کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: آدمی جب نیا چاند دیکھے تو یوں دعا کرے
حدیث نمبر: 31728
٣١٧٢٨ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا عبد العزيز بن عمر قال: حدثني من لا أتهم (١) عن عبادة بن الصامت قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا رأى الهلال قال: "اللَّه أكبر اللَّه أكبر، الحمد للَّه لا حول ولا قوة إلا باللَّه، اللهم إني أسألك خير هذا الشهر، وأعوذ بك من شر القدر، وأعوذ بك من شر يوم الحشر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن الصامت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو یوں دعا فرماتے : اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ کی مدد سے ہے، اے اللہ ! میں آپ سے اس مہینہ کی بھلائی مانگتا ہوں۔ اور میں تقدیر کے شر سے آپ کی پناہ لیتا ہوں۔ اور حشر کے دن کے شر سے میں آپ کی پناہ لیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31728
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31728، ترقيم محمد عوامة 30363)
حدیث نمبر: 31729
٣١٧٢٩ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن عبد الرحمن بن حرملة قال: انصرفت مع سعيد بن المسيب فقلنا: هذا الهلال يا أبا محمد، فلما أبصره قال: آمنت بالذي خلقك فسواك فعدلك، ثم التفت إلي فقال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا (رأى) (١) الهلال قال هكذا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن حرملہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن المسیب کے ساتھ واپس لوٹ رہا تھا تو ہم نے کہا : اے ابو محمد ! یہ نیا چاند ہے، پس جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا : میں ایمان لایا اس ذات پر جس نے تجھے پیدا کیا پس تجھے برابر اور تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو اس طرح دعا فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31729
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي، أخرجه أبو داود في المراسيل (٥٢٦)، وعبد الرزاق (٧٣٥١)، وورد من طريق عبد الرحمن بن حرملة عن أنس، أخرجه الطبراني في الأوسط (٣١١)، وابن عدي ٣/ ٢٢٠، وابن السني في عمل اليوم والليلة (٦٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31729، ترقيم محمد عوامة 30364)
حدیث نمبر: 31730
٣١٧٣٠ - حدثنا وكيع حدثنا زكريا عن أبي إسحاق عن (عبيد) (١) عن علي ﵁ قال: إذا رأى أحدكم الهلال فلا يرفع به رأسا (ما) (٢) يكفي أحدكم أن يقول: ربي وربك اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی ایک نیا چاند دیکھے تو اس کی طرف سر مت اٹھائے۔ تم میں سے ہر ایک کے لیے کافی ہے کہ وہ یوں کہہ لے۔ میرا رب اور تیرا رب اللہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31730
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31730، ترقيم محمد عوامة 30365)
حدیث نمبر: 31731
٣١٧٣١ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق (١) أن عليًا كان يقول إذا رأى (الهلال) (٢): اللهم ارزقنا (٣) خيره ونصره وبركته ونوره، ونعوذ بك من شره وشر ما بعده (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب نیا چاند دیکھتے تو یوں فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! ہمیں عطا فرما اس کی بھلائی، اور اس کی مدد، اور اس کی برکت، اور اس کی فتح اور اس کا نور، اور ہم تیری پناہ لیتے ہیں اس کے شر سے اور اس چیز کے شر سے جو اس کے بعد ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31731
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31731، ترقيم محمد عوامة 30366)
حدیث نمبر: 31732
٣١٧٣٢ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: حدثنا حجاج بن دينار عن منصور عن مجاهد عن ابن عباس أنه كره أن (ينتصب) (١) للهلال ولكن يعترض فيقول: اللَّه أكبر الحمد للَّه الذي (أذهب هلال) (٢) كذا وكذا (وجاء بهلال كذا وكذا) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما مکروہ سمجھتے تھے کہ خاص طور پر نیا چاند دیکھنے کے لیے کھڑا ہوا جائے۔ اور لیکن جب وہ سامنے نظر آجاتا تو یہ کلمات پڑھتے : اللہ سب سے بڑا ہے، سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو چاند کو اس طرح اور اس طرح لے گیا۔ اور اس طرح اور اس طرح چاند کو لے آیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31732
