حدیث نمبر: 32366
٣٢٣٦٦ - حدثنا ابن (مهدي) (١) عن سفيان عن إبراهيم بن مهاجر عن مجاهد عن ابن عباس أنه قال لغلمانه: من أراد منكم الباءة زوجناه، فلا يزني منكم زان إلا نزع اللَّه منه نور الإيمان، فإن شاء أن يرده (رده) (٢)، وأن شاء أن يمنعه (إياه) (٣) منعه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے لڑکوں سے ارشاد فرمایا : تم میں سے جو نکاح کا ارادہ رکھتا ہو تو ہم اس کی شادی کردیتے ہیں۔ اس لیے کہ تم میں کوئی زنا کرنے والا زنا نہیں کرے گا مگر اللہ اس سے ایمان کا نور چھین لیں گے۔ پھر اگر لوٹانا چاہیں گے تو لوٹا دیں گے اور اگر روکنا چاہیں گے تو اس سے ایمان کو روک لیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32366
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ إبراهيم بن مهاجر صدوق على الصحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32366، ترقيم محمد عوامة 30989)
حدیث نمبر: 32367
٣٢٣٦٧ - (حدثنا) (١) قبيصة عن سفيان عن معمر عن ابن طاوس عن أبيه قال: عجبا لإخواننا من أهل العراق يسمون الحجاج مؤمنًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن طاوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت طاوس رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : ہمارے عراقی بھائیوں کے لیے تعجب ہے کہ وہ حجاج بن یوسف کو مومن گردانتے ہیں !۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32367
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32367، ترقيم محمد عوامة 30990)
حدیث نمبر: 32368
٣٢٣٦٨ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن الأجلح عن الشعبي قال: أشهد أنه مؤمن بالطاغوت كافر باللَّه -يعني الحجاج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اجلح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ شیاطین پر ایمان رکھتا ہے اور اللہ سے کفر کرتا ہے۔ یعنی حجاج بن یوسف۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32368
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32368، ترقيم محمد عوامة 30991)
حدیث نمبر: 32369
٣٢٣٦٩ - حدثنا فضيل بن عياض عن الأعمش عن خيثمة عن عبد اللَّه بن عمرو قال: يأتي على الناس زمان يجتمعون ويصلون في المساجد وليس فيهم مؤمن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا لوگ جمع ہوں گے اور مساجد میں نماز پڑھیں گے ۔ اس حال میں کہ ان میں ایک بھی مومن نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32369
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32369، ترقيم محمد عوامة 30992)
حدیث نمبر: 32370
٣٢٣٧٠ - حدثنا يحيى بن آدم عن سفيان عن عاصم قال: قلنا لطلق بن حبيب: صف لنا التقوى، قال: التقوى عمل بطاعة اللَّه، رجاء رحمة اللَّه، على نور من اللَّه، والتقوى ترك معصية اللَّه مخافة (١) اللَّه على نور من اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت طلق بن حبیب رحمہ اللہ سے عرض کیا : آپ ہمیں تقویٰ کی تعریف بیان کر دیجئے۔ تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : تقویٰ نام ہے اللہ کی رضا مندی کے مطابق عمل کرنے کا ، اللہ کی رحمت کی امید کرتے ہوئے ۔ اللہ کی جانب سے نور بصیرت پر۔ اور تقویٰ نام ہے اللہ کی نافرمانی چھوڑنے کا، اللہ سے ڈرنے کا۔ اللہ کی جانب سے نور بصیرت پر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32370
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32370، ترقيم محمد عوامة 30993)
حدیث نمبر: 32371
٣٢٣٧١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم أنه كان إذا ذكر الحجاج قال: ألا لعنة اللَّه على الظالمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، کہ ابراہیم رحمہ اللہ کے سامنے جب بھی حجاج بن یوسف کا ذکر کیا جاتا تو آپ رحمہ اللہ فرماتے : خبردار ظلم کرنے والوں پر اللہ کی لعنت۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32371
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32371، ترقيم محمد عوامة 30994)
حدیث نمبر: 32372
٣٢٣٧٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كفى (بمن شك) (١) في (٢) الحجاج لحاه اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : اس شخص کے حق میں جو حجاج کے بارے میں شک کرے اتنی سزا کافی ہے : کہ اللہ اسے اپنی رحمت سے دور کر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32372
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32372، ترقيم محمد عوامة 30995)
حدیث نمبر: 32373
٣٢٣٧٣ - حدثنا وكيع (عن سفيان) (١) عن عبد الملك بن أبي (بشير) (٢) عن عبد اللَّه بن (مساور) (٣) عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما (يؤمن) (٤) ⦗٣١⦘ (من) (٥) بات شبعان وجاره (طاو) (٦) إلى جنبه" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن نہیں ہے وہ شخص جو خود پیٹ بھرنے کی حالت میں رات گزارے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32373
