حدیث نمبر: 32406
٣٢٤٠٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يزني الزاني (حين يزني) (١) وهو مؤمن، (ولا يسرق حين يسرق وهو مؤمن) (٢)، ولا يشرب الخمر حين يشرب وهو مؤمن، ولا ينتهب نهبة يرفع الناس فيها أبصارهم وهو مؤمن" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا، اور چور جب چوری کرتا ہے تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا، اور شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا، اور ڈاکو جب ڈاکہ ڈالتا ہے اس حال میں کہ لوگوں کی آنکھیں اس کی طرف اٹھ رہی ہوتی ہیں تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32406
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه البخاري (٢٤٧٥)، ومسلم (٥٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32406، ترقيم محمد عوامة 31027)
حدیث نمبر: 32407
٣٢٤٠٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد (عن يحيى) (١) بن عباد (ابن) (٢) عبد اللَّه بن الزبير عن أبيه عن عائشة قالت: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن، ولا يسرق حين يسرق وهو مؤمن، ولا يشرب -يعني الخمر- حين يشرب وهو مؤمن، فإياكم إياكم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے : زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا ، اور چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا ، اور شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا۔ پس تم بچو ( ان گناہوں سے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32407
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ صرح ابن إسحاق بالتحديث عند الطبراني، والحديث أخرجه أحمد (٢٥٠٨٨)، والطبراني في الأوسط (١٢٣١)، وابن جرير في مسند ابن عباس (٩١٩)، وأبو نعيم في الحلية ٦/ ٢٥٦، والبزار (١١٢)، والآجري في الشريعة (٢٢٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32407، ترقيم محمد عوامة 31028)
حدیث نمبر: 32408
٣٢٤٠٨ - حدثنا ابن علية (عن ليث) (١) عن مدرك (عن) (٢) ابن أبي أوفى قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن، ولا يسرق حين يسرق وهو مؤمن، ولا يشرب الخمر حين يشربها وهو مؤمن، ولا ينتهب نهبة ذات يفرف يرفع المسلمون إليها رؤوسهم وهو مؤمن" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا، اور چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا۔ اور شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا ، اور ڈاکو جب کسی شریف سے چھینا جھپٹی کرتا ہے اور مسلمانوں کے سر بےبسی سے اس کی طرف اٹھتے ہیں تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32408
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ليث، أخرجه أحمد (١٩١٠٢)، والطيالسي (٨٢٣)، والبزار (١١١/ كشف) والبغوي في الجعديات (٢٦٧)، وعبد بن حميد (٥٢٥)، وانظر: ما بعده.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32408، ترقيم محمد عوامة 31029)
حدیث نمبر: 32409
٣٢٤٠٩ - حدثنا الحسن بن موسى قال: (حدثنا) (١) شعبة عن فراس عن (مدرك) (٢) عن ابن أبي أوفى عن (النبي) (٣) نحوه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر راوی نے ما قبل والی حدیث نقل کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32409
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ مدرك صدوق، وانظر: ما قبله، وتقدم ٤/ ٤٠٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32409، ترقيم محمد عوامة 31030)
حدیث نمبر: 32410
٣٢٤١٠ - حدثنا محمد بن بشر قال: (حدثنا) (١) محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الحياء من الأيمان، والإيمان في الجنة، والبذاء من الجفاء والجفاء في النار" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں ہوگا اور بد اخلاقی سنگدلی کا حصہ ہے۔ اور سنگدلی جہنم میں ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32410
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (١٠٥١٢)، والترمذي (٢٠٠٩)، وابن حبان (٦٠٨)، والحاكم ١/ ٥٢، وابن وهب في الجامع ص ٧٣، وابن أبي الدنيا في مكارم الأخلاق (٧٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32410، ترقيم محمد عوامة 31031)
حدیث نمبر: 32411
٣٢٤١١ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن (هشام عن) (١) الحسن عن جابر بن عبد اللَّه أنه قال: قيل: يا رسول اللَّه أي الأعمال أفضل؟ قال: "الصبر ⦗٤٢⦘ والسماحة"، قيل (فأي) (٢) المؤمنين أكمل إيمانا؟ قال: "أحسنهم خلقا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کون سے اعمال افضل ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صبر کرنا اور سخاوت کرنا، پوچھا گیا : پس مومنین میں سے کامل ترین ایمان والا کون ہے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو ان میں زیادہ اچھے اخلاق والا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32411