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31732، ترقيم محمد عوامة 30367)
حدیث نمبر: 31733
٣١٧٣٣ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سعيد عن قتادة أن نبي اللَّه ﷺ كان إذا رأى الهلال قال: "هلال خير ورشد، هلال رشد وخير، هلال خير ورشد، آمنت بالذي خلقك -ثلاثًا، الحمد للَّه (الذي) (١) (ذهب بهلال) (٢) كذا وكذا وجاء ⦗٣٣١⦘ (بهلال) (٣) كذا وكذا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو تین مرتبہ یوں کہتے : بھلائی اور ہدایت کا چاند ہے، ہدایت اور بھلائی کا چاند ہے، اور بھلائی اور ہدایت کا چاند ہے ۔ میں ایمان لایا اس ذات پر جس نے تجھے پیدا کیا۔ پھر یہ پڑھتے سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو چاند کو اس طرح اور اس طرح لے گیا۔ اور چاند کو اس طرح اور اس طرح لے آیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31733
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ قتادة تابعي، أخرجه أبو داود (٥٠٩٢)، وعبد الرزاق (٧٣٥٣)، والبيهقي في الدعوات (٤٦٦)، وورد من حديث قتادة عن أنس مرفوعًا بسند ضعيف جدًا عند الطبراني في الدعاء (٩٠٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31733، ترقيم محمد عوامة 30368)
حدیث نمبر: 31734
٣١٧٣٤ - حدثنا حسين بن علي قال: سألت هشام بن حسان: أي شيء (كان الحسن) (١) (يقول) (٢) إذا رأى الهلال؟ قال: كان يقول: اللهم اجعله شهر بركة ونور وأجر ومعافاة، اللهم إنك قاسم بين عباد من عبادك فيه خيرا فاقسم لنا فيه من خير ما تقسم لعبادك الصالحين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ہشام بن حسان سے پوچھا : جب حضرت حسن نیا چاند دیکھتے تو کون سی دعا پڑھتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : وہ یہ دعا پڑھتے تھے ! اے اللہ ! اس مہینہ کو برکت اور نور کا مہینہ بنا دے اور اجر اور معافی کا مہینہ بنا دے ۔ اے اللہ تو اپنے بندوں کے درمیان بھلائی کو تقسیم فرمانے والا ہے، پس تو ہمارے درمیان بھی اس خیر میں سے تقسیم فرما دے، جو تو نے اپنے نیک بندوں کے درمیان تقسیم فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31734
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31734، ترقيم محمد عوامة 30369)
حدیث نمبر: 31735
٣١٧٣٥ - حدثنا حسين بن علي قال: سألت ابن جريج فذكر عن عطاء أن رجلا أهلَّ هلالا بفلاة من الأرض قال: فسمع قائلًا يقول: اللهم أهله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة والإسلام، والهدى والغفرة والتوفيق لما ترضى، والحفظ مما تسخط، ربي وربك اللَّه، قال: فلم (يتمهن) (١) حتى حفظتهن ولم أر أحدا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن جریج سے سوال کیا (نئے چاند کے متعلق) تو انہوں نے حضرت عطاء کے حوالہ سے نقل کیا : کہ بیشک ایک آدمی نے بنجر زمین میں نیا چاند دیکھا۔ اس نے بیان کیا کہ میں نے کسی کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا : اے اللہ ! تو اس چاند کو ہم پر امن اور ایمان کے ساتھ، اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ، اور ہدایت اور مغفرت کے ساتھ، اور ہر اس عمل کی توفیق کے ساتھ نکال جو تجھے پسند ہو، اور ہر اس عمل سے حفاظت کے ساتھ نکال جس سے تو ناراض ہوتا ہو۔ اے چاند تیرا اور میرا دونوں کا پروردگار اللہ ہے۔ وہ آدمی کہتا ہے : وہ مسلسل یہ کلمات پڑھتا رہا یہاں تک کہ میں نے ان کو یاد کرلیا : اور میں نے کسی کو بھی وہاں نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31735
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31735، ترقيم محمد عوامة 30370)
حدیث نمبر: 31736
٣١٧٣٦ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان يعجبهم إذا رأى الرجل الهلال أن يقول: ربي وربك اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم پسند کرتے تھے کہ جب کوئی آدمی نیا چاند دیکھے تو یہ کلمات پڑھے : اے چاند تیرا اور میرا پروردگار اللہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31736
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31736، ترقيم محمد عوامة 30371)