کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: قرآن کے سب سے پہلے حصہ اور سب سے آخری حصہ کے نازل ہونے کا بیان
٣٢٢١٥ - حدثنا وكيع (قال: حدثنا) (١) إسرائيل عن أبي إسحاق عن البراء قال: آخر سورة نزلت كاملة براءة وآخر آية نزلت في القرآن: ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ (٢) [النساء: ١٧٦].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت براء نے ارشاد فرمایا : سب سے آخری مکمل نازل ہونے والی سورة برائت ہے، اور قرآن میں سب سے آخری نازل ہونے والی آیت یہ ہے ( آپ سے فتوی پوچھتے ہیں ، کہو اللہ فتوی دیتا ہے تمہیں کلالہ کے بارے میں) ۔
٣٢٢١٦ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن السدي قال: آخر آية نزلت: ﴿وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ (ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ) (١)﴾ [البقرة: ٢٨١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابی خالد فرماتے ہیں کہ حضرت سدّی نے ارشاد فرمایا : سب سے آخر میں یہ آیت نازل ہوئی ( اور ڈرو اس دن سے کہ جب لوٹ کر جاؤ گے تم اس دن اللہ کے حضور پھر پورا پورا دیا جائے گا ہر شخص کو (بدلہ) اس کے کمائے ہوئے عملوں کا اور ان پر ہرگز ظلم نہ ہوگا۔
٣٢٢١٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: (أنا) (١) مالك بن معول عن عطية العوفي قال: آخر آية نزلت: ﴿وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ﴾.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن مغول فرماتے ہیں کہ حضرت عطیہ عوفی نے ارشاد فرمایا : آخری آیت یہ نازل ہوئی تھی ( اور ڈرو اس دن سے کہ جب لوٹ کر جاؤ گے تم اس دن اللہ کے حضور پھر پورا پورا دیا جائے گا ہر شخص کو ( بدلہ) اس کے کمائے ہوئے عملوں کا اور ان پر ہرگز ظلم نہ ہوگا) ۔
٣٢٢١٨ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا (ابن) (١) بشير قال: حدثنا مالك عن أبي السفر عن البراء قال: آخر آية نزلت: ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو السفر فرماتے ہیں کہ حضرت براء نے ارشاد فرمایا : سب سے آخر میں یہ آیت نازل ہوئی (آپ سے فتوی پوچھتے ہیں ِ ، کہو اللہ فتویٰ دیتا ہے تمہیں کلالہ کے بارے میں ) ۔
٣٢٢١٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: هي أول سورة نزلت: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ [العلق: ١]، ثم نون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی نجیح فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے فرمایا : یہ سورت سب سے پہلے نازل ہوئی (پڑھو ( اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اپنے رب نام لے کر جس نے پیدا کیا۔ پھر سورة ن نازل ہوئی۔
٣٢٢٢٠ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن أبي إسحاق عن البراء قال: آخر آية في القرآن: ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت براء نے ارشاد فرمایا : قرآن میں سب سے آخری آیت یہ نازل ہوئی (آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں کہو اللہ فتویٰ دیتا ہے تمہیں کلالہ کے بارے میں۔ )
٣٢٢٢١ - حدثنا وكيع عن شعبة عن عمرو بن (دينار) (١) قال: سمعت عبيد بن عمير يقول: (أول) (٢) ما نزل من القرآن: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ ثم نون (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں میں نے حضرت عبید بن عمیر کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : قرآن میں سب سے پہلے یہ سورت نازل ہوئی (پڑھو ( اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اپنے رب کا نام لے کر جس نے پیدا کیا پھر سورت ن نازل ہوئی۔ )
٣٢٢٢٢ - حدثنا وكيع عن قرة عن أبي رجاء قال: أخذت من أبي موسى: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ وهي أول سورة أنزلت على مُحْمدٍ ﷺ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رجائ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو موسیٰ سے یہ سورت سیکھی (پڑھو ( اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اپنے رب کا نام لے کر جس نے پیدا کیا ) یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہونے والی پہلی سورت ہے۔