کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو شخص مال میں بخل کرتا ہے یا دشمن سے ڈرتا ہے اور رات کو قیام کرنے سے عاجز ہے تو وہ یوں دعا کرے
حدیث نمبر: 31708
٣١٧٠٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن زبيد عن (مرة) (١) قال: قال عبد اللَّه: من جبن منكم عن العدو أن يجاهده، والليل أن يكابده، وضن بالمال أن ينفقه فليكثر من: سبحان اللَّه، والحمد للَّه، ولا إله إلا اللَّه، واللَّه أكبر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرّہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے جو شخص عاجز ہو دشمن سے جہاد کرنے سے اور رات کو مشقت برداشت کرنے سے اور بخل کی وجہ سے مال بھی خرچ نہ کرسکتا ہو تو وہ کثرت سے ان کلمات کا ورد کرے ، اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور سب تعریف اللہ کے لیے ہیں، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے۔
حدیث نمبر: 31709
٣١٧٠٩ - حدثنا شبابة عن شعبة عن أبي التياح عن (مورق) (١) العجلي عن عبيد ابن عمير قال: إن عجزتم عن الليل أن تكابدوه وعن العدو أن تجاهدوه وعن المال أن تنفقوه، فأكثروا من سبحان اللَّه والحمد للَّه ولا إله إلا اللَّه واللَّه أكبر، (فإنهن) (٢) أحب إلي من جبلي ذهب وفضة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مورّق عجلی فرماتے ہیں کہ حضرت عبید بن عمیر نے ارشاد فرمایا : اگر تم لوگ عاجز ہو راتوں کو مشقت برداشت کرنے سے اور دشمن سے جہاد کرنے سے، اور مال کے خرچ کرنے سے تو کثرت کے ساتھ ان کلمات کا ورد کرو : اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے، پس یہ کلمات میرے نزدیک سونے اور چاندی کے پہاڑ سے بھی زیادہ پسندیدہ ہیں۔
حدیث نمبر: 31710
٣١٧١٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن العوام أنه سمع إبراهيم التيمي يقول: إذا قال: الحمد للَّه وسبحان اللَّه، قالت الملائكة: وبحمده، فإذا قال: سبحان اللَّه وبحمده، قالت الملائكة: رحمك اللَّه، فإذا قال: اللَّه أكبر، قالت الملائكة: كبيرا، فإذا قال: اللَّه أكبر كبيرًا، قالت الملائكة: يرحمك اللَّه، فإذا قال: الحمد للَّه، قالت الملائكة: رب العالمين، وإذا قال: رب العالمين، قالت الملائكة: رحمك اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوام فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم التیمی کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب بندہ کہتا ہے ! سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ تمام عیوب سے پاک ہے۔ تو فرشتے کہتے ہیں : اور اس کی تعریف کے ساتھ۔ پس جب بندہ کہتا ہے۔ اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے، تو فرشتے کہتے ہیں : اللہ تجھ پر رحم فرمائے : پس جب بندہ کہتا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے ، تو فرشتے کہتے ہیں : بہت بڑا، پس جب بندہ کہتا ہے : اللہ سب بڑوں سے بڑا ہے۔ تو فرشتے کہتے ہیں : اللہ تجھ پر رحم فرمائے۔ پھر جب بندہ کہتا ہے : سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، تو فرشتے کہتے ہیں : تمام جہانوں کا پالنے والا بھی۔ اور جب بندہ یوں کہتا ہے ، تمام جہانوں کا پالنے والا بھی تو فرشتے کہتے ہیں اللہ تجھ پر رحم فرمائے۔
حدیث نمبر: 31711
٣١٧١١ - حدثنا حسين بن علي الجعفي عن إسرائيل عن زياد (١) (المصغر) (٢) عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ لأبي بكر: "ألا أدلك على صدقة تملأ ما بين السماء والأرض: سبحان اللَّه، والحمد للَّه، ولا إله إلا اللَّه، واللَّه أكبر، ولا حول ولا قوة إلا باللَّه، في يوم ثلاثين مرة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے ارشاد فرمایا : کیا میں ایسے صدقہ کی طرف تمہاری راہنمائی نہ فرماؤں جو آسمان اور زمین کو ثواب سے بھر دیتا ہے ؟ اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے، گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ کی مدد سے ہے۔ دن میں تیس مرتبہ ان کلمات کا پڑھنا آسمان اور زمین کو ثواب سے بھر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 31712