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32373، ترقيم محمد عوامة 30996)
حدیث نمبر: 32374
٣٢٣٧٤ - حدثنا يحيى بن يعلى التيمي عن منصور عن طلق بن حبيب عن أنس بن مالك قال: ثلاث من كن فيه وجد طعم الإيمان وحلاوته: أن يكون اللَّه (١) ورسوله أحب إليه مما سواهما، وأن يحب في اللَّه ويبغض في اللَّه، وذكر (الشرك) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلق بن حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں بھی پائی جائیں تو اس شخص نے ایمان کے ذائقہ اور اس کی مٹھاس کو پالیا۔ وہ یہ ہیں کہ : اللہ اور اس کے رسول کی محبت دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ ہو، اور یہ کہ وہ کسی سے محبت کرے اللہ کی خوشنودی میں، اور کسی سے بغض رکھے اللہ کی خوشنودی میں، اور شرک کا ذکر فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32374
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه اللالكائي في اعتقاد أهل السنة (١٦٩٠)، وابن أبي الدنيا في الإخوان (١٦)، وورد مرفوعًا بنحوه عند البخاري (٢١) ومسلم (٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32374، ترقيم محمد عوامة 30997)
حدیث نمبر: 32375
٣٢٣٧٥ - حدثنا ابن نمير (قال: حدثنا) (١) هشام عن أبيه عن المسور بن مخرمة وابن عباس أنهما دخلا على عمر حين طعن (فقالا) (٢): الصلاة، فقال: إنه لاحظ لأحد في الإسلام (لمن) (٣) أضاع الصلاة، فصلى وجرحه (يثعب) (٤) دمًا (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما دونوں حضرات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے جب انہیں نیزہ مارا گیا ۔ ان دونوں نے کہا : نماز کا وقت : تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس شخص کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں جس نے نماز کو ضائع کردیا۔ پھر انہوں نے اس حال میں نماز پڑھی کہ ان کے زخم سے خون رس رہا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32375
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32375، ترقيم محمد عوامة 30998)
حدیث نمبر: 32376
٣٢٣٧٦ - حدثنا ابن (١) فضيل عن أبيه عن (شباك) (٢) عن إبراهيم عن علقمة أنه كان يقول لأصحابه: امشوا بنا (نزداد) (٣) إيمانا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ رحمہ اللہ اپنے اصحاب سے فرمایا کرتے تھے۔ ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم اپنے ایمان میں اضافہ کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32376
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32376، ترقيم محمد عوامة 30999)
حدیث نمبر: 32377
٣٢٣٧٧ - حدثنا وكيع قال حدثنا الأعمش عن جامع بن شداد عن الأسود بن هلال المحاربي قال: قال (لي) (١) معاذ: اجلس بنا (نؤمن) (٢) ساعة -يعني نذكر اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن ھلال المحاربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : ہمارے ساتھ بیٹھو ہم کچھ گھڑی ایمان کا مذاکرہ کرلیں یعنی : ہم اللہ کا ذکر کرلیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32377
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32377، ترقيم محمد عوامة 31000)
حدیث نمبر: 32378
٣٢٣٧٨ - حدثنا أبو أسامة عن مهدي بن ميمون عن عمران القصير عن معاوية بن قرة قال (١): كان أبو الدرداء يقول: اللهم إني أسألك إيمانا دائما وعلما نافعا، وهديا قيمًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ یوں دعا فرماتے تھے : اے اللہ ! میں آپ سے مانگتا ہوں ہمیشہ کا ایمان، اور علم نافع اور سیدھا راستہ۔ حضرت معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : پس ہمیں سمجھ آئی ! بیشک ایمان ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمیشہ نہ رہے ، اور علم ایسا بھی ہوتا ہے جو نفع نہ پہنچائے، اور ایسا بھی راستہ ہوتا ہے جو سیدھا نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32378
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32378، ترقيم محمد عوامة 31001)
حدیث نمبر: 32379
٣٢٣٧٩ - قال معاوية: (فترى) (١) من الإيمان إيمانا ليس بدائم ومن العلم علما لا ينفع ومن الهدي هديا ليس بقيم (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32379
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32379، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 32380
٣٢٣٨٠ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن جامع بن شداد عن الأسود ابن هلال قال: كان معاذ يقول لرجل من إخوانه: اجلس بنا فلنؤمن ساعة، فيجلسان ⦗٣٣⦘ (يتذاكران) (١) اللَّه ويحمدانه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن ھلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہاپنے ساتھیوں میں سے کسی ایک سے کہتے : ہمارے ساتھ بیٹھو پس تاکہ ہم کچھ دیر ایمان کا مذاکرہ کریں۔ پھر وہ دونوں بیٹھ کر اللہ کا ذکر اور اس کی حمد و ثنا بیان کرتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32380
