کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے لیے جس کے گھر مہمان بن کر گئے یوں دعا فرمائی
حدیث نمبر: 31867
٣١٨٦٧ - حدثنا سليمان بن حرب قال: حدثنا شعبة بن الحجاج عن يزيد بن (خمير) (١) قال: سمعت عبد اللَّه بن (بسر) (٢) قال: (جاء رجل إلى النبي ﷺ) (٣) فنزل فأتاه بطعام سويق وحيس فأكل، (وأتاه) (٤) بشراب فشرب، (فناول) (٥) من عن يمينه، وكان إذا أكل تمرا ألقى النوى هكذا -وأشار (بأصبعيه) (٦) على ظهرهما، قال: فلما ركب النبي ﷺ قام أبي فأخذ بلجامه فقال: يا رسول اللَّه ادع لنا، فقال: "اللهم بارك لهم فيما رزقتهم، واغفر لهم، وارحمهم" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن بسر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہواپس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس چلے گئے۔ پس وہ کھانے میں ستو اور گھی لایا پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے تناول فرمایا : اور پھر وہ پانی لایا پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دائیں والے کو دے دیا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کھاتے تو اس کی گٹھلی یوں پھینکتے۔ اور آپ نے اپنی دونوں انگلیوں سے ان کی پشت پر اشارہ کر کے دکھایا۔ اور فرمایا : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہوگئے۔ تو میرے والد اٹھے اور آپ کے جانور کی لگام پکڑ لی پھر فرمایا : اے اللہ کے رسول ! اللہ سے ہمارے لیے دعا کیجیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا فرمائی ! اے اللہ ! جو تو نے ان کو رزق عطا فرمایا ہے اس میں برکت عطا فرما، اور ان کی مغفرت فرما، اور ان پر رحم فرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31867
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٠٤٢)، وأحمد (١٧٦٧٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31867، ترقيم محمد عوامة 30497)