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو يعلى (١٨٥٤)، والمروزي في تعظيم الصلاة (٦٤٧)، والبيهقي في شعب الإيمان (٩٧١٠)، وابن عدي ٧/ ١٥٥، والخرائطي في مكارم الأخلاق (٦٠)، وورد عن الحسن مرسلًا، أخرجه أحمد في الزهد ص ١٠ وعن الحسن موقوفًا، أخرجه عبد الرزاق (٤٨٤٣)، وأبو نعيم في الحلية ٢/ ١٥٦، والمزي ٦/ ١٢١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32411، ترقيم محمد عوامة 31032)
حدیث نمبر: 32412
٣٢٤١٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي الزبير عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "بين العبد و (بين) (١) الكفر ترك الصلاة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بندے اور کفر کے درمیان صرف نماز چھوڑنے کا فاصلہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32412
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٨٢)، وأحمد (١٥١٨٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32412، ترقيم محمد عوامة 31033)
حدیث نمبر: 32413
٣٢٤١٣ - حدثنا عبيدة بن حميد عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر (بن عبد اللَّه) (١) عن النبي ﷺ نحوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر راوی نے مذکورہ حدیث نقل کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32413
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٨٢)، وأحمد (١٤٩٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32413، ترقيم محمد عوامة 31034)
حدیث نمبر: 32414
٣٢٤١٤ - حدثنا يحيى بن واضح عن حسين بن واقد قال: سمعت ابن بريدة يقول: سمعت أبي يقول: سمعت رسول اللَّه ﷺ (يقول) (١): "العهد الذي بيننا وبينهم (ترك) (٢) الصلاة فمن تركها فقد كفر" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے : ہمارے درمیان اور کفر کے درمیان صرف نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔ پس جس نے نماز کو چھوڑ دیا تحقیق اس نے کفر کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32414
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ حسين بن واقد صدوق، أخرجه أحمد (٢٢٩٣٧)، والترمذي (٢٦٢١)، والنسائي ١/ ٢٣١، وابن حبان (١٤٥٤)، والحاكم ١/ ٦، وابن ماجه (١٠٧٩)، وابن نصر في تعظيم الصلاة (٨٩٥)، والدارقطني ٢/ ٥٢، واللالكائي ٣/ ٣٦٦، وابن بطه في الإبانة (٨٧٤)، والآجري في الشريعة ص ١٣٣، وابن عدي ٣/ ٨٩٦، وابن عبد البر في التمهيد ٤/ ٢٣٠، والعراقي في تقريب الأسانيد ص ١٣، والذهبي في سير أعلام النبلاء ١٧/ ٥٩٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32414، ترقيم محمد عوامة 31035)
حدیث نمبر: 32415
٣٢٤١٥ - حدثنا شريك عن عاصم عن زرعن عبد اللَّه قال: من لم يصل فلا دين له (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص نماز نہیں پڑھتا اس کا دین میں کچھ حصہ نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32415
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عاصم ضعيف في زر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32415، ترقيم محمد عوامة 31036)
حدیث نمبر: 32416
٣٢٤١٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام الدستوائي عن يحيى عن أبي قلابة عن أبي (المليح) (١) عن ابن بريدة عن النبي ﷺ قال: "من ترك العصر فقد حبط عمله" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے عصر کی نماز چھوڑ دی تحقیق اس کے اعمال ضائع ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32416
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٥٣)، وأحمد (٢٢٩٥٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32416، ترقيم محمد عوامة 31037)
حدیث نمبر: 32417
٣٢٤١٧ - حدثنا عيسى ووكيع عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي قلابة عن أبي المهاجر عن بريدة عن النبي ﷺ قال: "من ترك العصر فقد حبط عمله" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے عصر کی نماز چھوڑ دی تحقیق اس کے اعمال ضائع ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32417
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وهم فيه الأوزاعي فقال عن أبي المهاجر، ورواه جماعة فقالوا: عن أبي المليح كما في الذي قبله، والحديث أخرجه أحمد (٢٣٠٥٠)، وابن ماجه (٦٩٤)، وابن حبان (١٤٧٠)، وأصله عند البخاري (٥٩٤)، وتقدم تفصيل القول فيه في ١/ ٣٤٢ برقم [٣٤٨٦].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32417، ترقيم محمد عوامة 31038)
حدیث نمبر: 32418