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البيهقي في شعب الإيمان (٤٤)، والحافظ في التغليق ٢/ ٢٠، وعلقه البخاري في أول كتاب الإيمان من الصحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32380، ترقيم محمد عوامة 31002)
حدیث نمبر: 32381
٣٢٣٨١ - حدثنا أبو أسامة عن محمد بن طلحة عن زبيد عن (زر) (١) قال: كان عمر مما يأخذ بيد الرجل والرجلين من أصحابه فيقول: قم بنا (نزدد) (٢) إيمانًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زرّ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہان لوگوں میں سے تھے جو اپنے اصحاب میں سے ایک یا دو آدمیوں کا ہاتھ پکڑ کر فرماتے : ہمارے ساتھ آؤ ہم ایمان میں اضافہ کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32381
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32381، ترقيم محمد عوامة 31003)
حدیث نمبر: 32382
٣٢٣٨٢ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) الأعمش عن (سليمان) (٢) بن ميسرة والمغيرة بن شبل عن طارق بن شهاب الأحمسي عن (سلمان) (٣) قال: إن مثل الصلوات الخمس كمثل سهام الغنيمة؛ فمن (يضرب) (٤) فيها بخمسة خير ممن يضرب فيها بأربعة، ومن يضرب فيها (بأربعة) (٥) خير ممن يضرب فيها بثلاثة، ومن يضرب فيها بثلاثة خير ممن يضرب فيها بسهمين، ومن يضرب فيها بسهمين خير ممن يضرب فيها (بسهم) (٦)، وما جعل اللَّه من له سهم في الإسلام (كمن) (٧) لا سهم له (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شھاب الاحمسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بیشک پانچ نمازوں کی مثال غنیمت کے حصول کی سی ہے۔ پس جو شخص اس میں سے پانچ حصے لیتا ہے وہ بہتر ہے اس سے جو اس میں سے چار حصے لیتا ہے۔ اور جو شخص اس میں سے چار حصے لیتا ہے وہ بہتر ہے اس سے جو اس میں سے تین حصے لیتا ہے اور جو شخص اس میں سے تین حصے لیتا ہے وہ بہتر ہے اس سے جو اس میں سے دو حصے لیتا ہے اور جو شخص اس میں سے دو حصے لیتا ہے وہ بہتر ہے، اس سے جو ایک حصہ لیتا ہے۔ اور اللہ نہ بنائے اس شخص کو جس کا اسلام میں ایک حصہ ہو اس کی طرح جس کا کوئی حصہ نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32382
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32382، ترقيم محمد عوامة 31004)
حدیث نمبر: 32383
٣٢٣٨٣ - [حدثنا يزيد بن هارون عن العوام عن علي بن مدرك عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال: الإيمان (نور) (١)، فمن زنا فارقه الإيمان، (فمق لام) (٢) نفسه و (راجع) (٣) راجعه الإيمان] (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زرعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ایمان تو ایک نور ہے پس جو شخص زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے جدا ہوجاتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو ایمان اس کے پاس واپس لوٹ آتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32383
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32383، ترقيم محمد عوامة 31005)
حدیث نمبر: 32384
٣٢٣٨٤ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أكمل المؤمنين إيمانا (وأفضل المؤمنين إيمانا) (٢) أحسنهم خلقا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومنین میں سے کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اخلاق کے اعتبار سے زیادہ اچھے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32384
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٧٤٠٢)، والترمذي (١١٦٢)، وأبو داود (٤٦٨٢)، وابن حبان (٤١٧٦)، والحاكم ١/ ٣، والبغوي (٢٣٤١)، والدارمي (٢٧٩٢)، والبيهقي ١٠/ ١٩٢، والطحاوي في شرح المشكل (٤٤٣٠)، والقضاعي في مسند الشهاب (١٢٩١)، وأبو نعيم في الحلية ٩/ ٢٤٨، والبخاري في الأدب المفرد (١٣٠٨)، والمزي ٤/ ٣٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32384، ترقيم محمد عوامة 31006)
حدیث نمبر: 32385
٣٢٣٨٥ - [حدثنا حفص بن غياث عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أكمل المؤمنين إيمانًا وأفضل المؤمنين إيمانًا: أحسنهم خلقًا] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومنین میں سے کامل ایمان والے اور افضل ترین ایمان والے وہ لوگ ہیں جو ان میں سے اخلاق کے اعتبار سے زیادہ اچھے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32385
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32385، ترقيم محمد عوامة 31007)
حدیث نمبر: 32386