٣١٧١٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن عبد الجليل عن خالد بن أبي عمران قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "خذوا جُنَتكم" قالوا: يا رسول اللَّه من عدو حضر؟ قال: "لا، بل من النار"، قلنا ما جُنَتنا من النار؟ قال: "سبحان اللَّه، والحمد للَّه، ولا إله إلا اللَّه، واللَّه أكبر، (ولا حول ولا قوة إلا باللَّه) (١)، فإنهن يأتين يوم القيامة مقدمات ومعقبات ومجنبات وهن الباقيات الصالحات" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابی عمران فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی ڈھالیں پکڑ لو۔ صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کس موجود دشمن کے مقابلہ میں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں بلکہ جہنم سے بچنے کے لیے۔ ہم نے عرض کیا : جہنم سے بچانے والی ڈھال کون سی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ کی مدد سے ہے۔ پس یہ کلمات آئیں گے قیامت کے دن آگے ہوں گے اور پیچھے ہوں گے اور بچانے والے ہوں گے۔ پس یہ کلمات باقی رہنے والے اور اچھے ہیں۔ ( اور وہ باقیات اور صالحات ہیں)
حدیث نمبر: 31713
٣١٧١٣ - حدثنا ابن فضيل عن (وقاء) (١) عن سعيد بن جبير قال: رأى عمر بن ⦗٣٢٣⦘ الخطاب إنسانا يسبح بتسابيح (معه) (٢) فقال عمر ﵀: إنما يجزيه من ذلك أن يقول: سبحان اللَّه ملء السماوات (وملء) (٣) الأرض، (وملء) (٤) ما شاء من شيء بعد، ويقول: (الحمد للَّه ملء السموات وملء الأرض وملء ما شاء من شيء بعد، ويقول) (٥): اللَّه أكبر ملأ السماوات وملء الأرض و (ملء) (٦) ما شاء من شيء بعد (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک شخص کو جو مختلف تسبیحات کر رہا تھا۔ تو حضرت عمر نے فرمایا : اللہ اس پر رحم فرمائے۔ بیشک اس کے لیے کافی ہے کہ یوں کہے؛ اللہ پاک ہے آسمانوں اور زمین اور اس کے بعد جسے وہ چاہے اس کے بھرنے کی مقدار کے بقدر۔ اور یوں کہے : سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، آسمانوں اور زمین اور اس کے بعد جسے وہ چاہے اس کے بھرنے کی مقدار کے بقدر۔ اور یوں کہے ! اللہ سب سے بڑا ہے آسمانوں اور زمین، اور اس کے بعد جسے وہ چاہے اس کے بھرنے کی مقدار کے بقدر۔
حدیث نمبر: 31714
٣١٧١٤ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن عبد الملك بن ميسرة قال: اجتمع ابن مسعود وعبد اللَّه بن عمرو (فقال) (١) ابن مسعود: لأن أقول إذا خرجت (حتى) (٢) أبلغ حاجتي: سبحان اللَّه والحمد للَّه ولا إله إلا اللَّه واللَّه أكبر، أحب إلي من أن أحمل على (عددهن) (٣) من الجياد في سبيل اللَّه، وقال عبد اللَّه بن عمرو: لأن أقولهن أحب إلي من أن أنفق عددهن دنانير في سبيل اللَّه ﷿ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن میسرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں ان کلمات کو پڑھتا ہوں جب بھی کبھی نکلتا ہوں یہاں تک کہ اپنی منزل پر پہنچ جاؤں۔ اللہ تمام عیوب سے پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ میرے نزدیک یہ کلمات زیادہ پسندیدہ ہیں اللہ کے راستہ میں جہاد کے لیے ان کی تعداد کے بقدر گھوڑوں اور سوار ہونے سے اور حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میرے نزدیک ان کلمات کا پڑھنا اللہ کے راستہ میں ان کی تعداد کے بقدر دینار خرچ کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