٣٢٤١٨ - حدثنا هشيم قال أخبرنا عباد بن (ميسرة) (١) المنقري عن أبي قلابة والحسن أنهما كانا جالسين فقال أبو قلابة: قال أبو الدرداء: من ترك العصر حتى تفوته من غير عذر فقد حبط عمله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباد بن میسرہ المنقری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ اور حسن رحمہ اللہ دونوں بیٹھے تھے تو حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ نے فرمایا : کہ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا ہے : جس شخص نے عصر کی نماز کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ بغیر عذر کے اس نے نماز کو قضا کردیا تحقیق اس کے اعمال ضائع ہوگئے، راوی فرماتے ہیں ! حسن رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : جو شخص فرض نماز کو بغیر کسی عذر کے چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کو قضا کر دے تو تحقیق اس کے اعمال ضائع ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32418
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32418، ترقيم محمد عوامة 31039)
حدیث نمبر: 32419
٣٢٤١٩ - قال: وقال الحسن قال رسول اللَّه ﷺ: "من ترك صلاة مكتوبة (حتى تفوته) (١) من غير عذر فقد حبط عمله" (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32419
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي، وأخرجه أحمد متصلًا من حديث أبي الدرداء برقم [٣٤٨٦١].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32419، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 32420
٣٢٤٢٠ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا (عوف عن) (١) قسامة بن زهير قال: لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت قسامہ بن زھیر رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص امانت دار نہیں اس کا ایمان میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جو شخص عہد کی وفا نہ کرے تو اس کا دین میں کچھ حصہ نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32420
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32420، ترقيم محمد عوامة 31040)
حدیث نمبر: 32421
٣٢٤٢١ - (١) حدثنا أبو معاوية عن (الأعمش عن) (٢) مجاهد قال: إن أفضل العبادةِ الرأيُ الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا؛ بلاشبہ افضل ترین عبادت اچھا مشورہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32421
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32421، ترقيم محمد عوامة 31041)
حدیث نمبر: 32422
٣٢٤٢٢ - حدثنا أبو معاوية عن يوسف بن ميمون قال: قلت لعطاء: إن قبلنا قومًا نعدُّهم من أهل الصلاح إن قلنا نحن مؤمنون عابوا ذلك علينا، قال: فقال عطاء: نحن المسلمون المؤمنون وكذلك أدركنا أصحاب محمد ﷺ يقولون (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یوسف بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے عرض کیا : اگر ہم کچھ لوگوں کی ضمانت کریں تو ہم انہیں نیکوکار پاتے ہیں : اگر ہم یوں کہیں : ہم مومنین ہیں۔ تو وہ اس وجہ سے ہم پر عیب لگاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا : ہم تو مومنین اور مسلمان ہیں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو اس طرح ہی کہتے ہوئے پایا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32422
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدا؛ يوسف بن ميمون متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32422، ترقيم محمد عوامة 31042)
حدیث نمبر: 32423
٣٢٤٢٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن (أبي) (١) البختري عن حذيفة قال: القلوب (أربعة) (٢): قلب مُصَفَّح فذلك قلب المنافق، وقلب (أغلف) (٣) فذلك قلب الكافر، وقلب أجرد (كأن) (٤) فيه سراجًا يزهر فذاك قلب المؤمن، وقلب فيه نفاق وإيمان فمثله كمثل (قرحة) (٥) (يمدها) (٦) (قيح) (٧) ⦗٤٥⦘ ودم (ومثله) (٨) كمثل شجرة يسقيها (ماء خبيث و) (٩) ماء طيب، (فأي ماء) (١٠) غلب (عليها) (١١) غلب (قرحه) (١٢) (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو البختری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : دل چار طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ دل جس میں کھوٹ ہے یہ منافق کا دل ہے۔ ایک وہ دل جو غلاف میں لپٹا ہوا ہے یہ کافر کا دل ہے۔ ایک وہ دل جو شفاف ہے اور اس سے روشنی جھلکتی ہے یہ مومن کا دل ہے۔ ایک وہ دل جس میں نفاق اور ایمان ہے۔ اس کی مثال اس پھوڑے کی سی ہے جس میں پیپ اور خون ہے۔ اس کی مثال اس درخت کی سی ہے جس کو صاف اور گندا پانی ملتا ہے جو پانی غالب آجائے اس میں اسی کا اثر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32423
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32423، ترقيم محمد عوامة 31043)
حدیث نمبر: 32424
٣٢٤٢٤ - أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن أنس (أن) (١) النبي ﷺ (كان) (٢) يكثر أن يقول: "يا مقلب القلوب ثبت قلب على دينك" (قالوا) (٣): يا رسول اللَّه آمنا بك وبما جئت به، فهل تخاف علينا؟ قال: " (نعم) (٤)، إن القلوب بين إصبعين من أصابع اللَّه يقلبها" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے : اے دلوں کے پھیرنے والے : میرے دل کو اپنے دین پر ثبات عطا فرما؛ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم ایمان لائے آپ پر اور آپ کے لائے ہوئے دین پر۔ کیا اب بھی آپ کو ہمارے متعلق ڈر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! بلاشبہ تمام دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں جنہیں وہ پھیرتا رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32424
