کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: علامات ایمان کا بیان
حدیث نمبر: 31876
٣١٨٧٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن حميد أن سعيد بن أبي الحسن كان يقول: اللهم سومنا سيماء الإيمان، وألبسنا لباس التقوى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن ابو الحسن یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! ہم پر ایمان کی علامت لگا دے۔ اور ہمیں تقوے کا لباس پہنا دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31876
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31876، ترقيم محمد عوامة 30506)
حدیث نمبر: 31877
٣١٨٧٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة (عن ثابت) (١) قال: كنا في مكان لا (تنفذه) (٢) الدواب فقمت وأنا أقرأ هؤلاء الآيات: ﴿غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ﴾ [غافر: ٣]، قال: فمر شيخ على بغلة شهباء قال: قل: يا غافر الذنب اغفر ذنبي، يا قابل التوب اقبل توبتي، يا شديد العقاب اعف عن عقابي، يا ذا الطول طل علي بخير، قال: فقلتها ثم نظرت فلم أره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد بن سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ثابت نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگ ایسی جگہ میں تھے جسے جانور پار نہیں کر پا رہے تھے۔ پس میں کھڑا ہوا اس حال میں کہ میں ان آیات کی تلاوت کر رہا تھا ! ترجمہ ! گناہ کو معاف کرنے والے، اور توبہ قبول کرنے والے، سخت پکڑ والے۔ آپ فرماتے ہیں : پس ایک بزرگ پیشانی پر بالوں والے خچر پر سوار ہو کر گزرے اور فرمایا : یوں کہو، اے گناہوں کو معاف کرنے والے، میرے گناہ کو معاف فرما، اے توبہ قبول کرنے والے، میری توبہ کو قبول فرما۔ اے سخت پکڑ والے، مجھ سے میری سزا کو معاف فرما۔ اے لمبائی والے ! مجھ پر خیر کو لمبا کر دے ۔ آپ فرماتے ہیں ! میں نے ان کلمات کو پڑھا۔ پھر میں نے دیکھا تو مجھے وہاں کوئی دکھائی نہیں دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31877
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31877، ترقيم محمد عوامة 30507)
حدیث نمبر: 31878
٣١٨٧٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن عبيد اللَّه بن عبيد أن جبريل (موكل) (١) بالحوائج فإذا سأل المؤمن ربه قال: (احبس) (٢) (احبس) (٣) (حبا) (٤) لدعائه أن يزداد، وإذا سأل الكافر قال: أعطه، أعطه، بغضًا لدعائه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت عبید اللہ بن عبید نے ارشاد فرمایا : بیشک حضرت جبرائیل ضروریات کے پورا کرنے پر مامور ہیں۔ پس جب کوئی مؤمن اپنے رب سے سوال کرتا ہے تو آپ فرماتے ہیں ! روک لو، روک لو۔ اس کی دعا کو پسند کرتے ہوئے کہ وہ زیادہ مانگے۔ اور جب کوئی کافر سوال کرتا ہے۔ تو آپ فرماتے ہیں : اس کو دے دو ، اس کو دے دو ۔ اس کی دعا کو ناپسند کرتے ہوئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31878
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31878، ترقيم محمد عوامة 30508)
حدیث نمبر: 31879
٣١٨٧٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد (عن) (١) ثابت قال: كان أنس يقول: لقد تركت بعدي عجائز يكثرن أن يدعين اللَّه أن يوردهن حوض محمد ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت انس فرمایا کرتے تھے : البتہ تحقیق میں نے چھوڑیں اپنے بعد ایسی بوڑھی عورتیں جو کثرت کے ساتھ اللہ سے دعا مانگتیں تھیں کہ اللہ انہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوض پر وارد کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31879
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم ١/ ١٥٠، وابن أبي عاصم في السنة (٦٩٨)، والآجري في الشريعة (٨٣٨)، وابن المبارك في الزهد (١٦٠٩)، وأبو يعلى (٣٣٥٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31879، ترقيم محمد عوامة 30509)