کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں قرآن پڑھنے والے کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں
حدیث نمبر: 32223
٣٢٢٢٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن أبيه قال: كان عمر بن عبد العزيز لا يفرض إلا لمن قرأ القرآن قال: وكان أبي ممن قرأ القرآن ففرض له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن فضیل فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت فضیل نے ارشاد فرمایا : حضرت عمر بن عبد العزیز عطیہ مقرر نہیں فرماتے تھے مگر اس شخص کے لیے جس نے قرآن پڑھا ہو۔ اور میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے قرآن پڑھا تھا تو ان کے لیے عطیہ مقرر کردیا گیا۔
حدیث نمبر: 32224
٣٢٢٢٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الشيباني عن (يسير) (١) بن عمرو قال: أراد سعد أن يلحق من قرأ القرآن على ألفين ألفين، فكتب إليه عمر: تعطي على كتاب اللَّه أجرًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یسیر بن عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت سعد نے ارادہ کیا کہ جو شخص قرآن پڑھا ہوا ہو اس کے لیے دو دو ہزار مقرر کردیا جائے، تو حضرت عمر نے ان کی طرف خط لکھا : تم اللہ کی کتاب پر اجرت دو گے !۔
حدیث نمبر: 32225
٣٢٢٢٥ - حدثنا الثقفي عن أيوب عن محمد قال: جمع ناس القرآن حتى بلغوا (عدة) (١)، فكتب أبو موسى إلى عمر بذلك، فكتب إليه عمر: إن بعض الناس (أروى) (٢) له من بعض، ولعل بعض من يقرأه أن يقوم المقام خير من قراءة الآخر أخر ما عليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ کے پاس قرآن سیکھنے کے لیے لوگوں کی اچھی خاصی تعداد جمع ہوگئی تو انہوں نے اس بارے رائے طلب کرنے کے لئے حضرت عمر کو خط لکھا۔ حضرت عمر نے جواب میں لکھا کہ کچھ لوگ قرآن کو دوسروں سے زیادہ یاد کرنے والے ہوتے ہیں۔ اسی طرح اس کی قراءت کرنے والے بعض لوگ بھی دوسروں سے بہتر ہے۔