالح عن عبد اللَّه ابن ضمرة عن كعب قال: من أقام الصلاة وآتى الزكاة] (١) وسمع وأطاع فقد توسط ⦗٥٨⦘ الإيمان، و (من) (٢) أحب للَّه وأبغض للَّه وأعطى للَّه ومنع للَّه فقد استكمل الإيمان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص نماز قائم کرتا اور زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔ اور سنتا ہے اور اطاعت کرتا ہے ، تحقیق اس کا ایمان درمیانے درجہ کا ہے، اور جو شخص اللہ کے لیے محبت رکھتا ہے، اور اللہ ہی کے لیے بغض رکھتا ہے، اور اللہ ہی کے لیے عطا کرتا ہے اور اللہ ہی کے لیے روکتا ہے تحقیق اس کا ایمان مکمل ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32458
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32458، ترقيم محمد عوامة 31077)
حدیث نمبر: 32459
٣٢٤٥٩ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبيد اللَّه بن عبيد الكلاعي قال: أخذ (بيدي) (١) مكحول فقال: يا أبا وهب (٢) ليعظم شأن الإيمان في نفسك، من ترك صلاة مكتوبة متعمدًا فقد برئت منه ذمة اللَّه، ومن برئت منه ذمة اللَّه فقد كفر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عبید الکلاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول رحمہ اللہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا : اے ابو وھب رحمہ اللہ ! اپنے نفس میں ایمان کی عظمت بڑھاؤ، جس شخص نے جان بوجھ کر فرض نماز چھوڑی تحقیق اللہ کا ذمہ اس سے بری ہے، اور جس سے اللہ کا ذمہ بری ہو تحقیق اس نے کفر کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32459
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32459، ترقيم محمد عوامة 31078)
حدیث نمبر: 32460
٣٢٤٦٠ - حدثنا أبو خالد عن عمرو بن قيس عن أبي إسحاق قال: قال علي: الصبر من الإيمان بمنزلة الرأس من الجسد، فإذا ذهب الصبر ذهب الإيمان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : صبر کا ایمان میں وہی درجہ ہے جو سر کا جسم میں ہے۔ پس جب صبر گیا تو ایمان بھی چلا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32460
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32460، ترقيم محمد عوامة 31079)
حدیث نمبر: 32461
٣٢٤٦١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن صلة عن عمار قال: ثلاث من جمعهن جمع الإيمان: الإنصاف من (نفسك) (١)، والإنفاق من الإقتار، وبذل السلام للعالم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تین چیزیں ایسی ہیں جس نے ان کو جمع کیا اس نے ایمان کو جمع کرلیا ! اپنے نفس سے انصاف کرنا ، اور کنجوسی کی بجائے خرچ کرنا، اور دنیا میں سلامتی پھیلانا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32461
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (١٩٤٣٩)، وابن جرير في مسند عمر (١٩٥)، والبزار (١٣٩٦)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٤١، وابن عساكر ٤٣/ ٤٥٢، وابن حجر في تغليق التعليق ٢/ ٣٦، والبيهقي في الشعب (٤٩)، واللالكائي (١٦٩٨)، والذهبي في السير ١/ ٤٢٧، وابن حبان في روضة العقلاء ١/ ٧٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32461، ترقيم محمد عوامة 31080)
حدیث نمبر: 32462
٣٢٤٦٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن صلة عن عمار (في قوله) (١): ﴿إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ﴾ [التوبة: ١٢]: لا عهد لهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کا ایمان میں کچھ حصہ نہیں۔ فرمایا : جن میں وعدے کی وفا نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32462
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن جرير في التفسير ١٠/ ٨٩، والحاكم ٢/ ٣٦٢، والبغوي في الجعديات (٢٥١٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32462، ترقيم محمد عوامة 31081)
حدیث نمبر: 32463
٣٢٤٦٣ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: كان يقال: لا يدخل النار إنسان في قلبه مثقال حبة خردل من إيمان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : یوں کہا جاتا ہے ! وہ انسان جہنم میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32463
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32463، ترقيم محمد عوامة 31082)
حدیث نمبر: 32464
٣٢٤٦٤ - حدثنا زيد بن الحباب عن الصعق بن حزن (١) قال: حدثني عقيل (بن الجعد) (٢) عن أبي إسحاق عن سويد بن غفلة عن ابن مسعود قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أوثق عرى الإيمان الحب في اللَّه والبغض في اللَّه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایمان کی مضبوط بنیاد، کسی سے اللہ کی خوشنودی میں محبت کرنا ، اور اللہ ہی کی خوشنودی میں بغض رکھنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32464
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ عقيل متروك، أخرجه الطيالسي (٣٧٨)، والطبراني (١٠٥٣١)، والحاكم ٢/ ٤٨٠، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ١٧٧، والبيهقي ١٠/ ٢٣٣، والخطيب في الفقيه والمتفقه (٧٤٦)، وابن عبد البر في التمهيد ١٧/ ٤٣٠، والبيهقي في الشعب (٩٥١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32464، ترقيم محمد عوامة 31083)