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سفيان صدوق، أخرجه أحمد (١٢١٠٧)، والترمذي (٢١٤٠)، والحاكم ١/ ٥٢٦، وأبو يعلى (٣٦٨٧)، وابن أبي عاصم في السنة (٢٢٥)، والطبري في التفسير ٣/ ١٨٨، والبغوي (٨٨)، والضياء في المختارة (٢٢٢٣)، والآجري في الشريعة ص ٣١٧، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ١٢٢، والبيهقي في شعب الإيمان (٧٥٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32424، ترقيم محمد عوامة 31044)
حدیث نمبر: 32425
٣٢٤٢٥ - حدثنا معاذ بن معاذ قال: أخبرنا أبو كعب صاحب الحرير قال: حدثنا شهر بن حوشب قال: قلت لأم سلمة: يا أم المؤمنين، ما كان أكثر دعاء ⦗٤٦⦘ رسول اللَّه ﷺ إذا كان عندك؟ [(قال) (١): قالت] (٢): (كان) (٣) أكثر دعائه: "يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك" قلت: يا رسول اللَّه، ما أكثر دعاءك؛ يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك؟ قال: "يا أم سلمة، إنه ليس آدمي إلا وقلبه بين إصبعين من أصابع اللَّه، ما شاء منها أقام وما شاء أزاغ" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شھر بن حوشب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے کون سی دعا کرتے تھے ؟ راوی کہتے ہیں : آپ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعا کرتے تھے : اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثبات عطا فرما۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر یہ دعا ہی ہوتی ہے : اے دلوں کے پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثبات عطا فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے ام سلمہ ! کوئی بھی شخص نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جسے چاہے سیدھا کردیتا ہے اور جسے چاہے ٹیڑھا کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32425
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شهر بن حوشب صدوق وصرح بالسماع، أخرجه أحمد (٢٦٦٧٩)، والترمذي (٣٥٢٢)، وابن أبي عاصم في السنة (٢٢٣)، وأبو يعلى (٦٩٨٦)، والطيالسي (١٦٠٨)، والطبراني ٢٣ (٧٧٢)، والآجري في الشريعة ص ٣١٦، وعبد بن حميد (١٥٣٤)، وابن جرير في التفسير (٦٦٥٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32425، ترقيم محمد عوامة 31045)
حدیث نمبر: 32426
٣٢٤٢٦ - حدثنا يزيد (١) قال: أخبرنا همام بن يحيى عن علي بن زيد عن أم محمد عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يقول: "يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك"، قلت: يا رسول اللَّه، إنك (تدعو) (٢) بهذا الدعاء؟ قال: "يا عائشة أو ما علمت أن قلب ابن آدم بين أصابع اللَّه، إذا شاء أن يقلبه إلى (هدى) (٣) قلبه، وإن شاء أن يقلبه إلى (ضلالة) (٤) قلبه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے : اے دلوں کے پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثبات عطا فرما۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ یہ دعا فرما رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! کیا تجھے معلوم نہیں ابن آدم کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے۔ جب چاہتے ہیں اس کے دل کو ہدایت کی طرف پھیر دیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں اس کے دل کو گمراہی و ضلالت کی طر ف پھیر دیتے ہیں ؟ !۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32426
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32426، ترقيم محمد عوامة 31046)
حدیث نمبر: 32427
٣٢٤٢٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم بن (عتيبة) (١) قال: سمعت ابن أبي ليلى يحدث عن النبي ﷺ أنه كان يدعو بهذا الدعاء: " (٢) يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے : اے دلوں کے پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثبات عطا فرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32427
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ابن أبي ليلى تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32427، ترقيم محمد عوامة 31047)
حدیث نمبر: 32428
٣٢٤٢٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (ذر) (١) عن وائل بن مهانة قال: قال عبد اللَّه: ما رأيت من ناقص الدين والرأي أغلب للرجال ذوي الأمر على أمرهم من النساء، قالوا: يا أبا عبد الرحمن، وما نقصان دينها؟ قال: تركها الصلاة أيام حيضها، قالوا: فما نقصان عقلها؟ قال: لا تجوز شهادة امرأتين إلا بشهادة رجل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وائل بن مہانہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں نے نہیں دیکھا کسی کو عورتوں سے زیادہ ناقص دین اور مشورہ دینے کے اعتبار سے اور ہوشیار مردوں پر ان کے معاملات میں غالب آنے کے اعتبار سے۔ لوگوں نے عرض کیا : اے ابو عبد الرحمن ! ان کے دین میں کیا کمی ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حیض کے دنوں میں ان کا نماز ترک کرنا۔ لوگوں نے عرض کیا : اور ا ن کی عقل کی کمی کیسے ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دو عورتوں کی گواہی جائز نہیں مگر ایک آدمی کی گواہی کے ساتھ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32428
