کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: طواف کی دو رکعتوں میں یوں دعا کی جائے
حدیث نمبر: 31851
٣١٨٥١ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: حدثنا محمد بن سوقة عن نافع قال: كان ابن عمر إذا قدم حاجًا أو معتمرًا طاف بالبيت وصلى ركعتين، وكان جلوسه فيها أطول من قيامه ثناء على ربه ومسألة، فكان يقول: حين يفرغ من ركعتيه وبين ⦗٣٧٠⦘ الصفا والمروة: اللهم اعصمني بدينك وطاعتك وطاعة رسولك ﷺ، اللهم جنبني حدودك، اللهم اجعلني (ممن) (١) يحبك ويحب ملائكتك ورسلك وعبادك الصالحين، (اللهم حببني إليك وإلى ملائكتك ورسلك، اللهم آتني من خير ما تؤتي عبادك الصالحين) (٢) في الدنيا والآخرة، اللهم (يسرني لليسرى) (٣) وجنبني العسرى، واغفر لي في الآخرة والأولى، اللهم أوزعني أن أوفي بعهدك الذي عاهدتني عليه، اللهم (اجعلني) (٤) من أئمة المتقين واجعلني من ورثة جنة النعيم، واغفر لي (خطيئتي) (٥) يوم الدين (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرنے کے لیے تشریف لاتے تو بیت اللہ کا طواف کرتے اور دو رکعت نماز پڑھتے۔ اور ان دونوں رکعات میں آپ کا بیٹھنا آپ کے قیام سے زیادہ لمبا ہوتا، آپ اپنے رب کی ثنا کرتے اور دعا مانگتے۔ پس جب آپ دو رکعات سے فارغ ہوجاتے تو صفا اور مروہ کے درمیان یوں دعا فرماتے : اے اللہ ! تو اپنے دین کے ذریعہ اور اپنی اطاعت و فرمانبرداری اور اپنے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کے ذریعہ میری حفاظت فرما۔ اے اللہ ! تو مجھے اپنی حدود میں پڑنے سے بچا لے۔ اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے جن سے تو محبت کرتا ہے اور تیرے فرشتے اور تیرے رسول جن سے محبت کرتے ہیں اور تیرے نیک بندے بھی، اے اللہ ! تو مجھے اپنا محبوب بنا لے، اور اپنے فرشتوں اور اپنے رسولوں کی طرف محبوب کر دے، اے اللہ ! تو مجھے بھلائی عطا کر جو تو اپنے نیک بندوں کو دنیا اور آخرت میں عطا کرے گا۔ اے اللہ ! میرے لیے آسانی پیدا فرما۔ اور مجھے سختی سے بچا لے۔ اور دنیا اور آخرت میں میری مغفرت فرما، اے اللہ ! مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس وعدہ کو پورا کروں جو تو نے مجھ سے کیا، اے اللہ ! مجھے متقی پیشواؤں میں سے بنا دے، اور یوم حساب کو میری غلطیوں کی مغفرت فرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31851
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31851، ترقيم محمد عوامة 30481)