کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: آدمی جب نئے کپڑے پہنے تو اس دعا کے پڑھنے کا اسے حکم دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 31737
٣١٧٣٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا أصْبَغُ بن زيد حدثنا أبو العلاء عن أبي أمامة قال: لبس عمر بن الخطاب ثوبا جديدًا فقال: الحمد للَّه الذي كساني ⦗٣٣٢⦘ ما أواري (به) (١) عورتي، وأتجمل به في حياتي، [(ثم) (٢) قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من لبس ثوبًا جديدًا فقال: الحمد للَّه الذي كساني ما أواري به عورتي، وأتجمل به في حياتي] (٣)، ثم عمد إلى الثوب الذي (أُخلق) (٤) -أو قال- ألقى، فتصدق به كان في كنف اللَّه وفي حفظ اللَّه وفي ستر اللَّه حيا وميتا قالها ثلاثًا" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے نیا کپڑا پہنا تو یہ دعا پڑھی : شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے وہ کپڑے پہنائے جس سے میں اپنا ستر ڈھانکتا ہوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کرتا ہوں۔ پھر فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص نیا کپڑا پہن کر یہ دعا پڑھے : شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے وہ کپڑے پہنائے جن سے میں اپنا ستر ڈھانکتا ہوں ، اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کرتا ہوں۔ اور پھر وہ پرانے کپڑوں کو جس کو اس نے پھاڑ دیا تھا یا فرمایا؛ جسے رکھ دیا صدقہ کر دے تو وہ زندگی میں اور مرنے کے بعد خدا کی حفاظت میں اور حمایت میں اور خدا کے چھپانے میں رہے گا۔ آپ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
حدیث نمبر: 31738
٣١٧٣٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن أبي ليلى عن أخيه عيسى عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا لبس أحدكم ثوبًا جديدًا فليقل: الحمد للَّه الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في الناس" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی ایک نیا کپڑا پہنے تو اسے چاہیے کہ یوں دعا کرے : شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے وہ کپڑے پہنائے جن کو پہن کر میں اپنا ستر ڈھانپتا ہوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 31739
٣١٧٣٩ - حدثنا ابن إدريس عن أبي الأشهب عن رجل من مرينة أن رسول اللَّه ﷺ رأى على عمر ثوبا غسيلًا (فقال: جديد ثوبك هذا؟ قال: غسيل) (١) يا رسول اللَّه، قال: فقال (٢) رسول اللَّه ﷺ: "ألبس جديدًا، وعش حميدًا، وتوف شهيدًا، يعطك اللَّه قرة عين في الدنيا والآخرة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی نقل کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو دھلا ہوا کپڑا پہنے ہوئے دیکھا، تو ارشاد فرمایا : کیا تمہارے یہ کپڑے نئے ہیں ؟ حضرت عمر نے فرمایا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دھلے ہوئے ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نیا کپڑا پہنو، اور شکر کرتے ہوئے زندگی گزارو، اور شہید ہو کر وفات پاؤ، اللہ ت میں دنیا اور آخرت میں آنکھ کی ٹھنڈک نصیب کرے۔
حدیث نمبر: 31740
٣١٧٤٠ - حدثنا حسين بن علي عن أبي وهب عن منصور عن سالم بن أبي الجعد قال: (إذا لبس) (١) الإنسان الثوب الجديد فقال: اللهم اجعلها ثيابًا مباركة نشكر فيها نعمتك، ونحسن فيها عبادتك، ونعمل فيها بطاعتك، لم يجاوز ترقوته حتى يغفر له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت سالم بن ابی الجعد نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص نیا کپڑا پہن کر یوں دعا پڑھے : اے اللہ ! تو ان کپڑوں کو بابرکت بنا دے۔ جن کو پہن کر میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کروں ۔ میں جن میں تیرے بندوں کے ساتھ اچھا سلوک کروں۔ میں جن کو پہن کر تیری فرمانبرداری میں عمل کروں۔ یہ دعا ابھی اس کے حلق میں بھی نہیں پہنچتی کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 31741
٣١٧٤١ - حدثنا محمد بن بشر (١) حدثنا مسعر قال: حدثنا عون بن عبد اللَّه قال: لبس رجل ثوبًا جديدًا فحمد اللَّه، فأُدخل الجنة أو غفر له (٢) فقال له رجل: (لا أرجع) (٣) إلى أهلي حتى ألبس ثوبًا جديدًا (وأحمد) (٤) اللَّه عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ حضرت عون بن عبد اللہ نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی نیا کپڑا پہن کر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے تو اسے جنت میں داخل کردیا جائے گا یا یوں فرمایا : اس کی مغفرت کردی جائے گی، تو ایک آدمی نے ان کو کہا : میں اپنے گھر والوں کی طرف نہیں لوٹوں گا یہاں تک کہ میں نیا کپڑا پہنوں گا اور اس پر اللہ کا شکر ادا کروں گا۔
حدیث نمبر: 31742
٣١٧٤٢ - حدثنا إسماعيل بن علية عن الجريري عن أبي نضرة قال: كان أصحاب النبي ﷺ إذا رأوا على أحدهم الثوب الجديد قالوا: تبلي ويخلف اللَّه (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ جب کسی کو نیا کپڑا پہنا ہوا دیکھتے تو یوں دعا دیتے ، پہنو اور پھاڑو، خدا تمہیں اور دے۔
حدیث نمبر: 31743
٣١٧٤٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا الجريري عن أبي نضرة (١) قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا لبس ثوبًا جديدًا سماه باسمه إن كان قميصا أو إزارا أو عمامة يقول: اللهم لك الحمد أنت كسوتني هذا، أسألك من خيره وخير ما صنع له، ⦗٣٣٤⦘ وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابونضرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام لیتے اگر قمیص ہو یا تہبند ہو یا عمامہ ہو تو یوں دعا پڑھتے : اے اللہ ! تیرے لیے ہی شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ کپڑاپہنایا میں تجھ سے اس کی خیر کا اور جس کے لیے بنایا گیا ہے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں۔ میں تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے اور جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے۔