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32428، ترقيم محمد عوامة 31048)
حدیث نمبر: 32429
٣٢٤٢٩ - حدثنا أبو أسامة عن حسن بن (عياش) (١) عن مغيرة قال: سئل إبراهيم عن الرجل يقول للرجل: أمؤمن أنت؟ قال: الجواب (فيه) (٢) بدعة، وما يسرني (أني) (٣) شككت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم رحمہ اللہ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی آدمی سے پوچھے ! کیا تو مومن ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : اس کا جواب دینا بدعت ہے۔ اور میں خوش نہیں ہوں کہ میں کہوں کہ مجھے ایمان میں شک ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32429
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32429، ترقيم محمد عوامة 31049)
حدیث نمبر: 32430
٣٢٤٣٠ - حدثنا أبو أسامة عن حبيب بن الشهيد عن عطاء عن أبي هريرة: لا يزني (الزاني) (١) حين يزني وهو مؤمن، ولا يسرق وهو مؤمن، ولا يشرب الخمر وهو مؤمن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا ۔ اور چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا اور شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32430
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32430، ترقيم محمد عوامة 31050)
حدیث نمبر: 32431
٣٢٤٣١ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن عمارة (بن) (١) عمير عن أبي (عمار) (٢) عن حذيفة قال: واللَّه إن الرجل ليصبح بصيرًا، ثم يمسي وما ينظر بشفر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمّار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! یقینا آدمی صبح کرے گا دیکھنے کی حالت میں، پھر وہ شام کرے گا اس حال میں کہ وہ پلک بھی نہیں دیکھ سکتا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32431
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32431، ترقيم محمد عوامة 31051)
حدیث نمبر: 32432
٣٢٤٣٢ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن سعيد بن يسار قال: بلغ عمر أن رجلًا بالشام يزعم أنه مؤمن، قال: فكتب عمر: (أن) (١) اجلبوه عليَّ فقدم على عمر فقال: أنت الذي تزعم أنك مؤمن، قال: (نعم) (٢)، هل كان الناس على عهد رسول اللَّه ﷺ إلا على ثلاثة منازل: مؤمن وكافر ومنافق؛ واللَّه ما أنا بكافر ولا (منافق) (٣)، (قال) (٤): فقال له عمر: أبسط يدك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خبر پہونچی کہ شام میں ایک آدمی ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ یقینا وہ مومن ہے۔ راوی فرماتے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تحریر لکھی کہ اس کو میرے پاس حاضر کرو چناچہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو ہی وہ شخص ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ تو مومن ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! کیا لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تین قسم کے نہیں تھے ؟ مومن، منافق اور کافر، اللہ کی قسم میں کافر نہیں ہوں۔ اور نہ میں منافقت کرتا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اپنا ہاتھ کشادہ کر۔ حضرت ابن ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں نے پوچھا : انہوں نے پسند کیا جو اس نے کہا ؟ راوی کہتے ہیں : ہاں ! انہوں نے پسند کیا جو اس نے کہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32432
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32432، ترقيم محمد عوامة 31052)
حدیث نمبر: 32433
٣٢٤٣٣ - قال ابن إدريس (قلت: رضي بما قال؟) (١) قال: رضي بما قال.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32433
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32433، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 32434
٣٢٤٣٤ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا ليث بن سعد عن يزيد (عن سعيد) (١) بن سنان عن أنس عن النبي ﷺ قال: "يكون بين يدي الساعة فتن كقطع الليل المظلم، يصبح الرجل فيها مؤمنًا ويمسي كافرا، ويصبح كافرا ويمسي مؤمنًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے قریب بہت سے فتنے ہوں گے اندھیری رات کے حصہ کی طرح۔ جس میں آدمی صبح کرے گا مومن ہونے کی حالت میں اور شام کرے گا کافر ہونے کی حالت میں ۔ اور صبح کرے گا کافر ہونے کی حالت میں اور شام کرے گا مومن ہونے کی حالت میں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32434
