حدیث نمبر: 32280
٣٢٢٨٠ - حدثنا علي بن مسهر عن داود عن الشعبي عن علقمة عن عبد اللَّه قال: إذا (شككتم) (١) في الياء والتاء فاجعلوها ياء، فإن القرآن ذكر فذكروه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب تم لوگوں کو کسی حرف کی یاء اور تاء ہونے میں شک ہوجائے تو اس کو یاء بنادو۔ کیونکہ قرآن مذکر ہے پس تم اس کو مذکر پڑھو۔
حدیث نمبر: 32281
٣٢٢٨١ - حدثنا معاوية بن (هشام) (١) قال: حدثنا أبونزار المرادي عن عمرو بن ميسرة عن أبي عبد الرحمن السلمي قال: إذا اختلفتم في القرآن في ياء أو تاء فاجعلوها ياء فإن القرآن نزل على الياء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میسرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبد الرحمن السلمی نے ارشاد فرمایا : جب تم قرآن میں کسی حرف کے یاء اور تاء ہونے کے بارے میں اختلاف کرو تو اس کو یاء بنادو۔ بلاشبہ قرآن حرف یاء پر نازل ہوا ۔
حدیث نمبر: 32282
٣٢٢٨٢ - حدثنا معاوية بن (عمر) (١) عن زائدة عن عاصم عن (زر) (٢) عن عبد اللَّه قال: إذا تماريتم (في القرآن) (٣) في ياء أو تاء فاجعلوها ياء وذكروا القرآن فإنه مذكر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زرّ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب تم قرآن میں حرف یاء اور حرف تاء کے بارے میں جھگڑنے لگو تو اس کو حرف یاء بنادو۔ اور قرآن کو مذکر پڑھو کیونکہ وہ مذکر ہے۔
حدیث نمبر: 32283
٣٢٢٨٣ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن يحيى بن جعدة عن ابن مسعور قال: القرآن ذكر، فذكروه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جعدہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود نے ارشاد فرمایا : قرآن کو مذکر پڑھو کیونکہ وہ مذک رہے۔