کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: آدمی کو یوں دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے پس اس طرح بچھو کا ڈسنا اس کو کچھ نقصان نہیں پہنچائے گا
حدیث نمبر: 31783
٣١٧٨٣ - حدثنا جرير بن عبد الحميد (عن عبد العزيز بن) (١) رفيع عن أبي صالح قال: لدغ رجل من الأنصار فلما أصبح أتى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه ما ⦗٣٤٧⦘ زلت البارحة ساهرًا من لدغة عقرب (فقال) (٢) النبي ﷺ: "أما إنك لو قلت حين أمسيت: أعوذ بكلمات اللَّه التامة من شر ما خلق، ما ضرك عقرب حتى تصبح" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی کو بچھو نے ڈنک مار دیا۔ جب صبح ہوئی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! میں ساری رات بچھو کے ڈسنے کی وجہ سے بیدار رہا ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تم شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لیتے ، میں پناہ لیتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ اس کی مخلوق کے شر سے، تو صبح ہونے تک بچھو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔ ابو صالح فرماتے ہیں ! پس میں نے یہ کلمات اپنے بیٹے اور بیٹی کو سکھا دیے، پھر ان دونوں کو بچھو نے ڈنک مارا۔ اور ان کو کچھ تکلیف بھی نہیں پہنچی۔
حدیث نمبر: 31784
٣١٧٨٤ - قال: أبو صالح (فعلمتها) (١) ابنتي وابني فلدغتهما فلم يضرهما شيء.
حدیث نمبر: 31785
٣١٧٨٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام بن حسان عن (سهيل) (١) ابن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قال: حين يمسي ثلاث مرات: أعوذ بكلمات اللَّه التامة من شر ما خلق، لم يضره لسعة تلك الليلة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص شام کے وقت تین مرتبہ یہ کلمات پڑھے : میں پناہ لیتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کی اس کی مخلوق کے شر سے، تو اس رات میں کسی چیز کا ڈسنا اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ حضرت سھیل فرماتے ہیں : کہ ان کلمات کا پڑھنا ان کے گھر والوں کی عادت بن گئی۔ پھر ایک عورت کو ڈنک لگا پس اس کو ذرہ برابر بھی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔
حدیث نمبر: 31786
٣١٧٨٦ - قال (سهيل) (١): فكان أهلها قد اعتادوا أن (يقولوها) (٢): فلسعت امرأة فلم تجد لها وجعا.
حدیث نمبر: 31787
٣١٧٨٧ - حدثنا (عبد الرحيم) (١) بن سليمان عن حجاج عن الزهري عن طارق ⦗٣٤٨⦘ ابن أبي (مخاشن) (٢) عن أبي هريرة قال: أتي رسول اللَّه ﷺ برجل قد لدغته عقرب فقال: أما إنه لو قال: "أعوذ بكلمات اللَّه التامة من شر ما خلق، لم يلدغ أو لم يضره" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا جس کو بچھو نے ڈس لیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بہرحال اگر وہ یہ کلمات پڑھ لیتا : میں پناہ لیتا ہوں اللہ کے مکمل کلمات کی اس کی مخلوق کے شر سے، تو اسے ڈنک نہ لگتا یا فرمایا : اس کو نقصان نہ پہنچتا۔
حدیث نمبر: 31788
٣١٧٨٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن مطرف عن المنهال بن عمرو عن محمد بن علي (١) قال: بينما رسول اللَّه ﷺ ذات ليلة يصلي فوضع يده على الأرض فلدغته عقرب فتناولها رسول اللَّه ﷺ بنعله فقتلها، فلما انصرف قال: "أخزى اللَّه العقرب، ما تدع مصليا ولا غيره (ولا) (٢) مؤمنا ولا غيره (٣) "، ثم دعا بملح وماء فجعله في إناء وجعل يصبه على إصبعه حيث لدغته ويمسحها ويعوذها بالمعوذتين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اس درمیان جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا تو بچھو نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈس لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جوتی پکڑی اور اس کو مار دیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا : اللہ بچھو کو رسوا کرے ! یہ کسی نمازی کو اور اس کے علاوہ کو نہیں چھوڑتا یا یوں فرمایا : کہ کسی مومن کو اور اس کے علاوہ کو نہیں چھوڑتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمک اور پانی منگوایا پھر نمک کو برتن میں ڈال دیا۔ اور اپنی انگلی سے ڈسنے والی جگہ لگاتے اور ملتے جاتے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معوذتین کے ذریعہ اس پر دم فرمایا۔
حدیث نمبر: 31789
٣١٧٨٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن القعقاع عن إبراهيم قال: رقية العقرب شجة (قرنية) (١) ملحة بحر قفطا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قعقاع فرماتے ہیں کہ ابراہیم فرماتے ہیں ! بچھو کے ڈنک سے بچنے کا تعویذ یوں ہے۔ شَجَّۃُ قَرْنِیَّۃٍ مَلِحَۃٍ بحر قفطا۔
حدیث نمبر: 31790
٣١٧٩٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن المغيرة عن إبراهيم عن الأسود قال: عرضتها على عائشة فقالت: هذه مواثيق (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت اسود نے ارشاد فرمایا : میں نے یہ کلمات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر پیش کیے تو آپ نے فرمایا : یہ عہد و اقرار کے الفاظ ہیں۔