٣٢٣٨٦ - حدثنا حفص (بن غياث) (١) عن خالد عن أبي قلابة عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ "أكمل المؤمنين إيمانا: أحسنُهم خلقا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومنین میں سے کامل ترین ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اخلاق کے زیادہ اچھے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32386
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الترمذي (٢٦١٢)، والحاكم ١/ ١١٩ (١٧٣)، وأحمد ٦/ ٤٧ (٢٤٢٥٠)، والمروزي في تعظيم الصلاة (٨٨٠)، وعبد اللَّه بن أحمد في السنة (٧٨١)، واللالكائي (١٦١٦)، وابن السني في عمل اليوم والليلة (٦١٠)، وابن أبي الدنيا في العيال (٤٧٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32386، ترقيم محمد عوامة 31008)
حدیث نمبر: 32387
٣٢٣٨٧ - حدثنا (المقرئ) (١) عن سعيد بن أبي أيوب عن ابن عجلان عن القعقاع عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أكمل المؤمنين (إيمانا) (٢) أحسنُهم خلقًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومنین میں سے کامل ترین ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اخلاق کے زیادہ اچھے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32387
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن عجلان صدوق، أخرجه أحمد (١٠٨١٧)، والحاكم ١/ ٣، والبيهقي في شعب الإيمان (٢٦)، وفي السنن ١٠/ ١٩٢، والطحاوي في شرح المشكل (٤٤٣٠)، وانظر: ما تقدم [٣٢٣٨٤].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32387، ترقيم محمد عوامة 31009)
حدیث نمبر: 32388
٣٢٣٨٨ - حدثنا أبو أسامة عن جرير بن حازم عن يعلى بن حكيم قال: (١) أكثر ظني أنه قال عن سعيد بن جبير قال: (قال) (٢) ابن عمر: (إن) (٣) الحياء والإيمان قرنًا جميعًا فإذا رفع أحدهما رفع الآخر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : بیشک حیا اور ایمان دونوں کو ملا دیا گیا ہے۔ پس جب ان دونوں میں سے ایک اٹھتا ہے تو دوسرے کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32388
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32388، ترقيم محمد عوامة 31010)
حدیث نمبر: 32389
٣٢٣٨٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن سلمة عن إبراهيم عن علقمة قال: قال وجل عند عبد اللَّه: إني مؤمن، فقال: قل: إني في الجنة! ولكنا نؤمن باللَّه وملائكته وكتبه ورسله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس یوں کہا : یقینا میں مومن ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یوں کہہ ! یقینا میں اہل جنت میں سے ہوں ؟ ! اور فرمایا لیکن ہم اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر ، اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32389
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32389، ترقيم محمد عوامة 31011)
حدیث نمبر: 32390
٣٢٣٩٠ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن علقمة قال: قيل له أمؤمن أنت قال: أرجو.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کیا آپ مومن ہیں ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : میں امید کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32390
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32390، ترقيم محمد عوامة 31012)
حدیث نمبر: 32391
٣٢٣٩١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن سماك بن سلمة عن عبد الرحمن بن عصمة أن عائشة قالت: أنتم المؤمنون إن شاء اللَّه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن عصمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو تم ایمان والے ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32391
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32391، ترقيم محمد عوامة 31013)
حدیث نمبر: 32392
٣٢٣٩٢ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن قال: إذا سئل أحدكم أمؤمن في إيمانه [فلا يشكنَّ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبد الرحمن رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کسی ایک سے سوال کیا جائے : کیا تم مومن ہو ؟ تو وہ ہرگز شک مت کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32392
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32392، ترقيم محمد عوامة 31014)
حدیث نمبر: 32393
٣٢٣٩٣ - حدثنا وكيع عن مسعر عن زياد بن علاقة عن عبد اللَّه بن يزيد قال: إذا سئل أحدكم أمؤمن أنت؟] (١) فلا يشك في إيمانه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن یزید رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کسی ایک سے سوال کیا جائے : کہ کیا تم مومن ہو ؟ تو وہ ہرگز اپنے ایمان میں شک مت کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32393
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32393، ترقيم محمد عوامة 31015)
حدیث نمبر: 32394