حدیث نمبر: 32465
٣٢٤٦٥ - حدثنا أبو أسامة عن جرير بن حازم قال: حدثني عيسى بن عاصم [قال: (حدثني) (١) عدي بن عدي) (٢) قال: كتب إليَّ عمر بن عبد العزيز: أما بعد، فإن (للإيمان) (٣) فرائض وشرائع (وحدودًا وسننًا) (٤)، فمن استكملها استكمل الإيمان، ومن لم يستكملها لم يستكمل الإيمان، فإن أعش فسأبينها لكم حتى تعملوا بها، وإن أمت قبل ذلك فما أنا على صحبتكم بحريص.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے مجھے لکھا اور فرمایا : حمدو صلوۃ کے بعد، یقینا ایمان کے کچھ فرائض و احکام اور حدود اور ضابطے ہیں۔ پس جس نے ان کو پورا کرلیا اس کا ایمان مکمل ہوگیا، اور جس شخص نے ان کو پورا نہ کیا اس کا ایمان بھی مکمل نہ ہوا۔ پس اگر میں زندہ رہا تو عنقریب میں ان کو تمہارے سامنے بیان کروں گا تاکہ تم ان پر عمل کرنے لگو، اور اگر میں یہ بتانے سے پہلے ہی مر جاؤں تو میں تمہاری صحبت پر زیادہ حریص نہیں ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32465
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32465، ترقيم محمد عوامة 31084)
حدیث نمبر: 32466
٣٢٤٦٦ - حدثنا الفضل بن دكين قال حدثنا هشام بن (سعد) (١) عن زيد ابن أسلم قال: لا بد لأهل هذا الدين من أربع: دخول في دعوة الإسلام، ولا بد من ⦗٦٠⦘ الإيمان وتصديق باللَّه وبالمرسلين أولهم وآخرهم وبالجنة والنار والبعث بعد الموت، ولا بد أن (تعمل) (٢) عملًا (تصدق) (٣) به، ولا بد من أن تعلم علما تحسن به عملك، ثم قرأ: ﴿وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى﴾ [طه: ٨٢].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : دین والوں کے لیے چار باتیں لازمی ہیں، اسلام کی دعوت میں داخل ہونا، اور ایمان لانا ضروری ہے، اور تصدیق کرنا اللہ کی ، اور اس کے پہلے اور آخری رسولوں کی، اور جنت، جہنم کی، اور موت کے بعد دوبارہ اٹھنے کی، اور ضروری ہے کہ ایسا عمل کریں جو ان کے ایمان کے سچّا ہونے کی تصدیق کرے، اور ضروری ہے کہ وہ اتنا علم سیکھیں جس کے ذریعہ ان کا عمل اچھا ہوجائے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی، اور بیشک میں غفار ہوں اس شخص کے حق میں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کیے پھر سیدھی راہ پر چلتا رہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32466
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32466، ترقيم محمد عوامة 31085)
حدیث نمبر: 32467
٣٢٤٦٧ - حدثنا عبد الأعلى عن الجريري عن عبد اللَّه بن شقيق قال: ما كانوا يقولون لعمل تركه رجل كفر غير الصلاة، (قال) (١): كانوا يقولون: تركها كفر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن شقیق رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : صحابہ رضی اللہ عنہ م کسی عمل کے بھی چھوڑنے کی وجہ سے آدمی کو کافر نہیں گردانتے تھے سوائے نماز کے، راوی کہتے ہیں : وہ لوگ فرمایا کرتے تھے نماز کا چھوڑنا کفر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32467
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الترمذي (٢٦٢٢)، ورواه الحاكم (١٢) من طريق عبد اللَّه بن شقيق عن أبي هريرة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32467، ترقيم محمد عوامة 31086)
حدیث نمبر: 32468
٣٢٤٦٨ - حدثنا أبو بكر (١) عن عاصم عن أبي وائل قال: قيل له: إن ناسًا يزعمون أن المؤمنين يدخلون النار، (قال) (٢): لعمرك واللَّه إن حشوها غير المؤمنين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : بیشک بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ مومنین جہنم میں داخل ہوں گے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! جہنم کی بھرتی مومنین کے علاوہ لوگوں سے ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32468
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32468، ترقيم محمد عوامة 31087)
حدیث نمبر: 32469
٣٢٤٦٩ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة قال: سمعت شقيقًا (يقول) (١) وسأله رجل: سمعت ابن مسعود يقول: إنه من شهد أنه مؤمن فليشهد أنه في الجنة؟ قال: نعم (٢) (٣). تم كتاب الإيمان (والحمد للَّه رب العالمين) (٤)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت شقیق رحمہ اللہ سے پوچھا : کیا آپ رحمہ اللہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یوں فرماتے سنا ہے : بلاشبہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ وہ مومن ہے پس اسے چاہیے کہ وہ اس بات کی گواہی بھی دے کہ یقینا وہ جنت میں ہوگا ؟ حضرت شقیق رحمہ اللہ نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے یہ سنا ہے۔ تم کتاب الإیمان والحمد للہ رب العالمین ، والصلاۃ علی رضی اللہ عنہ محمد صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔ (ایمان کا بیان مکمل ہوا۔ )
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32469
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32469، ترقيم محمد عوامة 31088)