کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جب شیطان جن دکھائی دے تو آدمی یوں دعا کرے
حدیث نمبر: 31725
٣١٧٢٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام بن حسان عن الحسن عن جابر بن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا تغولت (لكم) (١) الغيلان (فنادوا) (٢) بالأذان" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب شیاطین جن تمہیں راستہ بھٹکا دیں۔ پس تم بلند آواز سے اذان دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31725
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31725، ترقيم محمد عوامة 30360)
حدیث نمبر: 31726
٣١٧٢٦ - حدثنا ابن فضيل عن الشيباني عن (يسير) (١) بن عمرو قال: ذكرت الغيلان عند (عمر) (٢) ﵀ فقال: إنه ليس من شيء يستطيع (أن) (٣) (يتغير) (٤) ⦗٣٢٨⦘ عن خلق اللَّه (الذي) (٥) خلقه، ولكن لهم سحرة كسحرتكم، فإذا رأيتم من ذلك شيئا فأذنوا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یسیر بن عمرو فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کے پاس غیلان جن کا ذکر کیا جو شکل تبدیل کر کے لوگوں کو راستہ سے بھٹکا دیتے ہیں۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا : بیشک کسی چیز میں اتیش استطاعت نہیں کہ وہ اللہ کی تخلیق کو جیسے اللہ نے پیدا کی تھی بد ل دے۔ لیکن یہ دھوکہ دہی تمہاری دھوکہ دہی کی طرح ہے۔ جب تم ایسی کوئی چیز دیکھو تو اذان دے دیا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31726
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31726، ترقيم محمد عوامة 30361)
حدیث نمبر: 31727
٣١٧٢٧ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي (عن سفيان) (١) عن ابن أبي ليلى عن أخيه (٢) عيسى بن عبد الرحمن عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبي أيوب أنه كان في سهوة (له) (٣) فكانت الغول تجيء، فشكاها إلى النبي ﷺ فقال: " (إذا رأيتها فقل) (٤): بسم اللَّه أجيبي رسول اللَّه ﷺ" قال: فجاءته فقال لها فأخذها، فقالت له: إني لا أعود فأرسلها فجاء فقال له النبي ﷺ: "ما فعل أسيرك؟ " فقال: أخذتها، فقالت: إني لا أعود (فأرسلتها) (٥)، (فقال) (٦): إنها عائدة فأخذها مرتين أو ثلاثًا كل ذلك تقول لا أعود، ويجيء إلى النبي ﷺ فيقول: "ما فعل أسيرك؟ " فيقول: أخذتها، فتقول: لا أعود فيقول: إنها عائدة، فأخذتها، فقالت: أرسلني وأعلمك شيئًا تقوله لا يقربك شيء آية الكرسي، فأتى النبي ﷺ فأخبره فقال: "صدقت، وهي كذوب" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایوب فرماتے ہیں کہ میں چبوترے میں ہوتا تو ایک شکل بدلنے والا جن میرے پاس آتا تھا، پس میں نے اس بات کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تو اس کو دیکھے تو یوں کہہ : اللہ کے نام کے ساتھ : تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دو ۔ آپ فرماتے ہیں : جب وہ آیا۔ پس میں نے یہ کلمات کہے اور اس کو پکڑ لیا۔ تو وہ مجھے کہنے لگا : یقینا میں دوبارہ نہیں آؤں گا ۔ تو میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : تمہارے قیدی کا کیا بنا ؟ تو آپ نے عرض کیا : میں نے اس کو پکڑا ۔ تو وہ کہنے لگا : میں دوبارہ نہیں آؤں گا۔ پھر میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک وہ دوبارہ واپس آئے گا۔ آپ فرماتے ہیں : میں نے اس کو دو یا تین مرتبہ پکڑا۔ وہ ہر مرتبہ کہتا : میں دوبارہ نہیں آؤں گا۔ اور آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاتے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے : تمہارے قیدی کا کیا بنا ؟ تو آپ فرماتے : میں نے اس کو پکڑا تو وہ کہنے لگا : میں دوبارہ نہیں آؤں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے : بیشک وہ دوبارہ آئے گا۔ آپ نے فرماتے ہیں ! پھر میں نے اس کو پکڑا تو وہ کہنے لگا : تم مجھے چھوڑ دو اور میں تمہیں ایسی چیز سکھاؤں گا جب تم اسے پڑھو گے تو کوئی چیز بھی تمہارے قریب نہیں آئے گی، وہ آیت الکرسی ہے۔ پس آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے سچ بات کی حالانکہ ہے وہ جھوٹا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31727
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ابن أبي ليلى، أخرجه أحمد (٢٣٦٤٠)، والترمذي (٢٨٨٠)، والحاكم ٣/ ٤٥٩، والطبراني (٤٠١١)، والطحاوي في شرح المشكل ٢/ ٢٥٦، وأبو الشيخ في العظمة (١٣١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31727، ترقيم محمد عوامة 30362)