٣٢٣٩٤ - حدثنا وكيع عن مسعر عن موسى بن أبي كثير عن رجل لم يسمه عن أبيه قال: سمعت ابن مسعود يقول: أنا مؤمن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا : کہ میں مومن ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32394
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32394، ترقيم محمد عوامة 31016)
حدیث نمبر: 32395
٣٢٣٩٥ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي وائل قال: جاء رجل (إلى عبد اللَّه) (١) فقال: لقيت ركبا فقلت: من أنتم؟ قالوا: نحن المؤمنون، قال: ⦗٣٧⦘ (فقال) (٢): (أفلا) (٣) قالوا: نحن (في) (٤) الجنة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک آدمی آ کر کہنے لگا : میں چند سواروں سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا : تم کون لوگ ہو ؟ وہ کہنے لگے : ہم ایمان والے ہیں، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : انہوں نے یوں کیوں نہیں کہہ دیا : کہ ہم جنت میں ہیں ! !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32395
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32395، ترقيم محمد عوامة 31017)
حدیث نمبر: 32396
٣٢٣٩٦ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن معمر عن ابن طاوس عن أبيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت محل اور ابراہیم رحمہ اللہ جب ان دونوں سے ایمان کا پوچھا جاتا تو فرماتے : ہم ایمان لائے اللہ پر، اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32396
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32396، ترقيم محمد عوامة 31018)
حدیث نمبر: 32397
٣٢٣٩٧ - وعن (محل) (١) عن إبراهيم أنهما كانا إذا سئلا قالا: آمنا باللَّه وملائكته وكتبه ورسله.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32397
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32397، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 32398
٣٢٣٩٨ - حدثنا أبو معاوية عن الشيباني قال: لقيت عبد اللَّه بن (معقل) (١) فقلت له: إن أناسًا من أهل الصلاح يعيبون علي أن أقول: أنا مؤمن (٢)، فقال عبد اللَّه (ابن معقل) (٣): لقد خبت وخسرت إن لم تكن مؤمنًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن معقل رحمہ اللہ سے ملاقات کی تو میں نے ان سے عرض کی : دین داروں میں سے کچھ لوگ عیب لگاتے ہیں میرے یوں کہنے پر : میں مومن ہوں۔ تو حضرت عبد اللہ بن معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تحقیق تم ناکام و نامراد ہو اگر تم مومن نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32398
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32398، ترقيم محمد عوامة 31019)
حدیث نمبر: 32399
٣٢٣٩٩ - حدثنا وكيع عن (عمر) (١) بن منبه عن سوار بن شبيب قال: جاء رجل إلى ابن عمر فقال إن هاهنا قومًا يشهدون علي بالكفر، فقال: ألا تقول: لا إله إلا اللَّه فتكذبهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوار بن شبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا : یہاں کچھ لوگ ہیں جو میرے خلاف کفر کی گواہی دیتے ہیں ، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یوں کیوں نہیں کہتے؛ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس طرح ان کی تکذیب کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32399
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ عمر وسوار وثقهما ابن معين.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32399، ترقيم محمد عوامة 31020)
حدیث نمبر: 32400
٣٢٤٠٠ - حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن (ابن علاقة) (١) عن عبد اللَّه ابن يزيد الأنصاري قال: تسموا (بأسمائكم) (٢) التي سماكم اللَّه بالحنيفية والإسلام والإيمان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن یزید الانصاری رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : تم اپنے آپ کو ان ناموں کے ساتھ مسمّٰی کرو جو اللہ نے تمہارے نام رکھے ہیں۔ حنیفی، مسلمان اور مومن۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32400
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32400، ترقيم محمد عوامة 31021)
حدیث نمبر: 32401
٣٢٤٠١ - حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن إدريس عن الأعمش عن (شقيق) (٢) عن سلمة بن سبرة قال: خطبنا معاذ فقال: أنتم المؤمنون وأنتم أهل الجنة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن سبرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب فرمایا : اور فرمانے لگے : تم لوگ ایمان والے ہو اور تم جنتی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32401
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32401، ترقيم محمد عوامة 31022)
حدیث نمبر: 32402
