کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن کی تلاوت کی
حدیث نمبر: 32055
٣٢٠٥٥ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن قتادة قال: سمعت أنسًا يقول: قرأه معاذ وأُبيُّ وسعد وأبو زيد قال: قلت: من أبو زيد؟ قال: أحد عمومتي (على عهد النبي ﷺ) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس نے ارشاد فرمایا : حضرت معاذ اور حضرت ابی ّ اور حضرت سعد اور حضرت ابو زید نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے قرآن پڑھا، قتادہ فرماتے ہیں ! میں نے پوچھا ! ابو زید کون تھے ؟ آپ نے فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک عام انصاری صحابی تھے۔
حدیث نمبر: 32056
٣٢٠٥٦ - حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل عن الشعبي قال: (قرأ) (١) القرآن في عهد النبي ﷺ أبيٌّ، ومعاذ، وزيد، وأبو زيد، وأبو الدرداء، وسعيد بن عبيد، ولم (يقرأه) (٢) أحد من الخلفاء من أصحاب النبي ﷺ إلا عثمان، وقرأه (مجمع بن جارية) (٣) إلا سورة أو سورتين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل فرماتے ہیں کہ امام شعبی نے ارشاد فرمایا : ان حضرات نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں قرآن پڑھا حضرت ابی ّ ، حضرت معاذ ، حضرت زید ، حضرت ابو زید ، حضرت ابو الدرداء ، اور حضرت سعید بن عبید وغیرہ، اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلفاء میں سے کسی نے بھی ان کے سامنے قرآن نہیں پڑھا سوائے حضرت عثمان کے۔ اور حضرت مجمع بن جاریہ نے بھی ایک یا دو سورتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پڑھیں۔
حدیث نمبر: 32057
٣٢٠٥٧ - حدثنا ابن إدريس عن الأعمش عن إبراهيم عن عبد اللَّه قال: جاء معاذ إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه أقرئني، فقال رسول اللَّه ﷺ: ("أقرئه") (١)، فأقرأته ما كان معي ثم اختلفت أنا وهو إلى رسول اللَّه ﷺ، فقرأه معاذ (وكان) (٢) معلمًا من المعلمين على عهد رسول اللَّه ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور فرمایا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے قرآن پڑھا دیجیے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عبد اللہ ! اس کو قرآن پڑھا دو ۔ پس جو مجھے یاد تھا میں نے ان کو پڑھا دیا، پھر میں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، تو حضرت معاذ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے قرآن پڑھا۔ اور حضرت معاذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں قرآن سکھانے والے معلمین میں سے ایک معلم تھے۔
حدیث نمبر: 32058
٣٢٠٥٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن (خمير) (١) بن مالك عن عبد اللَّه قال: قرأت من في رسول اللَّه ﷺ سبعين سورة وأن زيد بن ثابت له (ذؤابتان) (٢) في الكُتّاب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خمیر بن مالک فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے ستر سورتیں سیکھی ہیں۔ اور بیشک زید بن ثابت کو لکھنے والوں میں دو نمایاں خصوصیتیں حاصل ہیں۔
حدیث نمبر: 32059
٣٢٠٥٩ - حدثنا هشيم عن أبي بشر عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: جمعت المحكم على عهد رسول اللَّه ﷺ يعني المفصل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں محکم آیات جمع کی تھیں۔ یعنی وہ آیات جو ظاہر و واضح ہیں ان میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔
حدیث نمبر: 32060
٣٢٠٦٠ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن هشام عن محمد قال: كان أصحابنا لا يختلفون أن رسول اللَّه ﷺ قبض ولم يقرأ القرآن من أصحابه إلا أربعة كلهم من الأنصار: معاذ بن جبل وأبي بن كعب وزيد وأبو زيد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت محمد نے ارشاد فرمایا : ہمارے ساتھی اس بات میں اختلاف نہیں کرتے تھے کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصال فرما گئے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے صرف چار نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے قرآن پڑھا۔ اور وہ سب انصار میں سے تھے۔ حضرت معاذ بن جبل ، حضرت ابی ّ بن کعب ، حضرت زید اور حضرت ابو زید ۔