حدیث نمبر: 32204
٣٢٢٠٤ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن زر قال: قلت لأبي: إن ابن مسعود لا يكتب المعوذتين في مصحفه فقال: إني سألت عنهما النبي ﷺ فقال: "قيل لي فقلت: "، فقال أبي: (فنحن) (١) نقول كما قيل لنا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زرّ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی سے پوچھا ! حضرت ابن مسعود معوذتین کو صحیفہ میں نہیں لکھتے اور فرماتے ہیں : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان دونوں سورتوں کی بابت سوال کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ تو مجھے پڑھنے کے لیے دی گئی تھیں پس میں نے ان کو پڑھ لاِ ۔ تو حضرت ابی ّ نے جواباً ارشاد فرمایا : اور ہم ان کو پڑھتے ہیں جیسا کہ ہمیں کہا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 32205
٣٢٢٠٥ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن (حصين) (١) عن الشعبي قال: (المعوذتان) (٢) من القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے ارشاد فرمایا : معوذتین قرآن کا حصہ ہیں۔
حدیث نمبر: 32206
٣٢٢٠٦ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن الشعبي بنحو منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین سے امام شعبی کا ما قبل جیسا ارشاد اس سند سے مروی ہے۔
حدیث نمبر: 32207
٣٢٢٠٧ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن يزيد قال: رأيتا عبد اللَّه (يحك) (١) المعوذتين من مصاحفه، (وقال) (٢): لا تخلطوا فيه ما ليس منه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ معوذتین کو اپنے صحیفوں میں سے کھرچ کر مٹا رہے تھے اور فرمایا : جو قرآن میں سے نہیں ہے اس کو اس میں خلط ملط مت کرو۔
حدیث نمبر: 32208
٣٢٢٠٨ - حدثنا وكيع قال (١): (حدثنا) (٢) سفيان عن الأعمش (عن إبراهيم) (٣) قال: قلت للأسود: من القرآن (٤) هما؛ قال: نعم -يعني المعوذتين.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت اسود سے دریافت کیا : کیا یہ دونوں قرآن کا حصہ ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! یعنی معوذتین۔
حدیث نمبر: 32209
٣٢٢٠٩ - حدثنا يحيى بن أبي بكير عن إبراهيم بن رافع قال: سمعت سليمان مولى أم علي أن مجاهدا كان يكره أن يقرأ بالمعوذات وحدها حتى يجعل معها سورة (أخرى) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان جو کہ ام علی رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ بلا شبہ حضرت مجاہد ناپسند کرتے تھے کہ وہ صرف معوذتین کو اکیلے پڑھیں ۔ یہاں تک کہ وہ اس کے ساتھ دوسری سورت کو ملا لیتے۔
حدیث نمبر: 32210
٣٢٢١٠ - حدثنا مطلب بن زياد عن محمد بن (سالم) (١) قال: قلت لأبي جعفر: إن ابن مسعود (محا) (٢) المعوذتين من صحفه فقال: اقرأ بهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سالم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے عرض کیا : بلاشبہ حضرت ابن مسعود نے معوذتین کو مصاحف سے مٹا دیا تھا ! تو آپ نے فرمایا : تم ان دونوں کو پڑھا کرو۔
حدیث نمبر: 32211
٣٢٢١١ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبو هلال قال: حدثنا منصور القصاب قال: سألت الحسن (١) قلت: يا أبا سعيد أقرأ المعوذتين في صلاة الفجر؟ (قال) (٢): نعم إن شئت، (سورتان مباركتان طيبتان) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور قصاب فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے پوچھا : اے ابو سعید ! کیا میں معوذتین کو فجر کی نماز میں پڑھ سکتا ہوں ؟ تو آپ نے فرمایا : ہاں اگر تم چاہو، یہ دونوں بہت مبارک اور پاکیزہ سورتیں ہیں۔
حدیث نمبر: 32212
٣٢٢١٢ - حدثنا أبو أسامة عن سفيان عن معاوية بن صالح عن عبد الرحمن بن جبير عن أبيه عن عقبة بن عامر أنه سأل رسول اللَّه ﷺ عن المعوذتين قال: فأمنا بهما رسول اللَّه ﷺ في صلاة الفجر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معوذتین کی بابت پوچھا ! آپ فرماتے ہیں : پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کے ساتھ فجر کی نماز میں ہماری امامت کروائی۔
حدیث نمبر: 32213
٣٢٢١٣ - حدثنا وكيع عن هشام بن الغاز عن سليمان بن موسى عن عقبة بن عامر قال: كنت مع النبي ﷺ في سفر، فلما طلع الفجر (١) وأقام ثم أقامني عن يمينه وقرأ بالمعوذتين، فلما انصرف قال: كيف رأيت؟ (قلت: قد رأيت) (٢) يا رسول اللَّه قال: فاقرأ بهما كلما نمت وكلما قمت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا۔ پس جب فجر صادق طلوع ہوئی ۔ میں نے اذان دی اور اقامت کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کیا اور معوذتین کی تلاوت فرمائی۔ پس جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو نے دیکھ لیا جو میں نے پڑھا ؟ مں ھ نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تحقیق میں نے دیکھ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو ان دونوں سورتوں کو پڑھا کر جب بھی تو سو اور جب بھی تو بیدار ہو۔
حدیث نمبر: 32214
٣٢٢١٤ - حدثنا وكيع عن ابن عون عن ابن سيرين قال: كان ابن مسعود لا يكتب المعوذتين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود معوذتین کو نہیں لکھتے تھے۔