کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو آدمی یوں دعا کرے
حدیث نمبر: 31756
٣١٧٥٦ - حدثنا حبيب بن حبيب عن أبي إسحاق عن الحكم قال: من سمع النادي ينادي بإقامة الصلاة فقال: اللهم رب هذه الدعوة التامة، والصلاة القائمة أعط محمدا سؤله يوم القيامة، إلا كان ممن يشفع له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت حکم نے ارشاد فرمایا : جو شخص منادی کی آواز سنے کہ وہ نماز کے کھڑے ہونے کی ندا لگا رہا ہے، تو یوں دعا کرے : اے اللہ ! پروردگار اس پوری پکار کے اور قائم ہونے والی نماز کے ۔ عطا فرما محمد کو ان کی درخواست قیامت کے دن۔ تو اس وجہ سے اس کی شفاعت کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31756
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31756، ترقيم محمد عوامة 30390)
حدیث نمبر: 31757
٣١٧٥٧ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي حمزة عن الحسن قال: إذا سمعت المؤذن قال: قد قامت الصلاة فقل: اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة أعط محمدا ﷺ سؤله يوم القيامة، لا يقولها رجل حين يقوم المؤذن إلا أدخله اللَّه (١) في شفاعة محمد ﷺ يوم القيامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حمزہ فرماتے ہیں کہ حسن نے ارشاد فرمایا : جب تو مؤذن کو یہ جملہ کہتے ہوئے سنے : تحقیق نماز کھڑی ہوگئی ۔ تو یوں دعا کر : اے اللہ ! پروردگار اس پوری پکار کے اور کھڑی ہونے والی نماز کے ، عطافرما قیامت کے دن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی درخواست۔ مؤذن کے کھڑے ہوتے وقت کوئی آدمی یہ دعا نہیں کرتا مگر یہ کہ اللہ اس آدمی کو قیامت کے دن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت میں داخل کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31757
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31757، ترقيم محمد عوامة 30391)
حدیث نمبر: 31758
٣١٧٥٨ - حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة أن عثمان كان إذا سمع المؤذن قال: قد قامت الصلاة، قال: مرحبًا بالقائلين عدلًا، وبالصلاة مرحبًا وأهلا، ثم ينهض إلى الصلاة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان جب مؤذن کو یہ کلمات پڑھتے ہوئے سنتے : تحقیق نماز کھڑی ہوگئی، تو ارشاد فرماتے : بہت خوب انصاف کی بات کرنے والو، اور خوش آمدید نماز۔ پھر نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31758
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31758، ترقيم محمد عوامة 30392)
حدیث نمبر: 31759
٣١٧٥٩ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عمن أخبره عن مجاهد أنه كان إذا قال المؤذن: حي على الصلاة، قال: المستعان باللَّه، فإذا قال: حي على الفلاح، قال: لا حول ولا قوة إلا باللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد جب مؤذن کے اس کلمہ کو سنتے : آؤ نماز کی طرف تو فرماتے ؛ اللہ کی مدد سے ، پس جب مؤذن کہتا ! آؤ کامیابی کی طرف تو کہتے : گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ کی مدد سے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31759
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31759، ترقيم محمد عوامة 30393)
حدیث نمبر: 31760
٣١٧٦٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم (بن) (١) (عبيد اللَّه) (٢) (عن عبيد اللَّه) (٣) (بن) (٤) عبد اللَّه بن الحارث عن أبيه أن النبي ﷺ كان يقول مثل ما يقول المؤذن، فإذا قال: حي على الصلاة حي على الفلاح قال: "لا حول ولا قوة إلا باللَّه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حارث فرماتے ہیں بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھتے تھے جیسا کہ مؤذن پڑھتا تھا۔ پس جب مؤذن کہتا : آؤ نماز کی طرف آؤ کامیابی کی طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں کہتے : گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کے کرنے کی قوت صرف اللہ کی مدد سے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31760
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عاصم بن عبيد اللَّه.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31760، ترقيم محمد عوامة 30394)