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف سعد بن سنان الكندي، أخرجه الترمذي (٢١٩٧)، والحاكم ٤/ ٤٣٨، وأبو يعلى (٤٢٦٠)، والفريابي في صفة المنافق (١٠٤)، وابن عدي ٣/ ٣٥٦، وابن البخاري في مشيخته ٣/ ١٨٤٢، وابن عساكر ٥٤/ ٤٠٦، والذهبي في سير أعلام النبلاء ٨/ ١٣٨، والسخاوي في البلدانيات (١٨)، والداني في الفتن (٤٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32434، ترقيم محمد عوامة 31053)
حدیث نمبر: 32435
٣٢٤٣٥ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي (عمرو) (١) (السيباني) (٢) قال: قال حذيفة: إني لأعلم أهل دينين، أهل ذينك الدينين في النار: أهل دين يقولون: الإيمان كلام ولا عمل وإن قتل وإن زنا، وأهل دين يقولون: [(إن) (٣) كان] (٤) (أولونا) (٥) (رآه) (٦) -ذكر كلمة سقطت عني- (ليأمرونا) (٧) ⦗٥٠⦘ بخمس صلوات (٨) يوم، (وإنما) (٩) (هما) (١٠) صلاتان صلاة العشاء وصلاة الفجر (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابو عمرو السیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں دین کے دو گروہوں کے بارے میں جانتا ہوں یہ دونوں دین کے گروہ والے جہنم میں ہوں گے۔ ایک دین والا گروہ کہتا ہے ! ایمان نام ہے کلام کا نہ کہ عمل کا۔ اگرچہ وہ قتل کرے اگرچہ وہ زنا کرے، اور ایک دین کے گروہ والے کہتے ہیں : ہم سے پہلے والے لوگ۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے یہاں ایک کلمہ کا ذکر کیا تھا جو مجھ سے ساقط ہوگیا۔ ہمیں پانچ نمازوں کا حکم دیتے تھے پورے دن میں۔ حالانکہ وہ صرف دو نمازیں ہیں، عشاء کی نماز اور فجر کی نماز۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32435
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32435، ترقيم محمد عوامة 31054)
حدیث نمبر: 32436
٣٢٤٣٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن عبد اللَّه بن دينار عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الإيمان ستون أو سبعون (أو بضعة) (١) - (أو) (٢) أحد العددين- أعلاها شهادة أن لا إله إلا اللَّه، وأدناها إماطة الأذى عن الطريق والحياء شعبة من الإيمان" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایمان کے شعبے ساٹھ یا ستر یا ستر سے کچھ اوپر ہیں یا ان دو عددوں میں کوئی ایک عدد مراد ہے۔ اس میں افضل ترین شعبہ گواہی دینا اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور سب سے ادنیٰ شعبہ راستہ سے کسی تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا ہے۔ اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32436
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن عجلان وأبو خالد صدوقان، أخرجه مسلم (٣٥)، وأحمد (٩٣٦١)، وأصله عند البخاري (٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32436، ترقيم محمد عوامة 31055)
حدیث نمبر: 32437
٣٢٤٣٧ - (١) حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سالم عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الحياء من الإيمان" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حیا ایمان کا حصہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32437
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٤)، ومسلم (٣٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32437، ترقيم محمد عوامة 31056)
حدیث نمبر: 32438
٣٢٤٣٨ - حدثنا وكيع قال (حدثنا) (١) الأعمش عن سلمة بن كهيل عن حبة ⦗٥١⦘ (ابن جوين) (٢) العرني قال كنا مع سلمان (٣) وقد صافنا العدو فقال: هؤلاء المؤمنون وهؤلاء المنافقون وهؤلاء المشركون، فينصر اللَّه المنافقين (بدعوة) (٤) المؤمنين، ويؤيد اللَّه المؤمنين (بقوة) (٥) المنافقين (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبہ بن جو ین العرنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دشمن کے سامنے صف بنائے کھڑے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : یہ لوگ مومنین ہیں، اور یہ منافقین ہیں اور یہ مشرکین ہیں۔ پس اللہ مومنین کی دعاؤں کی وجہ سے منافقین کی مدد فرمائیں گے، اور منافقین کی دعاؤں کی وجہ سے مومنین کی تائید کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32438
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف حبة بن جوين.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32438، ترقيم محمد عوامة 31057)
حدیث نمبر: 32439
٣٢٤٣٩ - حدثنا عبدة بن سليمان عن الأعمش عن أبي إسحاق عن أبي قرة قال: قال سلمان لرجل: لو قُطّعتُ (أعضاء) (١) ما بلغت الإيمان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا : اگر تیرے اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے بھی کردیا جائے تب بھی تو ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32439
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو قرة وثقه ابن حبان وروى عنه إثنان وقال ابن سعد: "معروف".