٣٢٤٠٢ - حدثنا عمر بن أيوب عن جعفر بن برقان قال: كتب إلينا عمر ابن عبد العزيز: أما بعد فإن عرى الدين وقوام الإسلام: الإيمان باللَّه وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة، فصلوا الصلاة لوقتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ہمیں خط لکھا جس میں فرمایا : حمدو صلوۃ کے بعد یقینا دین کی مضبوطی اور اسلام کی بنیاد، ایمان باللہ، اور نمازوں کی پابندی کرنا، اور زکوٰۃ دینا ہے، پس تم لوگ نماز کو اس کے وقت پر پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32402
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32402، ترقيم محمد عوامة 31023)
حدیث نمبر: 32403
٣٢٤٠٣ - حدثنا محمد بن بشر قال: (حدثنا) (١) سعيد عن قتادة عن أنس أن نبي اللَّه ﷺ قال: "يخرج من النار من قال: لا إله إلا اللَّه وكان في قلبه من الخير (٢) شعيرة، ثم قال (الثانية) (٣): يخرج من النار من قال: لا إله إلا اللَّه، و (كان) (٤) في ⦗٣٩⦘ قلبه من الخير (ما) (٥) يزن برة، [ثم قال: يخرج من النار من قال: لا إله إلا اللَّه وكان في قلبه من الخير ما يزن ذرة] (٦) " (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہنم سے نکلے گا وہ شخص جس نے اس کلمہ کو پڑھا ہو : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھلائی ہو، پھر دوسری مرتبہ فرمایا : اور جہنم سے نکلے گا وہ شخص جس نے اس کلمہ کو پڑھا ہو : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کے دل میں گیہوں کے وزن کے برابر بھلائی ہو، پھر فرمایا : جہنم سے نکلے گا وہ شخص بھی جس نے اس کلمہ کو پڑھا ہو : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اس حال میں کہ اس کے دل میں ذرے کے وزن کے برابر بھلائی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32403
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٤)، ومسلم (١٩٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32403، ترقيم محمد عوامة 31024)
حدیث نمبر: 32404
٣٢٤٠٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال أخبرنا بن أبي ذئب عن الزهري عن عامر بن سعد عن أبيه أن نفرا أتوا رسول اللَّه ﷺ (فسألوه) (١) فأعطاهم إلا رجلًا منهم، فقال سعد: يا رسول اللَّه (٢) أعطيتهم وتركت فلانًا، واللَّه إني لأراه مؤمنًا، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أو مسلما" (فقال) (٣) سعد: واللَّه إني لأراه مؤمنا فقال رسول اللَّه ﷺ: "أو مسلما" (فقال ذلك ثلاثًا) (٤) فقال رسول اللَّه ﷺ (٥) ذلك ثلاثًا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو مال عطا کیا سوائے ان میں سے ایک آدمی کے، تو سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو عطا کیا اور فلاں کو چھوڑ دیا۔ اللہ کی قسم ! میں اسے مومن جانتا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یا مسلمان سمجھتے ہو ؟۔ تو سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں اس کو مومن جانتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یا مسلمان سمجھتے ہو ؟ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار کہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32404
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٤٧٨)، ومسلم (١٥٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32404، ترقيم محمد عوامة 31025)
حدیث نمبر: 32405
٣٢٤٠٥ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي عثمان عن سلمان قال: (فيقال) (١) له: سل تعطه -يعني النبي ﷺ (فاشفع) (٢) تشفع وادع تجب، (قال) (٣): (فيرفع) (٤) رأسه فيقول: " (أمتي) (٥) أمتي" -مرتين أو ثلاثًا، (فقال) (٦) ⦗٤٠⦘ سلمان: (يشفع) (٧) في كل من في قلبه مثقال حبة حنطة من إيمان، أو (قال) (٨): مثقال شعيرة من إيمان أو (قال) (٩): مثقال حبة خردل من إيمان، (قال) (١٠) سلمان: (فذلكم) (١١) المقام المحمود (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ان کو کہا جائے گا : مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو۔ شفاعت کرو ، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ دعا کرو قبول کی جائے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھائیں گے اور ارشاد فرمائیں گے دو یا تین مرتبہ ! میرے رب ! میری امت ، میری امت ! پھر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت کریں گے ہر اس شخص کے بارے میں جس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو، یا فرمایا : کہ جو کے دانے کے برابر ایمان ہو، یا فرمایا : کہ رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ تمہارے لیے مقام محمود ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الإيمان / حدیث: 32405
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن أبي عاصم في السنة (٨١٣)، والطبراني (٦١١٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32405، ترقيم محمد عوامة 31026)