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32439، ترقيم محمد عوامة 31058)
حدیث نمبر: 32440
٣٢٤٤٠ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن عمرو بن مرة (١) عن البراء قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أوثق عرى الإسلام الحب في اللَّه والبغض في اللَّه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسلام کی مضبوط ترین بنیاد کسی سے اللہ کی خوشنودی کے لیے محبت کرنا ہے، اور اللہ ہی کی خوشنودی میں کسی سے بغض رکھنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32440
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ ليث بن أبي سليم ضعيف، وعمرو بن مرة لا يروي عن البراء، أخرجه أحمد (١٨٥٢٤)، والطيالسي (٧٤٧)، والبيهقي في الشعب (١٤)، وابن عبد البر في التمهيد ١٧/ ٤٣١، وأخرجه مرسلًا وكيع في الزهد (٣٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32440، ترقيم محمد عوامة 31059)
حدیث نمبر: 32441
٣٢٤٤١ - حدثنا ابن نمير عن مالك بن مغول عن زبيد عن مجاهد قال: أوثق عرى الإيمان الحب في اللَّه والبغض (فيه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : ایمان کی مضبوط ترین بنیاد، کسی سے اللہ کی خوشنودی کے لیے محبت کرنا اور اللہ ہی کی خوشنودی میں کسی سے بغض رکھنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32441
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32441، ترقيم محمد عوامة 31060)
حدیث نمبر: 32442
٣٢٤٤٢ - حدثنا يزيد بن هارون (قال) (١): أخبرنا داود عن زرارة بن أوفى ⦗٥٢⦘ عن تميم الداري قال: أول ما يحاسب به العبد (يوم القيامة) (٢) (صلاة) (٣) المكتوبة، فإن أتمها، وإلا قيل: إنظروا (هل) (٤) له من تطوع فأكملت الفريضة من تطوعه، فإن لم تكمل الفريضة (٥)، ولم يكن له تطوع أخذ بطرفيه فقذف به في النار (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زراہ بن اوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت تمیم الداری رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : قیامت میں آدمی کے اعمال میں سب سے پہلے فرض نماز کا حساب کیا جائے گا، اگر وہ پوری نکل آئی تو ٹھیک ورنہ کہا جائے گا : دیکھو کیا اس کے پاس نفلوں کا بھی کوئی ذخیرہ ہے ؟ اگر ہوا تو پھر اس کے نفلوں سے فرض کی تکمیل کردی جائے گی۔ اور اگر اس کے فرائض مکمل نہ ہوئے اور اس کے پاس نفلوں کا ذخیرہ بھی نہ ہوا ۔ تو پھر اس کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا جائے گا۔ اور اس طرح سے اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32442
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البيهقي ٢/ ٣٨٧، وأخرجه مرفوعًا أحمد (١٦٩٥١)، وأبو داود (٨٦٦)، وابن ماجه (١٤٢٦)، والحاكم ١/ ٢٦٣، والدارمي (١٣٥٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32442، ترقيم محمد عوامة 31061)
حدیث نمبر: 32443
٣٢٤٤٣ - حدثنا (يزيد) (١) بن هارون (قال) (٢): أخبرنا أبو معشر عن محمد (ابن) (٣) صالح الأنصاري أن رسول اللَّه ﷺ لقي عوف بن مالك فقال: كيف أصبحت يا عوف بن مالك؟ قال: أصبحت مؤمنًا حقًا، (فقال) (٤) رسول اللَّه ﷺ: "إن لكل قول حقيقة، فما حقيقة ذلك؟ " (فقال) (٥): يا رسول اللَّه (ألم أظلف) (٦) نفسي عن الدنيا، (أسهرت) (٧) ليلي وأظمأت هواجري وكأني أنظر إلى عرش ربي، وكأني أنظر إلى أهل الجنة يتزاورون فيها، وكأني أنظر إلى أهل النار يتضاغون فيها، فقال رسول اللَّه ﷺ: "عرفت وآمنت فالزم" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن صالح الانصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو فرمایا : اے عوف بن مالک ! تو نے کس حال میں صبح کی ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نے سچا مومن ہونے کی حالت میں صبح کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک ہر قول کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ اس بات کی کیا حقیقت ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں نے اپنے نفس کو دنیا سے نہیں روکا ؟ میں نے راتوں میں خود کو جگایا : اور شدید گرمی کی دوپہر میں خود کو پیاسا رکھا۔ گویا کہ میں اہل جنت کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے جنت میں باتیں کر رہے ہیں، اور گویا کہ میں اہل جہنم کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ جہنم میں چیخ و پکار کر رہے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو نے پہچان لیا یا فرمایا تو ایمان لایا پس اس کو لازم پکڑے رکھ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32443
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ أبو معشر ضعيف، ومحمد بن صالح تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32443، ترقيم محمد عوامة 31062)
حدیث نمبر: 32444
٣٢٤٤٤ - (١) (حدثنا) (٢) هشيم (قال) (٣): أخبرنا داود عن (زرارة) (٤) بن أوفى عن تميم الداري بمثل (حديث) (٥) يزيد إلا أنه لم يذكر فيه: ويؤخذ بطرفيه فيقذف به في النار (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زراہ بن اوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت تمیم الداری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر راوی نے ماقبل حدیث یزید کو ذکر کیا مگر یہ جملہ ذکر نہیں کیا، اور اس کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32444
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البيهقي ٢/ ٣٨٧، وأخرجه مرفوعًا أحمد (١٦٩٥١)، وأبو داود (٨٦٦)، وابن ماجه (١٤٢٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32444، ترقيم محمد عوامة 31063)
حدیث نمبر: 32445
٣٢٤٤٥ - حدثنا ابن نمير قال حدثنا مالك بن مغول عن زبيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "كيف أصبحت يا حارث بن مالك؟ " قال: أصبحت مؤمنًا حقًا، قال: "إن لكل قول حقيقة (١) "، قال: أصبحت عزفت نفسي عن الدنيا (وأسهرت) (٢) ليلي وأظمأت نهاري، (وكأني) (٣) أنظر إلى عرش ربي قد أبرز للحساب، (وكأني) (٤) أنظر إلى أهل الجنة يتزاورون في الجنة، (وكأني) (٥) أسمع عواء أهل النار، قال: فقال له: "عبد نور الإيمان في قلبه، (إن) (٦) عرفت فالزم" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے حارث بن مالک رضی اللہ عنہ تم نے کس حال میں صبح کی ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نے سچا مومن ہونے کی حالت میں صبح کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یقینا ہر بات کی ایک حقیقت ہوتی ہے، تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ! میں نے اس حال میں صبح کی کہ میرے نفس نے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کی، پس میں نے راتوں میں خود کو جگایا۔ اور دن میں خود کو پیاسا رکھا۔ گویا کہ میں اپنے رب کے عرش کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ حساب لینے کے لیے ظاہر ہوگیا۔ اور گویا کہ میں اہل جنت کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے ہیں اور گویا کہ میں اہل جہنم کی چیخ و پکار کی آواز سن رہا ہوں، راوی کہتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا : یہ ایسا بندہ ہے کہ ایمان نے اس کے دل میں نور کو بھر دیا ہے۔ اگر تو نے اس کو پہچان لیا تو پھر اس کو لازم پکڑو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32445
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ زبيد تابعي، وورد من حديث حارث بن مالك أخرجه مسدد كما في المطالب العالية (٢٨٧٣)، وعبد بن حميد (٤٤٥)، والطبراني (٣٣٦٧)، والبيهقي في الشعب (١٠٥٩١) والزهد (٩٧٣)، وابن عساكر ٥٤/ ١٧٩، كما ورد من حديث أنس، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٤٢، والعقيلي ٤/ ٤٥٥، والبزار (٣٢/ كشف)، والبيهقي في الشعب (١٠٥٩٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32445، ترقيم محمد عوامة 31064)